Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت

  علی محمد الصلابی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خاص مقام تھا کیونکہ وہ آپﷺ کے سب سے زیادہ جانثار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، اسی وجہ سے وہ آپﷺ کو سب بیویوں سے زیادہ محبوب تھیں۔ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اپنی محبت خاص کا خود اظہار فرماتے تھے اور اسے مخفی نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمرو بن عاص (سیدنا عمرو بن عاص بن وائل ابو عبداللہ قرشی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول اور فاتح و امیر مصر رہے۔ فتح مکہ سے پہلے آٹھ ہجری میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عمان کا والی بنایا۔ انھوں نے سیدنا عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے لیے کام کیا، یہ شام کے جہاد میں لشکروں کے ایک اہم کمانڈر تھے۔ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور صلح کے لیے دو میں سے ایک حکم (ثالث) تھے۔ تقریباً 43 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 366)  رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔‘‘ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مردوں میں سے (آپ کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس کے باپ (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے۔‘‘

(رواہ البخاری: 3452۔ مسلم: 2384۔)

فوائد الحدیث: اس حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت ثابت ہے اور وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے۔

چنانچہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ لوگوں میں سے آپﷺ کو سب سے زیاد کون محبوب ہے؟ تو سائل کا یہ اسلوب کہ مِنَ النَّاسِ  سب لوگوں سے زیادہ آپﷺ کو کون محبوب ہے۔ چونکہ اس عموم کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خصوصی تاثیر ہے (سب لوگوں سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی البدیہہ جواب دیا۔ عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سے۔ آپﷺ کے اس مختصر جواب میں ہماری امی جان کی قدر و منزلت کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کے لیے موجود تھی۔ گویا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مترادف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لفظ محبت ہے۔

جب سائل نے خود وضاحت کی کہ میرے سوال کا مقصد مردوں میں سے آپﷺ کے محبوب ترین ہستی کے متعلق پوچھنا تھا۔ تو آپﷺ نے ایسے الفاظ کے ساتھ جواب دیا جو ہماری والدہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ متصل ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے باپ کے ساتھ۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا کہ ابوبکر کے ساتھ۔ گویا ابوبکر کے ساتھ آپﷺ کے محبت کی گواہی میں ہماری امی جان کی محبت کی گواہی بھی شامل ہے۔ گویا صدیق امت کی لفظی تعبیر کے لیے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہنا کافی ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ ہماری والدہ محترمہ کی قدر و منزلت کی وضاحت لیے کیسا ادبی و بلاغی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ و ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشآء۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امی جان سے اس قدر محبت کا اعلان فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ حافظ ابو عبداللہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے جس کا اظہار بھی کیا کرتے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142)

کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَأْمُرُنِیْ اَنْ أَسْتَرْقِیَ مِنَ الْعَیْنِ 

(صحیح مسلم: 2195)

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نظر بد سے دم کروانے کا حکم دیا کرتے تھے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپﷺ کی محبت اس درجہ پہنچ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں اس قدر خوف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں نظر بد سے دم کروانے کا مشورہ دیا کرتے۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھیلنے کی فرصت مہیا کرتے تھے اور انھیں اس مشغولیت سے روکتے نہ تھے۔ بلکہ آپﷺ ان کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مسکراتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہو جاتیں۔‘‘

(صحیح مسلم: 2195)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی اور میری چند سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آتے تو وہ چھپ جایا کرتی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو باری باری میری طرف کھسکا دیتے پھر وہ میرے ساتھ کھیلنے لگ جاتیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 6130۔ صحیح مسلم: 2440)۔

آپ ہمیشہ ان کے دل کو شاداں و فرحاں رکھنے میں کوشاں رہتے اور انھیں اپنے کندھے کی اوٹ دیتے تاکہ وہ حبشیوں کو جنگی کھیل کھیلتے دیکھ لیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی لوگ اپنی لاٹھیوں کے ساتھ مسجد نبوی میں کھیل رہے تھے۔ آپﷺ نے مجھے اپنی چادر کی اوٹ میں لے لیا تاکہ میں ان کا کھیل دیکھ سکوں۔ پھر آپﷺ میرے لیے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں خود وہاں سے ہٹ گئی۔‘‘

