پہلا نکتہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال
علی محمد الصلابیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر فائز ہوئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ان کی بیعت کر لی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنے حجرے میں تنہا زندگی بسر کرنے لگیں۔
عام لوگوں کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کم عمری کے باعث دعوت دین کے سلسلے میں ان کا علمی پہلو اوجھل رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت سے جو زخم انھیں لگا اس کا مندمل ہونا بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے ساتھ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مرتدین و منکرین کی سرکوبی میں مشغول ہو گئے۔
لیکن ان سب مہمات کے باوجود جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ نے سیدنا عثمان بن عفان ( یہ عثمان بن عفان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی کنیت ابو عمرو اور لقب ذوالنورین ہے۔ یہ قریشی و اموی ہیں۔ خلفائے اربعہ میں سے ایک ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف دونوں ہجرتوں کے مہاجر ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں کا یکے بعد دیگرے ان سے نکاح کیا۔ ان کے عہد خلافت میں بے شمار علاقے جیسے خراسان و افریقہ وغیرہ، خلافت اسلامیہ کے تحت فتح کیے گئے۔ 35 ہجری میں مظلومیت کی حالت میں شہید ہوئے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 3 صفحہ 303۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 456) رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنا حصہ طلب کرنے کے لیے بھیجا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ’’ہمارے وارث نہیں بنائے جاتے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: 6730۔ صحیح مسلم: 1758)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان شرعی امور میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع کرتے جو ان سے مخفی تھے۔ اس کی عمدہ مثال شیخین کی وہ روایت ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے)
’’میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی، تو انھوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تین سفید سہولی (السُہُولِیۃ: یمن کی ایک بستی’’سہول‘‘میں بُنے جانے والے کپڑوں کو سہولی کہتے تھے۔ کچھ علماء نے کہا ہے کہ یہ سفید اور سوتی ہوتے تھے۔ ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ کپڑے سفید ضرور ہوتے لیکن سوت سے خاص نہیں۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 7 صفحہ 8) چادروں میں، ان میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس دن وفات پائی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: یہ سوموار کا دن تھا۔ انھوں نے پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آج سوموار ہے۔ الحدیث۔‘‘
(صحیح بخاری: 1387۔ صحیح مسلم: 941۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شرعی مسائل پوچھنے والوں کی راہنمائی مکمل عزم و ہمت سے کرتی رہیں۔ چنانچہ سیدنا محمد بن ابی بکر (یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد رحمہ اللہ ہیں۔ ان کی کنیت ابوالقاسم ہے مدینہ میں پیدا ہوئے۔ قریشی اور بنو تمیم قبیلہ سے ہیں۔ یہ دس ہجری میں پیدا ہوئے، جنگ جمل و صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ پھر یہ مصر کے امیر بنے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمیشہ ان کی مدح و ثنا کرتے اور ان کے فضائل بیان کرتے۔ یہ عبادت و ریاضت کے ساتھ مشہور تھے۔ 38 ہجری میں شہید ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 425۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 245) کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوارِ خلافت کے دوران بھی اور اپنی پوری حیات مستعار میں افتاء کا شعبہ کامیابی اور بھرپور دیانت سے جاری رکھا۔
(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375۔ تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 49، صفحہ 165۔ دونوں روایات قاسم بن محمد سے مروی ہیں۔
(موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المومنین لسعید الدخیل: صفحہ 55
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت طویل نہ تھی۔ دو سال تین ماہ اور دس دن تک مسند خلافت پر فائز رہنے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفات پائی۔ وہ تقریباً پندرہ دن تک بیمار رہے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے رہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والد محترم کی خدمت پر مسلسل مامور رہیں۔ اس دوران وہ عربوں کے کہے ہوئے اشعار کے ذریعے والد محترم خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دل کو تسلی دیتیں۔ وہ اپنی پیاری بیٹی کو تنبیہانہ اور ناصحانہ انداز میں کہتے کہ اشعار کی بجائے قرآن کریم کی آیات پڑھا کرو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت جب قریب آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حاتم (شاعر عرب) کا یہ شعر پڑھا:
لَعَمْرُکَ مَا یُغْنِی الثَّرَائُ عَنِ الْفَتَیِ
اِذَا حَشْرَجَتْ یَوْمًا وَ ضَاقَ بِہَا الصَّدْرُ
’’تیری عمر کی قسم! جس دن محشر میں جانا ہو گا اور سینے میں گھٹن ہو رہی ہو گی تو نوجوان کو اس کی دولت کوئی فائدہ نہ دے گی۔‘‘
تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے بیٹی! تو اس طرح نہ کہہ بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ:
وَ جَآءَتۡ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَـقِّ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ ۞ (سورۃ ق آیت 19)
ترجمہ: اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