Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا مبحث وفات نبویﷺ کے بعد

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کیسے بسر ہوئی؟

اس مبحث میں ایک تمہید اور پانچ نکات ہیں۔

تمہید:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے مسلمانوں کو بہت بڑا صدمہ پہنچا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان اذیت ناک ایام کی یوں تصویر کشی کرتی ہیں:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک پہنچی اور کس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس مشکل مرحلے میں ثابت قدم رکھا۔ جب ان کے یار غار، مرشد، رہبر خاص اور مشعل ہدایت ہستی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ جو ہستی تمام مخلوقات سے ان کو محبوب ترین تھی۔ تب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام مسلمانوں کو سہارا دیا۔‘‘

اس کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے لیے اس مرحلے کی بھی حکایت بیان کرتی ہیں جب سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کے درمیان مستقبل کے امور کے متعلق مباحثہ ہوا اور جب انھوں نے زمام خلافت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے پر اتفاق کیا اور انھیں مسلمانوں کے لیے خلیفہ چن لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’السُّنح‘‘ یعنی باب العوالی نامی محلے کے کھیت یا باغ میں موجود تھے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہہ دیا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات نہیں پائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی اور خیال تھا ہی نہیں اور میرا پختہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور آپﷺ کو زندہ اٹھائے گا اور آپﷺ لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے۔ اسی وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا اٹھایا اور آپﷺ کو بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، آپﷺ جیسے اپنی زندگی میں پاک و صاف تھے وفات پانے کے بعد بھی ایسے ہی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ آپﷺ کو کبھی بھی دو موتیں نہیں دے گا پھر وہ حجرہ مبارک سے نکل پڑے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یوں مخاطب کیا: اے قسم اٹھانے والے! جہاں ہو وہیں رک جاؤ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی وہ وہیں بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: خبردار! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ یقیناً زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:

اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ ۞ (سورۃ الزمر آیت 30)

ترجمہ: (اے پیغمبر) موت تمہیں بھی آنی ہے اور موت انہیں بھی آنی ہے۔

(یہاں ایک سادہ سا سوال ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جو آیت مبارکہ پڑھی، اس میں لفظ ’’ میتٌ‘‘ سے کیا مراد تھی؟اور انہوں نے کس کے لیے لفظ ’’میتٌ‘‘ بولا؟ اب اگر کوئی یہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر موت آئی ہی نہیں یا آپ آج بھی زندہ ہیں، تو گویا اس کا عقیدہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مختلف ہوا اور اس کے خیال کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیۃ مبارکہ غلط مقام پر پڑھی اور اس کی تفہیم میں ٹھوکر کھائی؟(معاذ اللہ)(قدوسی) 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 144)

ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

تو لوگوں نے آہ و بکا اور گریہ زاری شروع کر دی۔‘‘

(صحیح بخار: 3667)

ایک روایت میں ہے:

’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقام ’’السُّنح‘‘ میں اپنی رہائش گاہ سے اپنے گھوڑے پر واپس آئے۔ مسجد کے پاس آ کر گھوڑے سے اترے اور چپ چاپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ سے چھوا جو کہ ایک منقش اور جھالر دار کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔

(حِبَرَۃٌ: ایسی چادر کو کہتے ہیں جس کے کناروں پر جھالر (حاشیہ) اور اندر دھاریاں ہوں۔ (غریب الحدیث للخطابی: جلد 2 صفحہ 432)

پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے اور آپﷺ کو بوسہ دیا اور رو پڑے پھر کہنے لگے: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، اللہ کی قسم! اللہ آپﷺ کو دو موتیں نہیں دے گا۔ جو موت آپﷺ پر فرض تھی وہ بے شک آپﷺ پر آ چکی ہے۔‘‘

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ابو سلمہ نے مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعے بتایا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے عمر! تو بیٹھ جا! تو لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بعد از حمد و ثنا، جو کوئی تم میں سے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم  کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو گئے ہیں اور تم میں سے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بے شک زندہ ہے وہ کبھی فوت نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 144)

ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

بقول راوی:

اللہ کی قسم! جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے تلاوت کیا، تو گویا لوگوں نے پہلی بار یہ آیت سنی اور انہی سے یہ آیت یاد کی۔ پس میں نے جس آدمی سے ملاقات کی وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: 4452)

بقول راوی:

’’انصاری صحابہ اپنے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنو ساعدہ کے احاطہ میں جمع ہوئے اور کہنے لگے: ہم میں سے ایک امیر ہو گا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہو گا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر و عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم سقیفہ بنو ساعدہ میں گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بولنا چاہا لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں خاموش کرا دیا۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ تو نہ تھا، تاہم میں نے اپنے مطابق کچھ باتیں سوچی ہوئی تھیں اور مجھے اندیشہ تھا کہ ابوبکر ایسا کلام نہ کر سکے گا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نہایت فصیح و بلیغ خطاب کیا۔ جس کے چند الفاظ یوں تھے:

’’ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے۔‘‘ تب سیدنا حباب بن مندر رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسا ہم نہیں کریں گے ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’نہیں لیکن ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر بنو گے۔ وہ (یعنی مہاجرین) تمام عربوں سے معتدل مزاج ہیں اور حسب و نسب میں سب عربوں سے زیادہ شریف و معزز ہیں۔ لہٰذا تم عمر یا ابو عبیدہ بن جراح کی بیعت لے لو۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کرتے ہیں ، آپؓ ہمارے سردار، آپؓ ہم میں سے بہترین اور ہم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین ہیں۔ پھر سیدنا عمر نے ابوبکر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور ان کی بیعت کی اور سب لوگوں نے بھی ان کی بیعت کرنا شروع کر دی۔

(صحیح بخاری: 3667)