Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

غیرت آنا عورت کی طبیعت میں راسخ ہوتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے اس کے خاوند کے ساتھ دلی محبت کی دلیل ہے۔ خصوصاً جب کسی خاوند کی متعدد بیویاں ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی غیرت والی طبیعت کی مالکہ تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں فوراً غیرت میں آجاتیں بالفاظ دیگر رقابت میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔

ایک دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو غیرت (یعنی رقابت) محسوس ہوتی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فی البدیہہ کہا: مجھے کیا ہے کہ مجھ جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پر غیرت نہ کھائے۔‘‘

(اسے مسلم نے روایت کیا ہے، حدیث: 2815)

ذیل میں ہم کچھ احادیث جمع کرتے ہیں جن کا لب لباب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کی وضاحت ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک بار قرعہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا (یہ سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا ہیں۔ قبیلہ بنو عدی سے تھیں۔ یہ بھی ام المؤمنینؓ ہیں اور مہاجرہ ہیں، یہ کثرت صوم و قیام کی وجہ سے مشہور تھیں۔ 45ھ میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 84۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 581) کے نام نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے برابر اپنا اونٹ چلاتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوران سفر باتیں کرتے جاتے۔ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ی کرتی ہوں تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رضا مندی ظاہر کر دی اور وہ ان کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ چنانچہ حسب معمول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس تشریف لائے، جب کہ اس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سلام کیا۔ پھر قافلہ چلتا رہا، بالآخر پڑاؤ کے مقام پر پہنچ گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو تلاش کرنے لگیں، لوگوں کے پڑاؤ کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دونوں پاؤں اذخر (جنگلی گھاس) میں رکھ لیے اور یوں دعا کرنے لگی: اے میرے رب! تو مجھ پر بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے میری طاقت نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق کچھ کہہ سکوں۔"

(صحیح بخاری: 5211۔ صحیح مسلم: 2445)

2۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو کسی ام المؤمنینؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک برتن میں کھانا بھیجا۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خادمہ کے اس ہاتھ پر ہاتھ مارا جس میں کھانے والا برتن تھا۔ تو وہ پیالہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے، پھر جو کھانا اس پیالے میں تھا، آپﷺ نے وہ اس پیالے میں ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خادمہ کو روک لیا اور آپﷺ کے گھر میں جو پیالہ تھا وہ اسے دے دیا اور صحیح پیالہ اس کی طرف بھیج دیا جس نے کھانا بھیجا تھا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس کے گھر رکھ دیا جس نے اسے توڑا تھا۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 5225)

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنینؓ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر شہد پیتے تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہمی مشاورت کی کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ مجھے آپﷺ سے مغافیر ( مغافیر: ایک درخت سے بہنے والی گوند جس کا ذائقہ تو شیریں ہوتا ہے لیکن بو بہت تیز ہوتی ہے۔ (غریب الحدیث لابن قتیبہ: جلد 1 صفحہ 314۔ لسان العرب: جلد 7 صفحہ 350)کی بُو آتی ہے۔‘‘ کیا آپﷺ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی بات آپﷺ سے کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی نہ پیوں گا۔ تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورہ التحريم آیت 1 تا 4)

ترجمہ: اے نبی! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔ اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی، پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔ (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

آیت نمبر 4 میں اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ سے مراد سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔

اور وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے۔ 

(صحیح بخاری: 5267۔ صحیح مسلم: 1484)

4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز بہت پسند کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر سے فارغ ہوتے تو اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور کسی ایک کے پاس ٹھہر جاتے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو معمول سے زیادہ وہاں رہے۔ مجھے غیرت آئی، میں نے پوچھا تو مجھے کہا گیا: کسی عورت نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو تحفہ میں شہد کی ایک تھیلی ( العکّۃ: چمڑے کی تھیلی کو کہتے ہیں۔ اس میں گھی اور شہد ڈالا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری للعینی: جلد 12 صفحہ 122) دی تو اس نے اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ پلایا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور آپﷺ کے لیے کوئی حیلہ سازی کریں گی۔ تب میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپﷺ تمہارے پاس آنے والے ہیں، جب آپﷺ تمہارے پاس آجائیں تو تم کہنا: کیا آپﷺ نے مغافیر کھایا ہے؟ تو وہ تمھیں کہیں گے نہیں۔ تو تم ان سے کہنا کہ یہ بو کیسی ہے، جو آپﷺ سے آرہی ہے؟ تو آپﷺ کو بتائیں گے کہ مجھے حفصہ نے کچھ شہد پلایا ہے۔ تو تم کہنا کہ اس کے شہد پر ’’عرفط‘'(عرفط: ایک درخت ہے اور جرست یعنی شہد کی مکھی نے اس درخت کا رس چوس کر شہد میں ملا دیا ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 260) نامی درخت کا اثر ہو گیا ہے۔ میں بھی ایسا ہی کہوں گی اور اے صفیہ تم بھی ایسے ہی کہنا۔

