معاویہ (رضی اللہ عنہ) بدعتی امرا میں سے ایک ہے۔ (المستدرک، تاريخ دمشق الکبير) .
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ (رضی اللہ عنہ) بدعتی امرا میں سے ایک ہے۔
(المستدرک، تاريخ دمشق الکبير) .
الجواب اہلسنّت
1: اس روایت میں مسلم بن خالد راوی ہے تقریب التہذیب میں اس کے بارے میں یہ الفاظ ہیں۔ کثیر الاوہام) اسے بہت زیادہ وہم ہو جاتا تھا۔ (تقریب التہذیب لابن حجر صفحہ 178 جلد 2)
علامہ ذہبی نے اس کا تعارف کرانے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے۔ امام ابوحاتم نے کہا اس سے احتجاج نہ کیا جائے۔ امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ شخص تقدیر کا منکر تھا۔
(میزان الاعتدال جلد 4صفحہ 102 مطبوعہ مصر)
اس روایت میں ایک راوی علی بن عبدالعزیز فزاری ہے یہ شخص شیعہ ہے۔ (تقریب صفحہ 248) .
المستدرک کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
2:روایت میں "فلاں" کا لفظ کہہ کر کچھ کہنا یا لکھنا شیعہ راویوں کی عادت ہے۔ شیعہ ماخذات کا مطالعہ کرنے سے بخوبی یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ راوی اکثر کسی کے خلاف بات کرتے ہوئے نام لینے کی بجائے فلاں کہہ دیتے ہیں چونکہ اس مقام کی روایت کا طرز بھی بالکل وہی ہے، لہٰذا اس قرینہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی تصرف سے خالی نہیں ہے۔
3: "ای معاویہ" کی تعیین و تصریح راوی کی طرف سے ہے صحابی کا قول معلوم نہیں ہوتا