(صحیح بخاری: 6130۔ صحیح مسلم: 2440)

اس دلچسپ مظاہرہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تادیر اس لیے کھڑی رہیں کہ ان کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ٹکا تھا۔ یعنی جو آپ کے کندھے اور کان کے درمیان مقام تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے قیام کو طویل کرتی گئیں۔ انھیں کھیل سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ وہ صرف اس بات کا اظہار کرنا چاہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی کتنی اہمیت ہے اور ان کی کیا قدر و منزلت ہے۔

ہماری امی جان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا: ’’تو سیر ہو چکی ہے؟‘‘ تو میں کہتی: اے اللہ کے رسول ! آپﷺ جلدی نہ کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے ان کے کھیل میں ذرا دلچسپی نہ تھی لیکن میں عورتوں کو دکھانا چاہتی تھی کہ میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مرتبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری کیا قدر و منزلت ہے۔‘‘

(السنن الکبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 307، حدیث: 8951۔ مسند أبی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 248، حدیث: 4830۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 1 صفحہ 268۔ اسے ابن قطان رحمہ اللہ نے (احکام النظر: حدیث: 360) کے ضمن میں صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 7 صفحہ 818) پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی خواہش کی تکمیل تک کھڑے رہنا آپﷺ کے دل میں ان کی بلند قدر و منزلت کی دلیل ہے اور یہ کہ آپﷺ ان سے کس قدر والہانہ محبت کرتے تھے۔ یہ ممکن تھا کہ آپﷺ انھیں ان کے کھیل کا مشاہدہ کرنے کی مہلت دیتے اور خود تبلیغ رسالت کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے وہاں سے چلے جاتے۔ انھیں کسی مناسب جگہ پر کھڑا کر دیتے تاکہ وہ حبشیوں کے کھیل سے لطف اندوز ہوتیں اور یہ بھی ممکن تھا کہ آپﷺ اس کے قریب کھڑے ہو جاتے۔ بجائے ان کے آپﷺ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اپنا مبارک کندھا رکھے رہتے اور وہ آپﷺ کے کندھے پر سر ٹیک کر اپنے قیام کو طویل کرتی رہتیں اور یہ بھی ممکن تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے چلے جاتے اور ان کے اختتام کھیل کا انتظار نہ کرتے۔ بلکہ زیادہ مناسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہی تھا کہ آپﷺ آغاز میں کچھ دیر وہاں رہتے پھر امت کی حاجات کے لیے آپﷺ وہاں سے چلے جاتے۔

لیکن یہ سارے امکانات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حق کے سامنے معدوم تھے، چونکہ:

1۔ یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لیے محبت کی عظیم گواہی ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔

2۔ وہاں تا دیر قیام دوسری گواہی ہے۔

3۔ حالت قیام تیسری گواہی ہے۔

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے کندھے کا سہارا فراہم کر کے تادیر وہاں جمے رہنا چوتھی گواہی ہے۔

5۔ ان کی نوعمری کی رعایت اور آپﷺ کا محبت بھرا صبر اور آپﷺ کا شفقت بھرا انداز جیسے متعدد گواہ ہیں ۔

یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلتوں سے لبریز ہے جن کی کوئی انتہا نہیں کہ تمام مخلوقات سے افضل ہستی کے دل میں ہماری امی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کیا قدر و منزلت تھی۔ اللّٰہم صلی علی محمد و آل محمد۔

اسی طرح عید کی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کھیل کود کے لیے فرصت مہیا فرماتے۔ اس میں خود بھی شامل ہو جاتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میرے پاس دو لڑکیاں جنگ بُعاث ( جنگ بُعاث: اسلام سے پہلے انصار کے درمیان جو جنگ ہوئی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 392) کے اشعار گا رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی بستر پر دراز ہو گئے اور اپنی کروٹ بدل لی۔ اسی اثنا میں میرے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹنے لگے اور کہنے لگے: شیطان کی بانسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیوں؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’تم انھیں کچھ نہ کہو۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے ان دونوں لڑکیوں کو ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ وہ دونوں جلدی سے نکل گئیں۔‘‘