’’سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، اللہ کی قسم! اسی لمحے آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر موجود تھے۔ میں نے چاہا کہ جو معاملہ تم نے میرے سپرد کیا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دوں لیکن تمہارے خوف کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی۔‘‘ 

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: سودہ سمیت اکثر ازواجِ مطہرات سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرعوب تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اور لاڈلی ہیں ۔ (فتح الباری ، ج ۹، ص: ۳۸۰۔)

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب گئے تو سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔ ام المؤمنین نے کہا: تو یہ بو کیسی ہے جو مجھے آپ سے محسوس ہو رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے۔‘‘ تو اس نے کہا: اس شہد پر عرفط کا اثر ہو گا۔ جب آپﷺ میرے پاس آئے تو میرے ساتھ بھی آپﷺ کا یہی مکالمہ ہوا اور جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو وہاں بھی یہی مکالمہ ہوا۔ پھر جب آپﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس سے آپﷺ کو نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس کی خواہش نہیں۔"

(گویا آپﷺ نے متعدد بیویوں کے اظہار نفرت کی وجہ سے انکار کیا۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 3807)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’سودہ رضی اللہ عنہا کہتی تھی اللہ کی قسم! ہم نے ان پر حرام کروایا۔ میں نے اسے کہا: تم خاموش رہو۔

(صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سابقہ روایت::2567، 1474 اور یہ روایت 2568، 1474۔ اس طرح جمع ہو سکتی ہیں کہ شہد پینے کے دو واقعات میں سودہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما والا واقعہ پہلے کا ہے اور عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما والا واقعہ بعد کا ہے۔ اگر دونوں طرح کی روایات کا بدقت نظر جائزہ لیا جائے تو شہد پلانے والی سیدہ زینب بنت جحش والا واقعہ راجح دکھائی دیتا ہے۔ وگرنہ دونوں واقعات صحیحین میں مروی ہیں اور ان میں کوئی بڑا تفاوت نہیں۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 376)

(صحیح بخاری: 5268۔ صحیح مسلم: 1474۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’اس حدیث سے متعدد مسائل مستفاد ہوتے ہیں: جیسے عورتوں کی جبلت میں اپنے خاوندوں کے بارے میں غیرت راسخ ہوتی ہے اور غیرت کھانے والی اپنی سوکن کے ساتھ جو بھی حیلہ سازی کرے وہ معفو ہے۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث پر ترجمۃ الباب یوں قائم کیا ہے:کتاب ترک الحیل: عورت کا اپنے خاوند اور اپنی سوکنوں کے بارے میں کونسا حیلہ مکروہ ہے۔ نیز اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبہ کا بھی تذکرہ ہے جو ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تھا۔ حتیٰ کہ ان کی سوکنیں بھی اکثر معاملات میں ان کی اطاعت کرتی تھیں۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 380،376) 

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، میں نے سوچا کہ شاید آپﷺ اپنی کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ میں نے آپﷺ کو تلاش کیا۔ پھر اپنے حجرے کی طرف لوٹ کر آئی تو آپﷺ(مسجد میں ) رکوع یا سجدے میں یوں دُعا کر رہے تھے: (اے اللہ !)میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تو میں نے اپنے دل میں کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان۔ میں کیا سوچ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو شان ہی نرالی ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 485)

