تیسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عثمان رضی اللہ عنہ…

تیسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان یونہی احترام و تقدس کا رشتہ قائم رہا۔ دونوں ایک دوسرے کا خوب لحاظ کرتے۔ بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک دن اپنے گھر میں ہی ظالمانہ و مفسدانہ محاصرے کے بعد مظلومانہ طور پر شہید کر دیے گئے۔

چنانچہ سب سے پہلے خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہی کیا اور یہ کہ ان پر ظلم کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ آئندہ صفحات میں ان شاء اللہ اس کی تفصیل آئے گی۔

اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کی آخری لمحات تک سیدہ عائشہ سمیت تمام ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی خدمت و عزت و احترام میں کوشاں رہے۔

ان دنوں میں فسادیوں اور شورش پسندوں کا مدینہ منورہ پر غلبہ ہو گیا اور ان کی خباثتوں میں یہاں تک اضافہ ہو گیا کہ جب ہماری امی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عثمان رضی اللہ عنہ تک جبکہ وہ اپنے گھر میں محصور تھے، پانی پہنچانے کی کوشش کی تو ان ظالموں نے بڑھ کر اس خچر کی رسیاں کاٹ ڈالیں جس پر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے پانی لا رہی تھیں اور ممکن تھا کہ وہ خود بھی خچر سے گر پڑتیں۔ (نَدَّ: خچر بدک گیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 5 صفحہ 35۔)

لیکن اس سے پہلے وہاں لوگ جمع ہو گئے اور انھوں نے شر پسندوں کو اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل سے باز رکھا۔

پھر لوگوں کے دلوں میں مفسدوں کی شر انگیزیوں کے باعث خوف چھا گیا اور اکثر لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ اس سال جب حج کے ایام شروع ہوئے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج پر روانہ ہوئیں۔ کسی نے کہا: اگر آپؓ مدینہ میں رہتیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ انھوں نے جواب دیا اگر میں مدینہ میں ہوتی تو مجھے اندیشہ تھا کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 7 صفحہ 209)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے بعد مدینہ منورہ واپس آ رہی تھیں تو انھیں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی افسوس ناک خبر راستے میں مل گئی۔ وہ وہاں سے مکہ واپس چلی گئیں وہ بالکل خاموش تھیں۔ بالآخر انھوں نے مسجد حرام میں داخل ہو کر حطیم کے اندر اپنے آپ کو چھپا لیا۔ جب لوگ ادھر آئے تو انھیں یوں مخاطب کیا: ’’اے لوگو! مختلف شہروں اور چشموں سے سازشی لوگ (الإرب: سازش۔ کہا جاتا ہے فلاں سازشی ہے اور مکار و فریبی ہے۔ (ادب الکاتب۔)  آئے اور مدینہ میں رہنے والے غلاموں کو ساتھ ملایا اور اس سے پہلے بھی نو عمر لوگ ایسی سازش کے لیے استعمال ہو چکے تھے۔ اگرچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اصلاح احوال کی بھرپور کوشش کی۔ متعدد معاملات میں ایسے اقدام کیے کہ ان کے علاوہ چارہ نہ تھا۔ تو ان کی ان کاوشوں اور اصلاحات کو بہانہ بنا کر شورش پسندوں نے سازش کو عملی جامہ پہنایا اور جب وہ دلائل اور حجت کے میدان میں لاجواب ( خلجوا: الاختلاج: و الاضطراب، مضطرب ہو گئے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 138۔)ہو گئے اور ان کا باطل پر جمع ہونا ثابت ہو گیا تو انھوں نے حدود سے تجاوز کرنے میں جلدی کی۔ چنانچہ وہ حرمت والے شہر میں، حرمت والے مہینوں میں ایک حرام خون بہانے کے مرتکب ہو گئے۔ انھوں نے حرمت والا شہر اپنے لیے حلال کر لیا اور حرام طریقے سے اموال لوٹے۔ اللہ کی قسم! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک انگلی زمین کے تہہ در تہہ خزانوں سے بہتر ہے اور اللہ کی قسم! جس نام نہاد عیب کو بہانہ بنا کر ان ظالموں نے ظلم ڈھائے اگر وہ ثابت بھی ہو جاتا تو عثمان رضی اللہ عنہ اس سے اس طرح بری ہوتے جس طرح خالص سونا میل کچیل سے علیحدہ ہوتا ہے یا میلا کپڑا صاف ہو جاتا ہے۔

(نبأ الشیء: تجافی و تباعد، دور چلا گیا۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 644) 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ پہلی گفتگو تھی جو اس حقیقت کی دلیل ہے کہ ان کے دل میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کس قدر قدر و منزلت تھی اور یہ کہ ان پر جتنے بھی اتہام اور الزامات لگائے جاتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انھیں مکمل طور پر ان سے بری الذمہ ہونے کا یقین رکھتی تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ امور خلافت میں کبھی کبھار وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالف رائے بھی ظاہر کرتی تھیں۔ لیکن یہ سب کچھ خیر خواہی کی نیت سے ہوتا تھا۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ 

(صحیح مسلم، حدیث: 55۔ سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے)

’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘

وہ دونوں (سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ) مجتہد تھے وہ صرف حق کی تنفیذ چاہتے تھے، ان دونوں کو ہر حال میں ایک یا دو اجر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔



صفحہ 2 از 2