Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بھی رہتے پھر بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کی منشا سمجھ جاتی تھیں

  علی محمد الصلابی

ذکوان رحمہ اللہ سے روایت ہے

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: بے شک مجھ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں میری باری والے دن اور میرے پیٹ (السحر: پھیپھڑوں کے ارد گرد والی جگہ۔ (غریب الحدیث للخطابی: جلد 1 صفحہ 398۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 346۔ القاموس المحیط للفیروز آبادی: صفحہ 405) اور سینے (النحر: بالائی سینہ۔ (الصحاح للجوہری: جلد 2 صفحہ 82، مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 6) کے درمیان ہوئی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے وقت میرا اور آپﷺ کا لعاب دہن اکٹھا کر دیا۔ میرے پاس میرے بھائی عبدالرحمٰن اس حال میں تشریف لائے کہ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دے کر بیٹھی تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں، میں سمجھ گئی کہ آپﷺ مسواک کرنا چاہتے ہیں  چنانچہ میں نے کہا: کیا میں یہ آپﷺ کے لیے لے لوں؟ تو آپﷺ نے اپنے سرمبارک سے اثبات کا اشارہ کیا۔ عبدالرحمٰن نے مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دی، لیکن وہ آپﷺ کے لیے سخت تھی۔ میں نے کہا: کیا میں آپﷺ کو اسے نرم کر دوں؟ تو آپﷺ نے اپنے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ تو میں نے اسے چبا کر نرم کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک کی۔‘‘ 

ایک اور روایت میں ہے:

’’چنانچہ میں نے مسواک لی اور اسے اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کیا۔ ( فَقَضَمْتُہ: یعنی میں نے اسے دانتوں کے ساتھ چبایا اور نرم کیا۔ (مشارق الانوار: جلد 2 صفحہ 188۔ النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، جلد 4 صفحہ 78۔ لسان العرب: جلد 12 صفحہ 487) اور اسے صاف کیا، پھر میں نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، تو آپ نے اسے اپنے دانتوں پر مَلا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے خوبصورت انداز میں مسواک کرتے ہوئے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا۔ جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے، آپﷺ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی بلند کی، پھر تین بار فرمایا: رفیق اعلیٰ کے پاس۔ ( الرفیق الاعلیٰ: انبیاء کی جماعت جن کی ارواح اعلیٰ علیین میں رہتی ہیں۔ ایک قول کے مطابق اللہ عزوجل کے ساتھ مراد ہے۔ (شرح مسلم: جلد 15 صفحہ 203)

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض (قضٰی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ (بحوالہ مختار الصحاح: صفحہ 540) ہو گئی۔‘‘

(صحیح بخاری: 4449۔ صحیح مسلم: 2443۔)

اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں تو میں سمجھ گئی کہ آپﷺ کو مسواک کس قدر پسند ہے اور آپﷺ مسواک کرنا چاہتے ہیں۔