6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا

’’کیا میں تمھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے بارے میں ایک حدیث نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں! انھوں نے بتایا: جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے پاس تھی، آپﷺ مسجد سے واپس آئے تو اپنے جوتے اُتار کر آپﷺ نے اپنے پاؤں کے درمیان رکھ دیے اور اپنی اوڑھنی لی، پھر آہستہ سے دروازہ کھولا اور آپﷺ باہر نکل گئے، پھر اسے آہستہ سے بند کیا۔ میں نے اپنی قمیص پہنی، سر پر چادر لی اور اپنا تہہ بند باندھا اور آپﷺ کے پیچھے چل پڑی۔ بالآخر آپ بقیع الغرقد (قبرستان اہل مدینہ) میں آئے۔ آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار بلند کیے اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے۔ میں بھی واپس پلٹ آئی۔آپ تیز تیز چلنے لگے، میں بھی مزید تیز چلنے لگی۔آپﷺ دوڑنے لگے، میں بھی دوڑنے لگی۔ بہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حجرے میں داخل ہو گئی۔ میں ابھی بستر پر لیٹی تھی کہ آپﷺ بھی حجرہ میں داخل ہوئے اور فرمانے لگے: اے عائش! کیا بات ہے، سانس کیوں پھولا ہوا ہے۔

راوی حدیث: سلیمان کہتا ہے:میرا خیال ہے، آپ نے حَشْیًا کہا۔ (اس کو کہتے ہیں جو دمہ کا مریض ہو اور اس کا سانس آجا رہا ہو)ساتھ ہی آپﷺ نے فرمایا: تم مجھے بتادو، یا مجھے وہ لطیف و خبیر ضرور بتائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان۔ میں نے آپﷺ کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے آگے جو سایہ تھا وہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، (اللَّہَد: سینے میں زور سے دھپا لگانا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر: جلد 4 صفحہ 434) جس سے مجھے درد کا احساس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا: لوگ چاہے جتنا بھی چھپائیں بے شک اللہ تعالیٰ اسے ضرور بتلا دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘

(امام نووی رحمہ اللہ نے اس ’’ہاں‘‘ کا قائل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قرار دیا ہے کہ جب انھو ں نے اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی گو اہی دی، ساتھ ہی خود کہا: ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ اسی طرح مصادر حدیث میں ہے اور یہی مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 7 صفحہ 44) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس جملے کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے استفہامیہ انداز قرار دیا ہے کہ وہ ایسے مسئلے کے بارے میں دریافت کر رہی ہیں جو وہ نہیں جانتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاعلمی کا عذر قبول کیا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جی ہاں (نعم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرار دیا۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمہ اللہ: جلد 11 صفحہ 412) 

بے شک جب تم نے مجھے دیکھا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور تم نے چونکہ اپنے کپڑے رکھ دیے تھے اس لیے وہ تمہارے سامنے نہ آئے، انھوں نے مجھے پکارا۔ میں نے ان کی پکار پر لبیک کہا اور اپنی پکار کو تم سے مخفی رکھا۔ میں نے سوچا کہ تم سو چکی ہو گی اور تمھیں جگانا مناسب نہ سمجھا۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم ڈر جاؤ گی، جبریل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس آؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔"

(صحیح مسلم: 974)

7۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک جنازہ پڑھا کر میری طرف تشریف لائے۔ اس وقت مجھے سر درد ہو رہا تھا اور میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میں میرا سر۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے مر گئی تو میں تمھیں غسل دوں گا اور تمھیں کفن پہناؤں گا۔ پھر تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمھیں دفن کر دوں گا؟ ‘‘میں بول اٹھی: لیکن میں یا میرے ساتھ (راوی کو شک ہے) اللہ کی قسم! اگر آپ ایسا کچھ کریں گے تو جب آپ میرے گھر میں لوٹ کر آئیں گے تو اپنی کسی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری نے آ لیا جس میں آپﷺ فوت ہوئے۔

(سنن ابن ماجہ: 1206۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 228، حدیث: 25950۔ سنن دارمی: جلد 1 صفحہ 51، حدیث: 80۔ اس کا اصل صحیح بخاری میں ہے۔ حدیث: 5666)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم الہٰی اپنی بیویوں کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ رہیں اور چاہیں تو دنیاوی زیب و زینت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں ۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں تو ساتھ ہی کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے یہ بھی درخواست کروں گی کہ میرا جواب آپ اپنی کسی بیوی کو نہ بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان میں سے جو بیوی بھی پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا۔ بلکہ اس نے مجھے سہولتیں بہم پہنچانے والا معلم بنا کر مبعوث کیا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 1474)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فوائد حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

’’خاوند کے متعلق غیرت، ایک مکمل باشعور اور فہم و فراست والی بیوی کو بھی ایسے کام کرنے آمادہ کر لیتی ہے جو عام حالات میں بالکل اس کے لائق نہیں ہوتے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے جواب کے متعلق اپنی دوسری بیویوں کو کچھ نہ بتائیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین کامل تھا کہ اُن کا یہ کہنے کا سبب ان کی فطری غیرت اور اپنی سوکنوں سے رقابت کا جذبہ ہے، تو آپﷺ نے ان کی درخواست کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔‘‘

