امور خانہ داری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

امور خانہ داری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت بہت پسند تھی، وہ اپنی باری کے دن میں کسی اور پر ہرگز ایثار نہ کرتیں۔ چنانچہ معاذہ (یہ معاذہ بنت عبداللہ العدویہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی کنیت ام الصہباء البصریہ تھی۔ شریف اور عالم خاتون تھیں، اپنی قوم کے سردار صلہ بن اشیم ضبابی کی بیوی تھیں، نہایت عابدہ و زاہدہ تھیں۔ کہتے ہیں اپنے خاوند کی وفات کے بعد اپنی وفات تک یہ بستر پر نہ سوئیں۔ 83ھ میں فوت ہوئیں۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 508)  رحمہا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے:

’’ہم میں سے جس بیوی کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ہوتی تو آپﷺ اس سے اجازت لیتے۔ جب یہ نازل ہوئی:

تُرۡجِىۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُــئْوِىۡۤ اِلَيۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَمَنِ ابۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَ ۞(سورۃ الأحزاب آیت 51)

ترجمہ: ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ 

بقول راویہ:میں نے ان سے پوچھا: تو آپ کیا کہتی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں آپﷺ سے کہتی: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے یہ اختیار ہوتا تو میں آپﷺ کے بارے میں کسی اور کے لیے ہر گز ایثار نہیں کروں گی۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 4789۔ صحیح مسلم: 1472)

امام نووی رحمہ اللہ ( یہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف بن مری دمشقی ہیں، شیخ الاسلام ان کا لقب ہے، یہ شافعی المذہب تھے۔ 631ھ میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے نہایت زاہد، عابد، صاحب ورع اور سادہ زندگی بسر کرنے والے تھے۔ ان کی مشہور تصنیفات : شرح صحیح مسلم، المجموع شرح المہذب اور روضۃ الطالبین ہیں۔ انھوں نے 676ھ میں وفات پائی۔ (الطبقات الشافعیہ للسبکی: جلد 8 صفحہ 395۔ المنہاج السوی للسیوطی) کہتے ہیں :

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس قدر قربت کی خواہش محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تمتع اور عیش و عشرت کے لیے نہیں تھی اور نہ ہی نفسانی شہوات اور اس کی لذتیں مقصود تھیں جو کہ عموماً لوگوں میں ہوتی ہیں بلکہ یہ مسابقت اخروی معاملات کی وجہ سے اور سید الاولین والآخرین کی قربت کی تمنا، آپﷺ کے ساتھ اس قدر محبت و شیفتگی، آپﷺ کی خدمت، آپﷺ کے ساتھ حسن معاشرت، اور آپﷺ کے ذریعے سے دینی فائدے کے لیے ہوتی تھی۔ نیز آپﷺ کے حقوق کی ادائیگی، آپﷺ کی ضروریات کی تکمیل اور آپﷺ کی موجودگی میں نزول رحمت و وحی کی امید کی وجہ سے تھی وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 10 صفحہ 79)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات کی کثرت سے بجا آوری کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رمضان کے روزوں کی قضاء آئندہ سال شعبان تک مؤخر کر دیتیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے:

’’مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشغولیت ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصروفیت روزے رکھنے میں ان کو مانع تھی۔ شرح مسلم: جلد 8 صفحہ 22) اور ان کی خدمت کی بجا آوری کی وجہ سے شعبان سے پہلے وہ روزے نہ رکھ سکتی۔‘‘

(صحیح بخاری: 1950۔ صحیح مسلم: 1146)

اور ایک روایت میں ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شعبان تک وہ ان کی قضا نہیں دے سکتی تھیں۔‘‘

(صحیح مسلم: 1146)

امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

’’مشغولیت سے ان کی مراد یہ تھی جو انھوں نے دوسری حدیث میں واضح کر دی ہے کہ ’’ وہ روزوں کی قضاء پوری کرنے پر قادر نہ ہوتیں۔‘‘

اُمہات المؤمنین میں سے یہ ایک اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار رکھتی تھیں اور ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفید ہونا چاہتی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی معلوم نہ تھا کہ کب اسے بلا لیں، اسی لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ رکھنے کی اجازت نہیں مانگتی تھیں کہ مبادا آپﷺ اجازت دے دیں جب کہ آپﷺ کو میری ضرورت ہو۔ اس طرح میں اپنی خوش نصیبی سے محروم ہو جاؤں۔

وہ شعبان میں اس لیے روزے پورے کر لیتیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دن کے اوقات میں اپنی بیویوں کی حاجت نہ ہوتی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ جب ماہ شعبان آجاتا تو اس کے بعد تو رمضان کی قضا کے لیے کوئی وقت نہ بچتا۔ اس لیے مزید تاخیر کی گنجائش نہ تھی۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 8 صفحہ 22۔ النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر: جلد 5 صفحہ 27)


صفحہ 2 از 2