شیعہ اور یہودیوں کا مسیح اور مہدی کے نظریہ میں مشابہت - ردِ…

شیعہ اور یہودیوں کا مسیح اور مہدی کے نظریہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

ابو عبداللہ نے کہا: جب قائم یعنی منتظر مہدی نمودار ہوگا تو پھر عرب اور قریش اور اس کے درمیان تلوار چلتی ہی رہے گی۔ (بحار الانوار: جلد 52 صفحہ 355)۔

سیدنا ابوجعفرؒ سے روایت ہے کہ اگر لوگوں کو اس بات کا علم ہو جائے کہ یہ قائم کیا کارنامے سر انجام دے گا تو ان میں سے اکثر کی یہ تمنا ہو کہ اس سے نہ ہی واسطہ پڑے یہ لوگوں کو قتل کرے گا اور اس قتل عام کا آغاز وہ قریش سے کرے گا اور لینا دینا صرف تلوار ہوگی تو یہ دیکھ کر لوگ کہیں گے کہ یہ کہتے ہیں کہ یہ مہدی آل محمدﷺ‎ سے ہے اگر یہ آل محمدﷺ‎ سے ہوتا تو اتنی بے دردی کا مظاہرہ نہ کرتا۔ (بحار الانوار: جلد 52 صفحہ 254)۔

اس مہدی سے فوت شدگان بھی نہیں بچ سکیں گے انہیں قبروں سے نکال نکال کر ان کی گردنیں اڑا دے گا جیسا کہ شیخ مفید اور مجلسی نے بیان کیا ہے کہ ابو عبد اللہ کہتے ہیں: جب یہ مہدی منتظر آئے گا پانچ سو قریش کے آدمیوں کو (قبروں) سے نکالے گا ان کی گردنیں اڑائے گا اسی طرح چھ مرتبہ کرے گا۔(ارشاد: 364 بحارالانوار جلد 52 صفحہ 338) 

یہ شیعوں کا مہدی دنیا کے دو تہائی حصہ کو مار ڈالے گا ایسا ہی یہودیوں کا مسیح کرے گا صرف تیسرا حصہ دنیا کا باقی رہے گا احسائی بیان کرتا ہے کہ ابوعبد اللہؒ نے بیان کیا ہے: مہدی کا کام تب پورا ہوگا جب وہ لوگوں کا دو تہائی حصہ دنیا سے ملیا میٹ کر دے گا کسی نے پوچھا: پھر باقی کیا رہے گا؟ کہا: وہ تہائی حصہ تم ہو گے جو باقی بچیں گے اب تم خوش ہو ۔ (کتاب الرجعۃ صفحہ 51)

شیعوں کا یہ مہدی منتظر جب آئے گا تو ہر مسجد کو منہدم کر دے گا اس کارِ خیر کا آغاز کعبہ اور مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی سے کرے گا جو بھی روئے زمین پر مسجد ہوگی وہ اسے گرادے گا مفضل بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے جعفر بن محمد صادقؒ سے مہدی منتظر کے حالات کے متعلق چند سوال کی، میں نے پوچھا: آقا یہ بتائیں مہدی منتظر کعبہ سے کیسا سلوک کرے گا؟ انہوں نے کہا: وہ کعبہ پہلا گھر ہے مکہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے عہد میں جس کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسے انہی بنیادوں سے اٹھایا تھا۔ اس کی صرف بنیادیں باقی چھوڑے گا دوسرا سارا گرا دے گا۔ (کتاب الرجعۃ صفحہ 184)

امام مفید کہتا ہے:

سیدنا ابو جعفرؒ نے کہا جب شیعوں کا مہدی منتظر اٹھے گا تو کوفہ جائے گا وہاں چار مساجد کا انہدام کرے گا اور روئے زمین پر کوئی بھی بلند مسجد ہوگی تو اسے گرا دے گا اور سب برابر کر دے گا۔ (الارشاد : 365)۔

اور شیعوں کے اس مہدی منتظر کے لیے پانی اور دودھ کے دو چشمے پھوٹیں گے اور یہ مہدی اپنے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام والا پتھر اٹھائے ہوگا جس سے بارہ چشمے نکلیں گے اور جب بھی کھانا پینا ہوگا اسے گاڑ لیں گے اور کھانے پینے کی چیزیں حاصل کر لیں گے کیونکہ مہدی اپنے شیعوں سے کہہ دے گا کوئی شخص اپنے کھانے پینے کا سامان ساتھ لے کر نہ جائے نہرِ کوفہ کی طرف جانے والا جس منزل پر رکے گا اس پتھر سے بارہ چشمیں جاری ہو جائیں گے جو پیاسا ہوگا وہ سیراب ہو جائے گا جو بھوکا ہوگا وہ سیر ہو جائے گا اور جب "نجف مقدس" میں پہنچیں گے تو وہاں پانی اور دودھ کے ہمیشہ بہنے والے چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ (بحار الانوار جلد 52 صفحہ 355)

اور ان شیعوں کا یہ نظریہ بھی ہے کہ مہدی کے عہد میں ان کے جسم متغیر ہو جائیں گے اور ان کی قوتِ سماعت تیز ہو جائے گی اور ان کی نظر دور بین بن جائے گی ایک آدمی کے اندر چالیس آدمیوں کی قوت پیدا ہو جائے گی

کلینی لکھتا ہے کہ ابو ربیع شامی بیان کرتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہؒ سے سنا وہ کہتے ہیں:

ان قائمنا اذا قام مد الله عز وجل لشيعتنا فی أسماعهم وأبصارهم حتى لا يكون بينهم وبين القائم بريد يكلمهم فيسمعون وينظرون اليه وهو فی مكانه۔ (الكافی جلد 8 صفحہ 241)۔

ہمارا قائم مہدی منتظر جب ظاہر ہوگا تو اللہ عز وجل ہمارے شیعوں کے کانوں اور آنکھوں میں بڑی طاقت پیدا کر دیں گے اس مہدی اور شیعہ کے درمیان ایک برید یعنی چار میل کا فاصلہ ہوگا تو ہمارا شیعہ امام کو دیکھ بھی رہا ہوگا اور اس کی بات سن بھی رہا ہوگا۔

امام منتظر کے متعلق یہودیوں اور شیعوں کی مطابقت:

درج ذیل نقاط میں ہم یہودیوں اور شیعوں کے عقیدہ امام منتظر کے بارے میں جو مشابہت پائی جاتی ہے وہ بیان کرتے ہیں:

صفحہ 2 از 3