(بخاری: 949۔ مسلم: 892)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شدت محبت کی وجہ سے ان کی دلچسپیوں کا ہمیشہ خیال رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھیل میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقابلہ میں دوڑنے کے لیے کہا اور چند قدموں میں ہی آپﷺ سے آگے بڑھ گئی پھر جب میں زیادہ گوشت کی وجہ سے بھاری ہو گئی تو آپﷺ کے ساتھ پھر دوڑ کا مقابلہ کیا چنانچہ آپﷺ مجھ سے آگے نکل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اس دن کا بدلہ ہے۔‘‘

(سنن ابی داود: 2578۔ سنن ابن ماجہ: 1623۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 39، حدیث: 24164۔ السنن الکبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 304، حدیث: 8943۔ صحیح ابن حبان: جلد 10 صفحہ 545۔ ح:  4691۔ المعجم للطبرانی: جلد 23 صفحہ 47، حدیث: 125۔ البیہقی: جلد 10 صفحہ 17، حدیث: 20252۔ اس حدیث کو ابن الملقن نے (البدر المنیر: جلد 9 صفحہ 42) میں، العراقی نے (تخریج الاحیاء: صفحہ 482)، البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ابی داود) وادعی نے (الصحیح المسند: 1631) میں صحیح کہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشی کے متمنی رہتے اور ان کی محسوسات کی ہمیشہ رعایت کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں :

’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام ’’سرف‘‘ پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: ’’تم کیوں رو رہی ہو؟‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میری تمنا تو یہ ہے کہ میں اس سال حج نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید تیرے ایام شروع ہو گئے ہیں؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ آپ فرمانے لگے: ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ (علامہ زرکشی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: آپ ذرا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایام کے موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور تو کریں: یعنی ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی سب بیٹیوں پر لکھ دی ہے اور جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے ایام شروع ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا اس نے ہمیں محبوس کر دیا؟ ‘‘دونوں مواقع پر فرق کتنا واضح ہے۔ (الاجابۃ: صفحہ 52۔ فتح الباری: جلد 3 صفحہ 589) میں دونوں مقامات کی مناسبت تحریر کی گئی ہے۔ 

تم اسی طرح کرو جیسے حجاج کریں گے سوائے اس کے کہ پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘

(صحیح بخاری: 305۔ صحیح مسلم: 1211)

اور ایک روایت میں ہے کہ:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تجھے کوئی نقصان نہیں تو اپنے حج کو جاری رکھ۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے نصیب میں عمرہ کر دے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1788۔ صحیح مسلم: 1211)

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایام ختم ہو گئے اور بیت اللہ کا طواف کر لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سب تو حج اور عمرہ کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے جاؤں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ مقام ’’تنعیم‘‘ پر جائے تو تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: 7230)

ایک روایت میں ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خو تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب کسی چیز میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس چیز کے حصول کے لیے ان کی دلچسپی کو پورا کرتے۔ بشرطیکہ وہ دین میں نقص کا باعث نہ ہو۔ (امام نووی فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم خو ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جب وہ دین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پورا کرتے۔ جیسا کہ اس موقع پر عمرہ کی خواہش۔ (شرح مسلم: جلد 8 صفحہ 160)

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو ان کے ساتھ بھیجا تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مقام تنعیم پر جا کر عمرہ کا احرام باندھا۔‘‘

(صحیح مسلم: 1213)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ایک دن مجھے سر درد ہو گیا تو میں نے کہا: ’’ہائے میرا سر۔‘‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میرا سر۔‘‘

(سنن ابن ماجہ: 1206۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 228، حدیث: 25950۔ سنن دارمی: جلد 1 صفحہ 51، حدیث: 80۔ اس کا اصل صحیح بخاری میں ہے۔ (حدیث: 5666)

