شیعہ اور یہودیوں کا مسیح اور مہدی کے نظریہ میں مشابہت - ردِ…

شیعہ اور یہودیوں کا مسیح اور مہدی کے نظریہ میں مشابہت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3
  1. یہودیوں کا مسیح موعود جب لوٹے گا تو ان کے منتشر یہودیوں کی شیرازہ بندی کرے گا اور یہودیوں کا اجتماع ان کے مقدس مقام بیت المقدس میں ہوگا جسے یہ یوروشلم کہتے ہیں اور جب شیعوں کا مہدی منتظر نکلے گا تو یہ بھی ہر جگہ کے شیعہ کو یکجا کرے گا اور ان کا اجتماع ان کے نزدیک مقدس شہر کوفہ میں ہوگا۔
  2.  ان میں یہ مناسب ہے کہ یہودیوں کا مسیح جب نمودار ہوگا تو مردہ یہودیوں کو زندہ کرے گا یہ قبروں سے نکل کر اس کے لشکر میں شامل ہوں گے اور جب شیعوں کا مہدی ظاہر ہوگا یہ بھی اپنے شیعہ پیروکاروں کو زندہ کرے گا اور یہ اٹھ کر مہدی کے لشکر میں مل جائیں گے۔
  3.  مسیح موعود جو یہودیوں کا ہے وہ نافرمانوں کے مردہ جُثّے نکال کر سزا دے گا تاکہ یہودی بنظرِ خود اس سزا کا مشاہدہ کر لیں اور جب شیعوں کا امام منتظر آئے گا تو یہ بھی نبی اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کو ان کی قبروں سے نکال کر انہیں سزا دے گا خصوصاً سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ اور سیدہ عائشہؓ کو سزا دے گا۔
  4.  یہودیوں کا مسیح موعود ان پر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لے گا تو شیعوں کا مہدی بھی ان پر ظلم کرنے والوں سے قصاص لے گا۔
  5.  یہودیوں کا مسیح دنیا کے لوگوں کا دو تہائی حصہ فنا کر دے گا تو شیعوں کا مہدی بھی ایسا ہی کرے گا۔
  6. یہودیوں کا مسیح نمودار ہوگا تو ان کی جسمانی حالت متغیر ہوگی دو سو ہاتھ تک ان کی قد درازی پہنچ جائے گی اور ان کی عمریں صدیوں پر محیط ہوں گی۔ شیعوں کے مہدی کے ظہور کے وقت بھی ان کی جسمانی ساخت بڑھ جائے گی ایک آدمی میں چالیس آدمیوں کی قوت پیدا ہوجائے گی لوگوں کو اپنے قدموں سے روندیں گے اور ان کی قوت سماعت و بصارت میلوں تک کام کرے گی۔
  7.  مسیح موعود کے عہد میں یہودیوں پر خیرات کی بارش ہوگی پہاڑوں سے دودھ اور شہد ٹپکیں گے زمین لباس اگلے گی شیعوں کے مہدی کے دور میں بھی کوفہ کی سرزمین میں یہ سب کچھ ہو گا۔

صفحہ 3 از 3