Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عمر رضی اللہ عنہما میں

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی قدر و منزلت ظاہر ہونے لگی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سمیت کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی، خصوصاً وہ معاملات جن کا تعلق لوگوں سے ہو تو وہ ان کے متعلق ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی پوچھا کرتے۔ چنانچہ محمود بن لبید ( محمود بن لبید بن رافع ابو نعیم الانصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ اپنے وقت کے مشہور عالم تھے۔ 96 یا 97 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبرجلد 1 صفحہ 430۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 42)رحمہ اللہ سے روایت ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی ا للہ عنہن کو بکثرت احادیث یاد تھیں تاہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس معاملے میں بے مثال تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت سے تاحیات فتویٰ دیتی رہیں اور سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار خلافت کے بعد بھی اکابرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کثرت سے مسائل لے کر آتے اور ان سے استفادہ کرتے۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امہات المومنینؓ کا بہت خیال رکھتے ، کثرت سے ان کی خبر گیری کرتے اور جب انھوں نے خیبر کے محاصل تقسیم کیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو خیبر کی زمین سے کچھ مخصوص کر دیا جائے اور اگر وہ چاہیں ہر سال اپنے لیے سو سو بوری پھل لے لیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کھجوریں لینے کا انتخاب کیا۔

(صحیح مسلم: 1551 بروایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔ 

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امہات المومنینؓ کا اس قدر احترام کرتے اور ان کی اس قدر فکر ہوتی کہ جب امہات المومنینؓ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حج پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور انھیں حکم دیا کہ ’’ان دونوں میں سے ایک ان کی سواریوں کے آگے چلے اور ایک ان کے پیچھے چلے اور ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ان کی سواریوں کو نہ ہانکے۔‘‘ انھوں نے حکم دیا کہ ’’جب وہ پڑاؤ کریں تو تم ان کا پڑاؤ کسی سرسبز گھاٹی میں ڈالنا۔ پھر تم دونوں گھاٹی کے راستے پر پہرہ دینا۔ ان کے پاس کوئی ہرگز نہ جائے۔‘‘پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ ’’جب وہ طواف کرنے لگیں تو عورتوں کے علاوہ کوئی مرد ان کے ساتھ طواف نہ کرے۔‘‘

عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے حصوں کے مطابق بھیڑ، بکریاں اور اونٹ ہماری طرف بھیجتے تھے۔‘‘

(الموطا لمالک: حدیث: 927 بحوالہ الاموال لابن زنجویہ۔ الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 203)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے خصوصی اہمیت تھی۔ انھوں نے تمام امہات المومنینؓ کا سالانہ وظیفہ دس ہزار مقرر کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وظیفہ بارہ ہزار مقرر کیا اور فرمایا: ’’بے شک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی ہیں۔‘‘

(الامالی للمحاملی: صفحہ 242۔ اعتدال القلوب للخرائطی: صفحہ 25۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 9۔ اس نے کہا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن مطرف بن طریف کے ارسال کی وجہ سے ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا

اسی طرح فتوحات عراق کے غنائم میں ایک ہیرا آیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وصول کیا۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کیا تمھیں اندازہ ہے اس کی قیمت کیا ہو گی۔ انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور نہ انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اسے کیسے تقسیم کریں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے بھیج دوں۔ ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی محبت تھی۔ سب نے بیک زبان کہا: ہمیں منظور ہے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ہیرا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیج دیا۔ انھوں نے اسے دیکھ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے عمر بن خطاب کو کتنی کشادگی عطا کی۔ اے اللہ! آئندہ کے لیے تو مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے عطیہ لینے کی مہلت نہ دے۔

(مسند احمد (فضائل الصحابۃ): حدیث: 1642۔ مسند ابن راہویہ: جلد 2 صفحہ 9۔ ذہبی نے اسے مرسل کہا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 190)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت و جلالت کی قدر کرتی تھیں۔ ان کی مسند میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعدد احادیث مروی ہیں اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت دے دیں۔ سیّمدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آپ پر سیّمدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دی اور انھیں اجازت دے دی۔ وہ فرماتی ہیں: ’’میں خود اس جگہ پر دفن ہونا چاہتی تھی لیکن آج میں اپنی ذات پر انھیں ترجیح دیتی ہوں۔‘‘

(صحیح بخاری: 1392 ۔ عمرو بن میمون کی روایت ہے۔)

آپ ذرا غور کریں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ام المومنینؓ کا کتنا ادب و احترام تھا کہ ان کی سانسیں گنی جا چکی ہیں، وہ موت کی آغوش میں ہیں، اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہیں: تم ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور انھیں کہنا کہ عمر آپ کو سلام کہتا ہے اور تم امیر المومنین نہ کہنا کیونکہ میں آج مومنوں کا امیر نہیں ہوں اور تم کہنا: عمر بن خطاب اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر جا کر سلام کیا، پھر اندر جانے کی اجازت طلب کی۔ پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ بیٹھی رو رہی ہیں ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے وہ جگہ اپنے لیے پسند کی ہوئی تھی۔ تاہم آج میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے آپ پر (عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ابو عبدالرحمٰن قریشی، عدوی۔ زہد و ورع میں اپنے زمانہ کے امام تھے۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسرے سال مکہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہجرت کی صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی انتہائی جانفشانی سے پیروی کرتے اور کثرت سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ مشہور عابد تھے۔ حج و عمرہ کے دلدادہ تھے۔ 73 یا 74 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 289۔ الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 564۔) ضرور ترجیح دوں گی۔

جب سیدنا عبداللہ واپس پہنچے تو لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا یہ عبداللہ آ گئے ہیں۔ وہ کہنے لگے مجھے اٹھاؤ، تو ایک آدمی نے انھیں اپنا سہارا دے کر بٹھایا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً پوچھا تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ انھوں نے جواب دیا: اے امیر المومنینؓ آپ جو چاہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الحمدللہ، میرے لیے اس سے زیادہ کوئی چیز اہم نہ تھی۔ میری روح جب قبض کر لی جائے تو مجھے اٹھا کر چل دینا اور پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہنا اور دوبارہ ان سے اجازت طلب کرنا اور کہنا عمر بن خطاب یہاں دفن ہونے کی اجازت طلب کررہا تھا۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے لحد میں اتارنا اور اگر وہ میری درخواست رد کر دیں تو تم مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں لے جانا۔

(صحیح بخاری: 1392۔ یہ عمرو بن میمون کی روایت ہے۔)