Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یہودیوں اور شیعوں میں انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنے میں موافقت

  الشیخ ممدوح الحربی

یہودیوں اور شیعوں میں انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنے میں موافقت:

یہودیوں کی انبیاء کرام علیہم السلام پر تنقید:

انبیائے کرام علیہم السلام پر تنقید کرنا اور ان کی تنقیص کرنا یہودیوں کی نمایاں نشانی ہے جو یہودیوں کی کتابوں کو پڑھے گا وہ ان میں پائے گا کہ یہودیوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی ذوات گرامی پر طعن و تشنیع کی ہے یہیں تک ہی معاملہ بس نہیں نہایت ہی بدترین جرائم کی ان پاکیزہ ہستیوں پر الزام تراشی کی ہے حالانکہ یہ عظیم لوگ ان الزامات سے بالکل بری ہیں۔ انہی تہمتوں میں سے ایک بدترین اور ظالمانہ تہمت یہ ہے کہ یہ یہودی حضرت لوط علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی دو بیٹیوں سے برائی کی تھی۔

(سفر تکوین صحاح صفحہ 19)۔ (نعوذ باللہ)

اور حضرت ہارون علیہ السلام پر یہ بہتان طرازی کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو اسرائیل کے لیے سونے کا بچھڑا بنایا تھا تاکہ یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد اس کی عبادت کریں اور حضرت داؤد علیہ السلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک فوجی کی بیوی سے زنا کیا تھا اور ہتم کی بات ہے ساتھ یہ کہتے ہیں اس عورت کے خاوند کو قتل کروادیا تھا اور اس سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوگئی۔ (نعوذ باللہ)۔۔ 

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ پر ہر جرم کا الزام لگا دیا ہے اور ان کی افتراء پردازیوں اور جرائم کیشیوں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زنا سے پیدا ہوئے تھے (نعوذ باللہ) بلکہ یہودیوں کو یہاں تک جرأت ہوئی ہے کہ انہوں نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ہر نجاست کی تہمت لگائی ہے ان کا کہنا ہے رب کہتا ہے تمام انبیاء کرام علیہم السلام اور کاہنوں نے نجاست اختیار کی ہے بلکہ ان کی شر میرے گھر میں پائی گئی ہے۔ (سفرِ ارمیا صحاح صحفہ 23)۔

شیعوں کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا:

شیعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرتے ہیں اور عداوت و بغض رکھتے ہیں انہیں امہاتُ المؤمنینؓ سے بھی شدید ترین بغض ہے اور ان کے متعلق شیعوں کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کافر اور مرتد ہیں بلکہ انہیں شیعہ گالیاں دینا اللہ تعالیٰ کی قربت کا بہترین ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ محمد بن باقر مجلسی لکھتا ہے کہ:

ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم چار بتوں یعنی سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا معاویہؓ اور چار عورتوں سیدہ عائشہؓ سیدہ حفصہؓ سیدہ ہندؓ اور سیدہ امِ حکمؓ سے اور ان کے تمام پیروکاروں اور گروہوں سے اعلانِ بیزاری کریں یہ تمام روئے زمین میں سے ساری مخلوق سے برے ہیں ان سے بیزاری اختیار کیے بغیر نہ تو اللہ تعالیٰ پر اور نہ اس کے رسول پر اور نہ ہی ائمہ پر ایمان پورا ہوتا ہے۔(حق الیقین صفحہ 519)۔

قمی نے بیان کیا ہے کہ ابو عبداللہؒ نے کہا:

ہر نبی کے بعد اس کی امت میں شیطان ہوتا ہے جو اذیت دیتا ہے اور لوگوں کو اس کے بعد گمراہ کرتا ہے حضرت نوح علیہ السلام کے بعد اسکے دو ساتھی تھے ایک "قحنطیفوس" اور خرام ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھی مکفل اور رزام ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے ساتھی سامری اور مرعقیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی پولس اور موریٹون حضرت محمدﷺ کے ساتھی حبتر اور زریق ہیں حبتر سے مراد سیدنا عمرؓ اور رزیق سے مراد سیدنا ابوبکر صدیقؓ لیے ہیں۔

