سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد میں سے اپنی وصیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کی
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی جملہ اولاد میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی وصیت سونپی کہ وہ اسے نافذ کریں۔ اسی وصیت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے تمھیں ایک باغیچہ (نحلتک حائطا: میں نے تمھیں ایک باغیچہ ہبہ کیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 104) ہبہ کیا تھا۔ لیکن میرے دل میں اس کے بارے میں ایک خلش ہے، لہٰذا تم وہ باغیچہ میرے ترکے میں شامل کر دو۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت کہا: ’’یہ صحیح ہے۔‘‘ انھوں نے وہ باغیچہ والد محترم کی میراث میں شامل کر دیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ وضاحت کر دی کہ بے شک جب سے مسلمانوں کا معاملہ (خلافت) ہمارے سپرد ہوا ہے ہم نے ان کے مال سے کبھی ایک دینار یا ایک درہم تک نہ لیا۔ تاہم ہم نے ان کے غلہ جات سے اپنے پیٹوں میں کچھ سخت (جَرِیْشٌ: موٹا پسا ہوا غلہ۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 6 صفحہ 272۔ المعجم الوسیط: جلد 1 صفحہ 117) لقمے ضرور ڈالے اور ہم نے اپنے اجسام پر ان کے کپڑوں سے چند کھردرے کپڑے ضرور پہنے اور ہمارے پاس مسلمانوں کی غنائم میں سے نہ کثیر ہے نہ قلیل ہے، سوائے اس حبشی غلام اور ایک پانی ڈھونے والے اونٹ کے (الناضح: جو اونٹنی دودھ کے لیے ہو یا جس پر پانی وغیرہ لادا جائے۔ یعنی گھریلو استعمال کے لیے۔ (فتح الباری لابن حجر رحمہ اللّٰہ: جلد 2 صفحہ 200) اور کچھ میلے کچیلے کپڑے۔ جُرْدُ قَطِیْفَۃٍ: جھالر دار چادر۔ (معجم القواعد العربیۃ لعبد الغنی الدقر: صفحہ 64) تو جب میں فوت ہو جاؤں تو تم یہ چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دینا اور خود ان چیزوں سے اپنی برأت کا اعلان کرنا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ’’میں نے ایسے ہی کیا۔‘‘جب قاصد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور وہ کہہ رہے تھے:
’’اللہ ابوبکر پر رحم کرے، بے شک انھوں نے اپنے بعد آنے والوں کو تھکا دیا۔ اللہ ابوبکر پر رحم کرے بے شک انھوں نے اپنے بعد آنے والوں کو مشقت میں ڈال دیا۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 3 صفحہ 196)