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 522)

8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مجھ سے فرمایا:

إِنِّی لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَیْنَ تَعْرِفُ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَّا إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً فَإِنَّکِ تَقُولِینَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّد۔ وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاہِیمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا أَہْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ۔

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ناخوشی کی حالت میں ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ کرنا اور دوسرے انبیا کا عدم تذکرہ اس کی اضافی فطانت کی دلیل ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ جیسا کہ قرآنی نص کہتی ہے۔ چونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چھوڑے بغیر اس کا چارہ نہ تھا تو بدلے میں اسی شخصیت کا نام لیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا تاکہ مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلقات سے باہر نہ رہے۔‘‘ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 326)

ترجمہ: ’’مجھے اچھی طرح معلوم ہے جب تم مجھ پر خوش ہوتی ہو اور یہ بھی مجھے معلوم ہے جب تم مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔ میں نے کہا: ان باتوں کا آپﷺ کو کیسے پتا چلتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو قسم اٹھاتے وقت کہتی ہو ’’رب محمد کی قسم! ‘‘اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو ’’ابراہیم کے رب کی قسم! ‘‘میں نے کہا: بالکل اسی طرح ہے، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام ہی تو چھوڑتی ہوں۔‘‘

امام نوویؒ لکھتے ہیں :

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا کہ: ’’بے شک مجھے بخوبی علم ہوتا ہے جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور یہ بھی بخوبی علم ہوتا ہے جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور جواب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: اے اللہ کے رسول! میں صرف آپ کے نام ہی زبان پر نہیں لاتی۔‘‘

(صحیح بخاری: 5228۔ صحیح مسلم: 2439)

قاضی عیاض ( یہ عیاض بن موسیٰ بن عیاض ابو الفضل سبتی مالکی ہیں۔ امام وقت، حافظ حدیث، شیخ الاسلام ان کے القاب ہیں۔ 476 ہجری میں پیدا ہوئے۔ وہ سبتہ نامی شہر پھر غرناطہ کے قاضی رہے۔ نہایت عمدہ تصانیف اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔ ان کی مشہور تصنیف: الشفاء بحقوق شرف المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ وہ 546 ہجری میں فوت ہوئے۔ (ازہار الریاض فی اخبار القاضی عیاض، لابی العباس المصری۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 12)رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ناراضی کا باعث مذکورہ بالا غیرت ہے جو عورتوں کی فطرت میں داخل ہے اور اسی فطرت کی وجہ سے اکثر احکام میں ان سے درگزر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اس غیرت سے علیحدہ ہو ہی نہیں سکتیں ۔‘‘

بلکہ امام مالکؒ وغیرہ علمائے مدینہ فرماتے ہیں:

’’اگر بیوی غیرت سے مشتعل ہو کر اپنے خاوند پر زنا کی تہمت لگائے تو اس پر سے حد قذف ساقط ہے۔‘‘

مزید فرماتے ہیں :

’’اس دعویٰ کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ’’غیرت مند عورت وادی کے بالائی اور زیریں کنارے میں تمیز نہیں کرتی۔‘‘

(اسے ابو یعلیٰ نے جلد 8 صفحہ 129، حدیث: 4670) پر روایت کیا ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، حدیث: 4967۔‘‘ کے تحت ضعیف لکھا۔ (مختصر شدہ، ظفر) 

اگر یہ بات نہ ہوتی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جرم نہایت شدید ہوتا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراضی اور ان سے علیحدگی کبیرہ گناہ ہے۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا: ’’میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی تو نہیں لیتی۔‘‘ یعنی ان کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ہیبت اسی طرح ہوتی جس طرح خوشی کی صورت میں ہوتی تھی۔ عورتوں میں غیرت کا سبب شدت محبت ہے۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 203)

9۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جویریہ بنت حارث بن المصطلق، ثابت بن شماس بن قیس یا اس کے چچا زاد کے حصے میں بطور لونڈی آئی۔ اس نے اپنی آزادی کی قسطیں مقرر کروا لیں اور وہ نہایت حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ نگاہیں اس پر جم جاتی تھیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قسطوں کی ادائیگی میں مدد لینے کے لیے آئی۔ جب وہ ہمارے دروازے پر آ کر کھڑی ہوئی تو مجھے بہت بری لگی اور مجھے یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے دیکھیں گے تو آپﷺ کو بھی وہ چیز ضرور دکھائی دے گی جو میں نے دیکھ لی ہے۔ چنانچہ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں حارث کی بیٹی جویریہ ہوں۔ میرا معاملہ آپ سے پوشیدہ نہیں (یعنی میں مفتوحہ قبیلہ کے قیدیوں میں آئی ہوں ) اور میں ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئی ہوں۔ میں نے اپنی آزادی کے لیے قسطیں مقرر کروا لی ہیں، تو میں آپﷺ کے پاس اس لیے آئی ہوں تاکہ آپﷺ قسطوں کی ادائیگی میں میری مدد کریں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے ساتھ اس سے اچھا معاملہ طے ہو جائے؟‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تیری قسطیں دوں گا اور تجھ سے شادی کروں گا۔‘‘ اس نے کہا: مجھے منظور ہے۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: جب لوگوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو ان کے پاس اس (قبیلے) کے جتنے قیدی مرد و خواتین تھے انھوں نے سب کو آزاد کر دیا اور وہ کہنے لگے یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہیں۔ تو ہم نے اپنی قوم کے لیے اس خاتون سے زیادہ کوئی بابرکت خاتون نہیں دیکھی، جس کے سبب بنو مصطلق کے سینکڑوں گھرانوں میں رہنے والوں کو آزادی ملی۔‘‘

(أبو داود: 3933۔ مسند احمد: 26408۔ سنن الکبری للبیہقی: جلد 9 صفحہ 74۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ابی داؤد میں صحیح کہا ہے۔ ابن القطان نے (احکام النظر: صفحہ 153) پر اسے حسن کہا ہے۔)

10۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت طلب کرتے وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انداز یاد آ گیا۔ آپکے چہرے پر خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات سے نمایاں ہوئے اور فرمایا: ’’’’اے اللہ! یہ تو ہالہ ہے۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رقابت کی آگ میں جل اٹھی۔ چنانچہ میں نے کہہ دیا: آپﷺ قریش کی ایک سرخ باچھوں والی بوڑھی کو ہر وقت کیوں یاد کرتے ہیں جبکہ اسے فوت ہوئے ایک زمانہ بیت گیا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بدلے میں اچھی عورتیں عطا کر دی ہیں۔

(صحیح بخاری: 3821۔ صحیح مسلم: 2437)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں:

’’مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے اتنی رقابت یا غیرت محسوس نہیں ہوئی جتنی غیرت و رقابت مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے محسوس ہوتی تھی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ساتھ شادی سے پہلے وہ فوت ہو چکی تھیں۔ لیکن میں کثرت سے آپﷺ کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر کہ اس نے سیدہ خدیجہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی تھی کہ جنت میں اس کا گھر ایک موتی سے بنا ہوا ہے (قَصَبًا: کھوکھلا موتی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 67) اور اگر آپﷺ بکری ذبح کرتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں (خلائلہا: خلیلۃ کی جمع بمعنی ’’سہیلی"۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 2 صفحہ 72۔ کو ان کی ضرورت کے مطابق گوشت کا تحفہ بھیجتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 3816۔ صحیح مسلم: 2435)

چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غیرت کا بنیادی سبب جانتے تھے اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اکثر معاملات میں درگزر سے کام لیتے۔ لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے شرعی حدود سے تجاوز کا امکان ظاہر کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً انھیں مناسب و احسن انداز میں تنبیہ بھی کر دیتے۔ اس بات کی عمدہ مثال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح حدیث ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا ہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفیہ کا پست قد ہونا نہیں کھلتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَقَدْ قُلْتِ کَلِمَۃً لَوْ مُزِجَتْ بِمَائِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْہُ۔

(سنن ابی داؤد: 4875۔ ترمذی: 2502۔ ابن دقیق العید نے اسے (الاقتراح: صفحہ 118) پر صحیح کہا اور علامہ شوکانی نے (الفتح الربانی: جلد 11 صفحہ 5593) پر صحیح کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’صحیح سنن ابی داؤد‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے۔

’’بے شک تم نے تو اتنی کڑوی بات کہی ہے کہ اگر یہ بات سمندر کے پانی میں مل جائے تو اس کی کڑواہٹ سمندر کے پانی پر غلبہ پا لے۔‘‘