علامہ بدر الدین الزرکشی ( یہ محمد بن بدر بن عبداللہ ابو عبداللہ زرکشی ہیں۔ اصول فقہ کے عالم شافعی المذہب، ہمیشہ علم و عمل سے وابستہ رہے۔ 745 ہجری میں پیدا ہوئے۔ 794 ہجری میں فوت ہوئے۔ (البحر المحیط) اس سے پہلے کسی نے ایسی کتاب نہ لکھی اور (البرہان فی علوم القرآن، وغیرہ) (الطبقات الشافعیہ لابن قاضی شہیر: جلد 5 صفحہ 67۔ شذرات الذہب: لابن العماد: جلد 6 صفحہ 334)رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس روایت کے ان الفاظ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہا درجے کی موافقت کا اشارہ پنہاں ہے۔ یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی محسوس کیا۔ گویا آپﷺ نے اپنی سچی محبت کا اظہار فرمایا اور ان کے درد کو اپنا درد قرار دیا۔‘‘

(الاجابۃ لا یر او ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ: للزرکشی: صفحہ 69)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ہائے میرا سر‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زبان اقدس سے یہ فرمانا: ’’بلکہ ہائے میرا سر‘‘ یعنی تم سے زیادہ میرے سر میں تکلیف ہے۔ تم تو میری وجہ سے پرسکون ہو جاؤ اور شکوہ مت کرو اور یہاں یہ مسئلہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی تھیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سب بیویوں سے زیادہ محبت انھی کے ساتھ تھی۔ جب انھوں نے اپنے سر کی شکایت آپﷺ کے سامنے رکھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں گویا ہوئے کہ ان کے محبوب کو بھی انھی جیسی تکلیف ہے اور یہ کسی محبوب کی اپنے محبوب کے ساتھ حد درجہ کی موافقت ہے جو ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی و فرحت میں شریک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب محبوبہ کے جسم کا کوئی حصہ درد محسوس کرتا ہے تو اس کے محبوب کا بھی وہی عضو بیمار پڑ جاتا ہے اور یہ سچی اور پاکیزہ محبت کی لاثانی مثال ہے۔

چونکہ پہلے معنیٰ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ نصیحت فرمائی کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرو اور صبر کرو کیونکہ جو تکلیف تمھیں ہے وہ مجھے بھی ہے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر اور عدم شکایت کے ذریعے انھیں ہمدردی جتائی۔

دوسرے معنیٰ کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے سچی محبت کا اعلان ہے، یعنی تم اپنے ساتھ میری شدید محبت کا اندازہ کرو۔ میں نے تمہارے سر درد اور تمہاری تکلیف میں تمہارے ساتھ کس طرح ہمدردی کا اظہار کیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ میں تندرست رہوں اور تم بیمار ہو جاؤ۔ بلکہ جو چیز تمھیں دکھ پہنچائے وہ مجھے دکھ پہنچاتی ہے اور مجھے بھی وہی چیز خوش کرتی ہے جو تمھیں خوش کرے۔ بقول شاعر:

’’مخلوق میں سے جو تیرے دکھ میں شریک ہو تو اس کی خوشی میں بھی شریک بن جا۔‘‘

(کتاب الروح لابن القیم: صفحہ 258)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طویل گفتگو سے اکتاتے نہیں تھے۔ جیسا کہ ام زرع والی طویل حدیث جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ عورتوں اور ان کے خاوندوں کا باہمی سلوک سنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کے آخر میں فرمایا:

’’میں تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسے ابوزرع ام زرع کے لیے تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: 5189۔ صحیح مسلم: 2448)

علامہ نوویؒ لکھتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’میں تمہارے لیے ایسے ہی ہوں جیسے ابو زرع ام زرع کے لیے تھا۔‘‘

محدثین کہتے ہیں کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دل گیری اور ان کے لیے اپنی حسن معاشرت کے نمونے کے طور پر فرمایا۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 221)

یعنی ’’میں تمہارے لیے ابوزرع کی مانند ہوں۔‘‘