Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع اور انتقام کی مثال

  علی محمد الصلابی

سیدنا عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں

’’یہودیوں کا ایک گروہ ( الرہط: دس سے کم مجموعے پر بولا جاتا ہے۔ چالیس تک بھی کہا گیا، جب کہ ان کے درمیان کوئی عورت نہ ہو۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 283) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ کہنے لگے: السام علیکم‘‘ یعنی (نعوذ باللہ) آپ ہلاک ( السام: یعنی موت یا جلد موت (فتح الباری: جلد 10 صفحہ 135۔ جلد 11 صفحہ 42) ہو جائیں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ان کا مکر سمجھ گئی، فوراً کہا: تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! ٹھہر جاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند کرتا ہے۔ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں، انھوں نے کیا کہا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہہ تو دیا: اور تم پر بھی‘‘

(صحیح بخاری: 6024۔ صحیح مسلم: 2165)

اور مسلم کی روایت ( مسلم بن حجاج بن مسلم ابو الحسین قشیری نیشا پوری: حافظ حدیث اور صحیح مسلم کے مؤلف ہیں۔ 204ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ حفاظ اور ثقات محدثین میں سے ہیں ۔ آپ کی مشہور کتابیں: صحیح مسلم اور التمییز ہیں۔ آپ 261ھ میں فوت ہوئے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 12 صفحہ 558۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 427) میں ہے:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا: اے ابو القاسم! السام علیک یعنی (نعوذ باللہ) آپ ہلاک ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیکم! اور تم بھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو۔ 

(الذام کا لغوی معنی مذمت ہے۔ (فتح الباری: جلد 11 صفحہ 42)

چنانچہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تم بدکلامی کرنے والی نہ بنو۔ انھوں نے کہا: جو انھوں نے کہا، آپ نے نہیں سنا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے انھیں اس کا جواب نہیں دیا جو انھوں نے کہا؟ میں نے کہا: اور تم پر بھی‘‘

(صحیح مسلم: 2165)

امام نووی رحمہ اللہ نے حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کے لیے بد دعا اور مذمت۔ ظالم سے انتقام لینے کی مثال ہے اور اس میں اہل فضل کو تکلیف دینے والے سے بھی انتقام کا سبق ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 14 صفحہ 147)