شیعوں کا امام عیاشی اپنے دل میں چھپے بغض کے بادل یوں چھوڑتا ہے جعفر بن محمد سے بیان کرتا ہے:

يؤتى بجهنم لها سبعة أبواب۔

جہنم کو جب لایا جائے گا اس کے سات دروازے ہوں گئے پہلا دروازہ ظالم زریق یعنی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے لیے ہوگا اور دوسرا دروازہ سیدنا عمرؓ کے لیے ہوگا اور تیسرا دروازہ سیدنا عثمانؓ کے لیے اور چوتھا دروازہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے ہوگا اور پانچواں دروازہ عبدالملک کے لیے ہوگا اور چھٹا دروازہ عسکر بن ہوسر کے لیے ہوگا اور ساتواں دروازہ ابوسلامہ کے لیے ہوگا۔ (تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 243)۔

صدوق اُبی جارود سے بیان کرتا ہے کہ میں نے سیدنا ابو جعفرؒ سے کہا مجھے بتاؤ! دوزخ میں سب سے پہلے کون داخل ہوگا؟ کہا ابلیس اور ایک آدمی اس کی دائیں جانب والا اور ایک آدمی اس کی بائیں جانب والا ان سے مراد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔ (کتاب ثواب الاعمال :صفحہ 255)۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اور امہاتُ المؤمنینؓ پر طعن و تشنیع کے یہ چند نمونے ہم نے بیان کیے ہیں وگرنہ اس امت کے بہترین افراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ان کی زبان درازی اور ان کے بغض اور دلی کینہ کی بھڑاس سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں جس میں یہ اپنے اماموں کی زبان کو ذریعہ بنا کر ان نیک ہستیوں کی توہین کرتے ہیں۔

انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید میں مشابہت:

انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع میں جو یہودیوں اور شیعوں میں موافقت پائی جاتی ہے انہیں ہم درج ذیل میں نقل کرتے ہیں:

  1.  یہودیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے پیرو کار کافر اور مرتد ہیں دین سے خارج ہیں اور شیعہ بھی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کافر اور مرتد ہیں دین میں منافقت اور ریا کاری کے طور پر داخل ہوئے تھے۔
  2.  یہودیوں نے حضرت مریم علیہا السلام پر فاحشہ ہونے کی الزام تراشی کی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے پاک قرار دیا ہے شیعوں نے بھی سیدہ عائشہؓ پر یہ الزام لگایا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بری قرار دیا ہے۔
  3. یہودیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوزخ کے درمیان میں عذاب دیا جائے گا اور شیعوں کا گمان بھی ہے کہ تینوں خلفائے راشدینؓ کو ایک تابوت میں رکھ کر دوزخ کی آگ میں سزادی جائے گی۔ اس تابوت کی گرمی سے دوزخ والے بھی پناہ چاہیں گے۔
  4.  یہودی رموز و اشارات کے ذریعہ اپنی کتابوں میں طعن و تشنیع کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے درمیان رسواء نہ ہوں اسی طرح شیعہ بھی اپنی کتابوں میں خلفائے راشدینؓ اور امہاتُ المؤمنینؓ کے لیے بھی رموز و اشارات استعمال کرتے ہیں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے لیے جبت اور طاغوت فرعون و ہامان وغیرہ اشارات کرتے ہیں علاؤہ ازیں بھی اشارات بنا رکھے ہیں مثلاً سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کو اول اور ثانی کہتے ہیں اس امت کے اعراب فلاں وغیرہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں سیدنا عثمانؓ کے لیے نعثل یا ثالث کا لفظ کہتے ہیں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے رابع اور بنوامیہ کو ابو سلامہ کہتے ہیں سیدہ عائشہؓ کے لیے ام شرور صاحبة الجمل اور عسکر ابن ھوسر کہتے ہوئے اشارہ کرتے ہیں۔