امور خانہ داری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

امور خانہ داری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

گھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں اور آپﷺ کی تمام ضروریات زندگی کا مکمل لحاظ رکھتیں۔ یہاں تک کہ وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک دھوتیں، زلفیں سنوارتیں، (الترجیل: بال صاف کرنا، ان میں کنگھی کرنا اور سنوارنا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر: جلد 3 صفحہ 203)

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف بیٹھتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مخصوص ایام میں ہوتیں، تب بھی وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں کنگھی کرتیں۔ وہ بیان کرتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف بیٹھ جاتے تو اپنا سر میرے قریب کرتے تو میں آپﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتی۔‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قضائے حاجت وغیرہ کے لیے ہی گھر تشریف لاتے۔

ایک روایت میں ہے: ’’وہ حالت حیض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسو سنوارتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ان کے قریب کر دیتے۔‘‘

(سنن ابی داؤد: 52۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد، حدیث: 52 کے تحت اس کی سند کو حسن کہا ہے)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر خوشبو ملتیں  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج و عمرہ کا ارادہ کرتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسک سے فارغ ہو جاتے۔ وہ کہتی ہیں :

’’میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر اپنے ہاتھ سے ذریرہ (الذریرۃ: ایک خاص قسم کی خوشبو۔ (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 118) )نامی خوشبو لگائی، جب آپﷺ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور جب (ادائے مناسک کے بعد) احرام کھولا۔‘‘

(صحیح بخاری: 5930۔ صحیح مسلم: 1189۔

ایک د وسری روایت میں ہے کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگائی جب آپﷺ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: 5928۔ صحیح مسلم: 1189 متن کے الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روز مرہ کے گھریلو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹاتی۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے پٹے (القلادۃ: جو جانوروں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں  (غریب الحدیث للہروی: جلد 2 صفحہ 892۔ لسان العرب: جلد 11 صفحہ 514 بناتی تھیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 1703۔ صحیح مسلم : 1321) 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود تکلیف برداشت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا خیال رکھتی تھیں۔ اس کی عمدہ مثال خیبر سے واپسی کے دوران اس رات کی ہے جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا تھا۔ لشکر والے ان کا ہار تلاش کرنے کی وجہ سے بروقت کوچ نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ران پر سر رکھ کر سو گئے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حقیقت کا علم ہوا تو وہ آئے اور سیدہ کے پہلو میں لاٹھی چبھو کر انھیں ڈانٹنے لگے۔ لیکن انھوں نے اپنی جگہ سے اس لیے حرکت نہ کی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل واقع نہ ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے:

’’ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسفر تھے۔ جب ہم بیداء یا ذات الجیش ( البیداء و ذات الجیش: مدینہ منورہ اور خیبر کے درمیان دو مقامات ہیں۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 4 صفحہ 59) نامی مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ہار کو تلاش کرنے کے لیے رک گئے۔ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رک گئے، مگر وہاں پانی نہیں تھا۔ چنانچہ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور شکایت کی کہ کیا آپؓ دیکھتے نہیں کہ عائشہ نے کیا کیا؟ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہرا لیا ہے، جب کہ وہ پانی کے پاس بھی نہیں، اور ان کے پاس اپنا پانی بھی نہیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھ کر سو رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو روک دیا ہے، حالانکہ یہاں پانی نہیں اور نہ ان کے پاس اپنا پانی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بقول ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خوب ڈانٹا اور جو کچھ اللہ نے چاہا انھو ں نے کہہ دیا۔ وہ میرے پہلو میں کچوکے لگا رہے تھے۔ میں نے اس لیے حرکت نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو پانی بالکل نہیں تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی۔ سب لوگوں نے تیمم کیا تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ( یہ اسید بن حضیر ابو یحییٰ الانصاری، الاشہلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اسلام لانے والے سابقین میں سے ہیں، یہ عقبہ کی رات میں ایک نقیب تھے۔ غزوۂ احد کے دن کفار کی یلغار کے وقت یہ بھی ثابت قدم رہنے والوں میں سے تھے۔ یہ صاحب فہم و عقل ورائے تھے۔ 20 ھ یا 21ھ میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 30۔ الإصابۃ: جلد 1 صفحہ 83)نے کہا: 

’’اے آل ابی بکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔‘‘

بقول راوی: ہم نے اونٹ اٹھایا جس پر میں تھی تو ہمیں اس کے نیچے ہار پڑا ہوا مل گیا۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 334۔ صحیح مسلم: 367)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کو دم کرتی تھیں۔ چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں :

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال سے کوئی بیمار ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم معوذات پڑھ کر اسے دم کرتے۔ تو جب آپﷺ مرض الموت میں بیمار ہوئے تو میں آپﷺ کو دم کرتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی، کیونکہ آپﷺ کے ہاتھ میں بنسبت میرے ہاتھ کے برکت بہت زیادہ تھی۔‘‘

(صحیح بخاری: 4439۔ صحیح مسلم: 2192)

صفحہ 1 از 2