Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں

  علی محمد الصلابی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد سے فارغ ہو کر ان سے چیدہ چیدہ باتیں کیا کرتے تھے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے اور میں بیدار ہو چکی ہوتی تو آپﷺ مجھ سے گفتگو کرتے وگرنہ آپﷺ اقامت کی اطلاع ملنے تک لیٹ جاتے۔‘‘

ایک روایت میں ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1161۔ صحیح مسلم: 742

اسی طرح دوران سفر خصوصاً جب رات چھا جاتی تو آپﷺ سیدہ عائشہ سے راز دارانہ گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک بار سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما دونوں کے نام کا قرعہ نکلا۔ جب رات ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے ہوئے چلتے۔‘‘

(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 84۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 581)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ممدوحہ کو اپنے قریب کر لیتے اور اپنی شفقت و رحمت بھرے بازو ان کی طرف پھیلا دیتے۔ ہمارے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ رضی اللہ عنہا پر قربان۔ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان معمولات نبوی سے مانوس ہو چکی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کے برتنوں میں وہی جگہ تلاش فرماتے جہاں ہماری امی اپنا دہن مبارک لگاتیں اور ام المؤمنینؓ بھی ایسا ہی کرتیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’میں اپنے ایام (حیض)کے دوران برتن سے پانی پیتی پھر وہ برتن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی تو آپﷺ اپنا دہن مبارک میرے لب رکھنے والی جگہ پر رکھتے اور برتن میں جو کچھ دودھ یا پانی ہوتا آپﷺ پی لیتے اور میں ہڈی سے گوشت نوچتی جبکہ میں حائضہ ہوتی تو پھر میں وہی ہڈی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی تو آپﷺ اپنے لب مقدس میرے لب والی جگہ پر رکھتے اور ہڈی سے گوشت نوچتے۔‘‘

(صحیح مسلم: 300)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امی جان سے بظاہر خوش طبعی بھی کرتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:

’’بے شک میں بخوبی سمجھتا ہوں تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتا چلتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اس طرح قسم اٹھاتی ہو:

لَا وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ! ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم!‘‘ 

اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو:

لَا وَ رَبِّ اِبْرَاہِیْمَ! ’’ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تصدیق کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔‘‘

(بخاری: 5228۔ مسلم: 2439)

گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے محبت کے بدلے محبت اور عادت کے بدلے عادت کا تبادلہ کیا۔

ایک دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اندر سے ان کی بلند آواز سنی جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معاملہ میں باتیں کر رہی تھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو جا کر پکڑ لیا اور زجر و توبیخ کرنا چاہی اور کہا: ’’کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا بلند آواز میں گفتگو کرنا نہیں سنا؟ (مطلب یہ کہ سن لیا ہے)‘‘

ایک روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں یوں مخاطب کیا:

’’اے فلاں عورت کی بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کیوں کر رہی ہو؟‘‘ اس صورت حال کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں باپ بیٹی کے درمیان میں کھڑے ہو گئے۔اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر) غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے چل پڑے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے دیکھ لیا کہ میں نے اس مرد جرّی سے تمھیں کیسے بچایا؟‘‘ کچھ دن گزرے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ جب انھوں نے ان دونوں کو دیکھا کہ وہ خوش باش ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’جس طرح آپ دونوں نے مجھے اس روز کی تلخی میں شامل کیا تھا اسی طرح اب مجھے اپنی باہمی خوشی میں بھی شریک کیجئے۔‘‘ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمیں منظور ہے، ہمیں منظور ہے۔‘‘

(سنن ابی داود: 4999۔ مسند احمد: جلد 4 صفحہ 271، حدیث: 18418۔ اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 6 صفحہ 944) پر صحیح کہا اور وادعی رحمہ اللہ نے اسے (الصحیح المسند: حدیث: 1172) میں صحیح کہا ہے)

بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حمایت میں ان کو تکلیف دینے والی سب اشیاء کو دور کر دیا۔ خواہ وہ ان کے باپ کی طرف سے ہی ہوں اور آپﷺ ہمیشہ انھیں خوش رکھنے اور راضی رکھنے کے لیے اور ان کے طیب خاطر کے لیے نرم رویہ اختیار کرتے۔ ان سب معمولات سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حب بیکراں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ آپﷺ اس بات کو بھی برداشت نہ کرتے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی تکلیف پہنچے خواہ ان کے والد محترم کی طرف سے ہی ہو۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے معذرت کی۔‘‘

(زہری رحمہ اللہ نے (تہذیب اللغۃ: جلد 2 صفحہ 186) پر لکھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کسی معاملہ میں ڈانت ڈپٹ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’اس کی طرف سے تم میری معذرت قبول کر لو میں خود اسے ادب سکھاؤں گا۔‘‘

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو نہ سوچا تھا کہ جو تکلیف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہنچنے والی ہے وہ پہنچے گی۔ چونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور سیدہ عائشہ کو ایک تھپڑ جڑ دیا اور ان کے سینے پر ہاتھ مارا۔ اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابوبکر! آج کے بعد میں کبھی بھی اس کے بارے میں تم سے معذرت نہیں کروں گا۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 4185۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے (السلسلۃ الصحیحۃ: 2900) میں صحیح کہا ہے۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی بیویوں کے متعلق اختیار دیا کہ آپﷺ انھیں کہیں کہ جو آپﷺ کو اختیار کرنا چاہے تو اس کی مرضی ہے اور جو آپﷺ سے علیحدہ ہونا چاہے تو بھی ٹھیک ہے۔ اس ضمن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو بات چیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوئی اس میں بھی آپ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شدید محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ابتداء کی اور فرمایا: ’’میں تمھیں ایک بات کہنا چاہتا ہوں تو تم اس معاملے میں اپنے والدین کے ساتھ مشورہ کرنے سے پہلے جلد بازی مت کرنا۔‘‘

(بخاری: 2468۔ مسلم: 1479)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپﷺ سے جدا ہونے کا مشورہ ہرگز نہیں دیں گے۔‘‘

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 14 صفحہ 163)

علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ علماء کہتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے والدین سے مشورے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ آپﷺ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرط جذبات میں آ کر مجھ سے جدائی کا فیصلہ نہ کر لے۔ جہاں تک ان کے والدین کا تعلق تھا تو وہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپﷺ سے علیحدگی کا مشورہ کسی صورت میں نہ دیتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1389۔ صحیح مسلم: 2443)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت کو تھامے رکھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنی تمام بیویوں سے مشورہ کر کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کو اپنا مستقر بنا لیا اور آپﷺ نے اپنے آخری سانس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود مبارک میں پورے کیے۔ انھی کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔

چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنینؓ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محبت کی شعاعیں کائنات کے اطراف و اکناف تک پھیل گئیں۔ بلکہ آفاق کو اس محبت کی کرنوں نے عبور کر لیا۔ جس کے نتیجے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں حمد و ثنا اور اذکار جمیلہ کی کثیر تعداد آئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس قدر جلال و تکریم کا سلوک ہوا جو ان کی شایانِ شان تھا اور تاریخ اسلامی میں ان کو وہی مقام ملا جس کی وہ مستحق تھیں۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپﷺ کی اس محبت سے بخوبی آگاہ تھے جو آپﷺ کو اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی۔ اسی لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایا اور تحائف دینے کے لیے اس دن کا انتظار کرتے جس دن آپﷺ کی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوتی۔

1۔ صحیح حدیث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے دو گروپ تھے۔ ایک گروپ میں سیدہ عائشہ، حفصہ اور سودہ رضی اللہ عنہن تھیں تو دوسرے گروپ کی قائد ام سلمہ (یہ ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ ام سلمہ قرشی مخزومی رضی اللہ عنہا ہیں۔ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل ہے۔ یہ حبشہ کی طرف ہجرت میں شامل تھیں۔ پھر مدینہ منورہ کی ہجرت بھی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث روایت کی ہیں۔ یہ تمام امہات المؤمنینؓ میں سے آخر میں 62 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 2 صفحہ 129۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 150) رضی اللہ عنہا تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام بیویاں ان کے گروپ میں تھیں۔ 

