رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

’’خاوند کے متعلق غیرت، ایک مکمل باشعور اور فہم و فراست والی بیوی کو بھی ایسے کام کرنے آمادہ کر لیتی ہے جو عام حالات میں بالکل اس کے لائق نہیں ہوتے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے جواب کے متعلق اپنی دوسری بیویوں کو کچھ نہ بتائیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین کامل تھا کہ اُن کا یہ کہنے کا سبب ان کی فطری غیرت اور اپنی سوکنوں سے رقابت کا جذبہ ہے، تو آپﷺ نے ان کی درخواست کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔‘‘

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 522)

8۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مجھ سے فرمایا:

إِنِّی لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَیْنَ تَعْرِفُ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَّا إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً فَإِنَّکِ تَقُولِینَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّد۔ وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاہِیمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا أَہْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ۔

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ناخوشی کی حالت میں ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ کرنا اور دوسرے انبیا کا عدم تذکرہ اس کی اضافی فطانت کی دلیل ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ جیسا کہ قرآنی نص کہتی ہے۔ چونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چھوڑے بغیر اس کا چارہ نہ تھا تو بدلے میں اسی شخصیت کا نام لیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا تاکہ مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلقات سے باہر نہ رہے۔‘‘ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 326)

ترجمہ: ’’مجھے اچھی طرح معلوم ہے جب تم مجھ پر خوش ہوتی ہو اور یہ بھی مجھے معلوم ہے جب تم مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔ میں نے کہا: ان باتوں کا آپﷺ کو کیسے پتا چلتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو قسم اٹھاتے وقت کہتی ہو ’’رب محمد کی قسم! ‘‘اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو ’’ابراہیم کے رب کی قسم! ‘‘میں نے کہا: بالکل اسی طرح ہے، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام ہی تو چھوڑتی ہوں۔‘‘

امام نوویؒ لکھتے ہیں :

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا کہ: ’’بے شک مجھے بخوبی علم ہوتا ہے جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور یہ بھی بخوبی علم ہوتا ہے جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور جواب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: اے اللہ کے رسول! میں صرف آپ کے نام ہی زبان پر نہیں لاتی۔‘‘

(صحیح بخاری: 5228۔ صحیح مسلم: 2439)

قاضی عیاض ( یہ عیاض بن موسیٰ بن عیاض ابو الفضل سبتی مالکی ہیں۔ امام وقت، حافظ حدیث، شیخ الاسلام ان کے القاب ہیں۔ 476 ہجری میں پیدا ہوئے۔ وہ سبتہ نامی شہر پھر غرناطہ کے قاضی رہے۔ نہایت عمدہ تصانیف اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔ ان کی مشہور تصنیف: الشفاء بحقوق شرف المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ وہ 546 ہجری میں فوت ہوئے۔ (ازہار الریاض فی اخبار القاضی عیاض، لابی العباس المصری۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 12)رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ناراضی کا باعث مذکورہ بالا غیرت ہے جو عورتوں کی فطرت میں داخل ہے اور اسی فطرت کی وجہ سے اکثر احکام میں ان سے درگزر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اس غیرت سے علیحدہ ہو ہی نہیں سکتیں ۔‘‘

بلکہ امام مالکؒ وغیرہ علمائے مدینہ فرماتے ہیں:

’’اگر بیوی غیرت سے مشتعل ہو کر اپنے خاوند پر زنا کی تہمت لگائے تو اس پر سے حد قذف ساقط ہے۔‘‘

مزید فرماتے ہیں :

’’اس دعویٰ کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ’’غیرت مند عورت وادی کے بالائی اور زیریں کنارے میں تمیز نہیں کرتی۔‘‘

(اسے ابو یعلیٰ نے جلد 8 صفحہ 129، حدیث: 4670) پر روایت کیا ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، حدیث: 4967۔‘‘ کے تحت ضعیف لکھا۔ (مختصر شدہ، ظفر) 

اگر یہ بات نہ ہوتی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جرم نہایت شدید ہوتا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراضی اور ان سے علیحدگی کبیرہ گناہ ہے۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا: ’’میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی تو نہیں لیتی۔‘‘ یعنی ان کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ہیبت اسی طرح ہوتی جس طرح خوشی کی صورت میں ہوتی تھی۔ عورتوں میں غیرت کا سبب شدت محبت ہے۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 203)

9۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جویریہ بنت حارث بن المصطلق، ثابت بن شماس بن قیس یا اس کے چچا زاد کے حصے میں بطور لونڈی آئی۔ اس نے اپنی آزادی کی قسطیں مقرر کروا لیں اور وہ نہایت حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ نگاہیں اس پر جم جاتی تھیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قسطوں کی ادائیگی میں مدد لینے کے لیے آئی۔ جب وہ ہمارے دروازے پر آ کر کھڑی ہوئی تو مجھے بہت بری لگی اور مجھے یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے دیکھیں گے تو آپﷺ کو بھی وہ چیز ضرور دکھائی دے گی جو میں نے دیکھ لی ہے۔ چنانچہ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں حارث کی بیٹی جویریہ ہوں۔ میرا معاملہ آپ سے پوشیدہ نہیں (یعنی میں مفتوحہ قبیلہ کے قیدیوں میں آئی ہوں ) اور میں ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئی ہوں۔ میں نے اپنی آزادی کے لیے قسطیں مقرر کروا لی ہیں، تو میں آپﷺ کے پاس اس لیے آئی ہوں تاکہ آپﷺ قسطوں کی ادائیگی میں میری مدد کریں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے ساتھ اس سے اچھا معاملہ طے ہو جائے؟‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تیری قسطیں دوں گا اور تجھ سے شادی کروں گا۔‘‘ اس نے کہا: مجھے منظور ہے۔

صفحہ 4 از 5