رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

ترجمہ: اے نبی! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔ اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی، پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ: آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ: مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔ (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

آیت نمبر 4 میں اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ سے مراد سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔

اور وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے۔ 

(صحیح بخاری: 5267۔ صحیح مسلم: 1484)

4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز بہت پسند کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر سے فارغ ہوتے تو اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور کسی ایک کے پاس ٹھہر جاتے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو معمول سے زیادہ وہاں رہے۔ مجھے غیرت آئی، میں نے پوچھا تو مجھے کہا گیا: کسی عورت نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو تحفہ میں شہد کی ایک تھیلی ( العکّۃ: چمڑے کی تھیلی کو کہتے ہیں۔ اس میں گھی اور شہد ڈالا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری للعینی: جلد 12 صفحہ 122) دی تو اس نے اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ پلایا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور آپﷺ کے لیے کوئی حیلہ سازی کریں گی۔ تب میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپﷺ تمہارے پاس آنے والے ہیں، جب آپﷺ تمہارے پاس آجائیں تو تم کہنا: کیا آپﷺ نے مغافیر کھایا ہے؟ تو وہ تمھیں کہیں گے نہیں۔ تو تم ان سے کہنا کہ یہ بو کیسی ہے، جو آپﷺ سے آرہی ہے؟ تو آپﷺ کو بتائیں گے کہ مجھے حفصہ نے کچھ شہد پلایا ہے۔ تو تم کہنا کہ اس کے شہد پر ’’عرفط‘'(عرفط: ایک درخت ہے اور جرست یعنی شہد کی مکھی نے اس درخت کا رس چوس کر شہد میں ملا دیا ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 260) نامی درخت کا اثر ہو گیا ہے۔ میں بھی ایسا ہی کہوں گی اور اے صفیہ تم بھی ایسے ہی کہنا۔

’’سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، اللہ کی قسم! اسی لمحے آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر موجود تھے۔ میں نے چاہا کہ جو معاملہ تم نے میرے سپرد کیا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دوں لیکن تمہارے خوف کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی۔‘‘ 

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: سودہ سمیت اکثر ازواجِ مطہرات سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرعوب تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اور لاڈلی ہیں ۔ (فتح الباری ، ج ۹، ص: ۳۸۰۔)

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب گئے تو سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔ ام المؤمنین نے کہا: تو یہ بو کیسی ہے جو مجھے آپ سے محسوس ہو رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے۔‘‘ تو اس نے کہا: اس شہد پر عرفط کا اثر ہو گا۔ جب آپﷺ میرے پاس آئے تو میرے ساتھ بھی آپﷺ کا یہی مکالمہ ہوا اور جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو وہاں بھی یہی مکالمہ ہوا۔ پھر جب آپﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس سے آپﷺ کو نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس کی خواہش نہیں۔"

(گویا آپﷺ نے متعدد بیویوں کے اظہار نفرت کی وجہ سے انکار کیا۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 3807)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’سودہ رضی اللہ عنہا کہتی تھی اللہ کی قسم! ہم نے ان پر حرام کروایا۔ میں نے اسے کہا: تم خاموش رہو۔

(صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سابقہ روایت::2567، 1474 اور یہ روایت 2568، 1474۔ اس طرح جمع ہو سکتی ہیں کہ شہد پینے کے دو واقعات میں سودہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما والا واقعہ پہلے کا ہے اور عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما والا واقعہ بعد کا ہے۔ اگر دونوں طرح کی روایات کا بدقت نظر جائزہ لیا جائے تو شہد پلانے والی سیدہ زینب بنت جحش والا واقعہ راجح دکھائی دیتا ہے۔ وگرنہ دونوں واقعات صحیحین میں مروی ہیں اور ان میں کوئی بڑا تفاوت نہیں۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 376)

(صحیح بخاری: 5268۔ صحیح مسلم: 1474۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’اس حدیث سے متعدد مسائل مستفاد ہوتے ہیں: جیسے عورتوں کی جبلت میں اپنے خاوندوں کے بارے میں غیرت راسخ ہوتی ہے اور غیرت کھانے والی اپنی سوکن کے ساتھ جو بھی حیلہ سازی کرے وہ معفو ہے۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث پر ترجمۃ الباب یوں قائم کیا ہے:کتاب ترک الحیل: عورت کا اپنے خاوند اور اپنی سوکنوں کے بارے میں کونسا حیلہ مکروہ ہے۔ نیز اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبہ کا بھی تذکرہ ہے جو ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تھا۔ حتیٰ کہ ان کی سوکنیں بھی اکثر معاملات میں ان کی اطاعت کرتی تھیں۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 380،376) 

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

صفحہ 2 از 5