جبکہ تمام صحابہ کرامؓ کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ جیسا کہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تحفہ لانا چاہتا تو وہ اسے اس دن تک مؤخر کر دیتا جس دن آپﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوتے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گروپ میں شامل ازواج مطہرات نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس سلسلے میں گفت و شنید کی اور انھیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ آپﷺ لوگوں کو حکم دیں کہ تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ دینا چاہے وہ وہیں آپﷺ کے لیے بھیج دے جہاں آپﷺ ہوں اور صرف مخصوص دن کا انتظار نہ کرے۔

تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے اس معاملے پر بات کی۔ آپﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ دیگر ازواج نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ سب نے انھیں دوبارہ بات کرنے کا کہا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان کے پاس گئے تو انھوں نے آپﷺ سے یہی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی اسے کوئی جواب نہ دیا۔ ازواج مطہراتؓ نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انھوں نے پھر اصرار کیا کہ تم اس وقت تک آنحضرت سے بات کرتی رہو جب تک آپﷺ تمھیں کوئی جواب نہیں دیتے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنی باری پر ان کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے پھر آپﷺ سے وہی بات کی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تم مجھے عائشہ کے معاملے میں اذیت نہ دو۔ کیونکہ جب میں کسی اور بیوی کے بستر میں ہوتا ہوں تو میرے پاس وحی نہیں آتی لیکن جب عائشہ کے پاس ہوتا ہوں تو فرشتہ وہاں بھی وحی لے کر پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ملتجیانہ انداز میں گڑگڑا اٹھیں کہ اے اللہ کے رسول! میں آپﷺ کو تکلیف دینے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں۔

پھر اس کے گروپ کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیٹی سیّدہ فاطمہ زہراء ( یہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کی دادی بنو ہاشم سے تھیں الزہراء ان کا لقب ہے۔ جنت میں تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں، بعثت نبوی سے کچھ عرصہ پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل صرف انھیں سے جاری ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد ان کی وفات ہوئی اور آپﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کے اہل و عیال میں سے سب سے پہلے یہی فوت ہوئیں۔ (فضائل فاطمۃ الزہراء للحاکم۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 53 رضی اللہ عنہا کو اس بات کے لیے تیار کیا۔ چنانچہ انھوں نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ آپﷺ سے کہیں کہ آپﷺ کی بیویاں اللہ کے واسطے آپﷺ سے ابوبکر کی بیٹی (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے معاملہ میں عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے یہ بات کہہ دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے بیٹی! جو مجھے پسند ہے کیا تجھے پسند نہیں؟‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں، بالکل ایسا ہی ہے۔ وہ ازواج کے پاس واپس گئیں اور انھیں ساری بات بتائی۔ انھوں نے کہا: تم دوبارہ جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو تو انھوں نے دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔

پھر انھوں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ وہ آپﷺ کے پاس آئیں اور نہایت درشت لہجہ میں آپﷺ سے مخاطب ہوئیں، وہ کہنے لگیں: آپﷺ کی بیویاں آپﷺ سے ابن ابی قحافہ کی بیٹی کے معاملے میں اللہ کے واسطے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں۔ چنانچہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے غصے کا رخ جلد ہی ان کی طرف ہو گیا۔ زینب رضی اللہ عنہا نے انھیں بھی خوب سخت باتیں کہیں۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پرامید نگاہوں سے دیکھنے لگے کہ کیا یہ بولتی ہے کہ نہیں۔ بقول راوی چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی لب کشائی کر لی اور ترکی بہ ترکی زینب رضی اللہ عنہا کو ایسے تسلی بخش جواب دئیے کہ انھوں نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ کہتی ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: ’’آخریہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔‘‘ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا۔

(صحیح بخاری: 2581)

جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا یہ انداز صحابہ رضی اللہ عنہم کے علم میں تھا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو بھی بخوبی علم تھا۔ اس کی واضح دلیل روزہ دار کے بوسہ لینے کے مسئلہ میں ابی قیس کی روایت ہے۔

ابو قیس سے روایت ہے:

’’مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھوں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے؟ اور اگر وہ نفی میں جواب دے تو ان سے کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔

بقول راوی میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے ہوئے بوسہ لیتے تھے؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا۔

راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا ہو کیونکہ آپﷺ کو اس کی محبت پر ضبط نہیں تھا۔ بہرحال میرے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا۔‘‘

(مسند احمد: جلد 44 صفحہ 98، حدیث: 26691۔ شرح معانی الآثار: للطحاوی: جلد 2 صفحہ 93 حدیث: 3395۔ اور قصہ کے بغیر اصل روایت (صحیح مسلم: حدیث: 1106) میں ہے

3۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اسے یوں مخاطب کیا۔ اے بیٹی! تو اس عورت کے معاملہ میں کبھی دھوکا نہ کھانا جس کے حسن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے پسند کر لیا۔ ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے باپ کی اس نصیحت کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپﷺ مسکرا دئیے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5218۔ صحیح مسلم: 147)

صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید محبت کا اس قدر یقینی علم تھا کہ (ان) عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشنودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک سفارش کا ذریعہ بن گئی۔

ذرا غور کریں! یہ ہیں ہماری والدہ محترمہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جب ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ امور خانہ داری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق زوجیت کو وہ صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکتیں اور ان میں مردوں کی دلچسپی کا کوئی اشارہ بھی نہیں رہا، تو انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے غم نے آ گھیرا۔ چنانچہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ وہ اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہیں اور ان کا خیال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں میں سے کسی کی طرف نہ گیا کیونکہ انھیں بخوبی علم تھا کہ ہماری والدہ محترمہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔

(صحیح بخاری: 2593۔ صحیح مسلم: 463)۔

اس فضیلت کے ثبوت غیر متناہی ہیں۔ تاآنکہ ہماری والدہ محترمہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب سے اونچی شان و مرتبت والی ہو گئیں۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بے شک کسی شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بہت بڑی فضیلت ہے اور یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کہ فتح خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ’’کل میں جھنڈا اسے ہی دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس سے فزوں تر ہے اور وہ فضیلت میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اس شخص سے بہرحال افضل ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں حصہ ان سے کم ہے۔ اسی لیے جب سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپﷺ مردوں میں سے کس کے ساتھ زیادہ محبت کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے باپ کے ساتھ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تمام صحابہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سیدنا ابوبکر اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہونے کی دلیل ہے۔‘‘

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: جلد 4 صفحہ 99)

جن مقاصد کے لیے کسی عورت سے شادی کی جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نصاً بیان کر دیا، پھر فرمایا: ’’تو دین دار عورت کے ساتھ شادی کر کے کامیاب ہو جا۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔‘‘ تو یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو دیگر اسباب و وسائل کو ترک کر کے دین دار عورت سے شادی کرنے کی رغبت دلائیں اور خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی اور مقصد کے لیے شادی کریں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ’’تمام عورتوں میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔‘‘

تو کسی مسلمان کے لیے یہ سوچنا جائز نہیں کہ اللہ کے نزدیک دین کے علاوہ بھی کوئی وجۂ فضیلت ہے۔

علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 143) پر اور علامہ ندوی رحمہ اللہ نے (سیرۃ سیدۃ عائشۃ ام المؤمنینؓ صفحہ 79) پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ام سلمہ! تم مجھے عائشہ کے معاملے میں اذیت نہ دو۔‘‘ کیونکہ اللہ کی قسم! تم میں سے میں اس کے علاوہ جس کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں تو میری طرف وحی نہیں آتی۔‘‘

علامہ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ جواب، تمام امہات المومنینؓ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت حکم الہٰی کی وجہ سے تھی اور یہ حکم الہٰی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت کا ایک سبب تھا۔

حتیٰ کہ مسروق رحمہ اللہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق حدیث روایت کرتے تو کہتے: مجھے یہ حدیث صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی مبرأۃ، مصدقہ اور اللہ کے حبیب کی محبوبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی۔

(الزہد و الرقائق لابن المبارک: جلد 1 صفحہ 382، حدیث: 1079۔ و الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2404)