Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد علی رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ خلافت سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں کوئی بڑا اختلاف نہیں تھا۔ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خلاف بغاوت پر اکساتا۔ بلکہ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد و احترام کا رشتہ قائم تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سب لوگوں سے زیادہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبے سے واقف تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جو مقام محبت تھا اس سے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ لاعلم نہیں تھے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخوبی علم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ وہ سیدہ عائشہؓ کے چچا زاد اور داماد بھی تھے، ان کا شمار بھی عشرہ مبشرہ میں ہے۔ ان کا جذبۂ جہاد، ان کی شجاعت و بہادری، ان کا فضل اور ان کی اسلام کی طرف اولیت جیسی صفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھیں۔

(اس موقف کی وضاحت بالتفصیل وہاں آئے گی جہاں سیدنا علی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے باہمی خوشگوار تعلقات پر گفتگو ہو گی)

علامہ طبری ( یہ محمد بن جریر بن یزید ابو جعفر طبری ہیں۔ اپنے وقت کے امام، عالم، مجتہد، مفسر اور بہت بڑے مورخ ہیں۔ 224ہجری میں پیدا ہوئے اور 310 ہجری میں فوت ہوئے۔ متعدد تالیفات اپنے پیچھے چھوڑ گئے جن میں سے مشہور ’’التفسیر‘‘ اور ’’تاریخ الامم و الملوک‘‘ ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 14 صفحہ 267۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 145) رحمہ اللہ نے احنف بن قیس ( یہ ضحاک بن قیس بن معاویہ ہیں ابو بحر تمیمی کنیت ہے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا لیکن آپﷺ کو دیکھ نہ سکے۔ جنگ صفین کے روز قائد الجیش تھے۔ فتح مرو الروذ میں شامل تھے۔ 68 ہجری یا اس کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 93۔ الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 187) سے روایت کی ہے کہ ہم حج کے ارادے سے آئے تو دیکھا کہ لوگ مسجد نبوی کے وسط میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ میں سیدنا طلحہ (یہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان ہیں ابو محمد القرشی التمیمی ان کی کنیت ہے۔ جلیل القدر صحابی ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں ان کا شمار ہوتا ہے اور سب سے پہلے اسلام لانے والے آٹھ آدمیوں میں شامل ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کے بوقت شہادت بنائی ہوئی چھ آدمیوں کی شوریٰ میں شامل تھے۔ غزوہ احد میں عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ 36ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 231۔ الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 529) اور زبیر رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے کہا کہ بلاشبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں۔ اب آپ دونوں صاحبان مجھے کس کی بیعت کا مشورہ دیں گے؟ ان دونوں نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو۔ ہم مکہ پہنچے۔ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملا۔ ہم نے انھیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی اور میں نے ان سے پوچھا اب آپؓ مجھے کس کی اطاعت کا حکم دیں گی؟ انھوں نے فرمایا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو۔ چنانچہ ہم مدینہ واپس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور میں واپس بصرہ آ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 34۔ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38) پر اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے۔ 

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عام بیعت ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں ان کا وہی احترام باقی رہا۔ بلکہ ان کے متعلق وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہیں۔ یعنی ان کی بیعت کرنے کی نصیحت کرتی رہیں۔ ابن ابی شیبہ (یہ عبداللہ بن محمد بن ابراہیم ابوبکر ہیں بنو عبس کے مولیٰ ہیں۔ اپنے وقت کے عالم متبحر اور بیش بہا تصنیفات کے مصنف ہیں۔ جن میں سے مشہور ترین کتاب ’’المصنف فی الاحادیث و الآثار‘‘ ہے۔ یہ 235 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلا للذہبی: جلد 21 صفحہ 142۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 242) رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف ’’المصنف فی الاحادیث و الآثار‘‘میں عمدہ سند کے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (یہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ خزاعی ہیں جو بنو خزاعہ کے مولیٰ تھے۔ ان کی صحبت نبوی میں اختلاف ہے۔ لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ صحابی ہیں۔ یہ قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتے اور علم فرائض کے ماہر تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ مکہ کے گورنر رہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ خراسان کے گورنر بنے اور جنگ صفین میں یہ انہی کے ساتھ تھے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 248 الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 282) رضی اللہ عنہ سے روایت لائے ہیں کہ عبداللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی جنگ جمل کے دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جب وہ ہودج (الہودج: کجاوہ یا پالکی جو اونٹ کے اوپر رکھی جاتی ہے اور عموماً دلہن یا معزز عورت اس میں بیٹھتی ہے۔ (تہذیب اللغۃ: جلد 6 صفحہ 28۔ المعجم الوسیط: جلد 2 صفحہ 976) (کجاوے) میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے کہا: اے ام المومنینؓ! کیا آپ کو یاد ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے تو میں مکہ میں آپ کے پاس آیا تھا اور پوچھا تھا کہ آپ مجھے کیا حکم دیں گی تو آپ نے کہا تھا: تو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو جا(یعنی ان کی بیعت کر لے)۔ پس وہ یہ سن کر خاموش ہو گئیں۔

سیدہ عائشہ، طلحہ، زبیر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے درمیان کچھ اختلاف مشہور ہے اسے بنیاد بنا کر ہر زمانے کے روافض، صحابہؓ پر سب و شتم کرتے ہیں۔ روافض کے تمام شبہات کا علمی رد ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں جنگ جمل کے ضمن میں تفصیلاً آئے گا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں خوارج کا فتنہ طاہر ہوا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی سرکوبی کے لیے متعدد مہمات بھیجیں۔ چونکہ اس وقت عراق و مصر کے باشندے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی دشنام طرازیوں کا نشانہ بناتے تھے تو ابن ہشام سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کرتے اور خوارج سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما دونوں پر لعن طعن کرتے تھے۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کے بارے میں پتا چلا تو فرمایا: ’’ان لوگوں کو حکم دیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کرو تو انھوں نے گالیاں دیں۔‘‘

(صحیح مسلم: 3022 )

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے مغفرت طلب کریں اور قاضی عیاض نے کہا: یہ اس وقت کی بات ہے جب انھوں نے یہ سنا کہ اہل مصر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرتے ہیں اور شام والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرتے ہیں اور حروری (خارجی) سب پر سب و شتم کرتے ہیں۔

خوارج جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے علیحدہ ہوئے تو وہ حروراء نامی بستی میں رہنے لگے، اس مناسبت سے انھیں حروری کہا جاتا تھا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے پوچھا: جب ہم طہر میں داخل ہو جائیں تو ہم روزوں کی قضا دیتی ہیں لیکن نماز کی قضا نہیں دیتیں تو انھوں نے فرمایا: ’’کیا تو حروریہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہمیں حیض آتا تو آپ ہمیں ایام حیض میں قضاء ہونے والی نمازوں کی ادائیگی کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔‘‘یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا: ’’چنانچہ ہم قضا نہیں دیتی تھیں۔‘‘

(کوفہ کے قریب ایک بستی ہے اسی کی نسبت سے خوارج کو حروری کہا جاتا ہے۔ (النہایۃ لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 366)

تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات سے ثابت ہوتا ہے ’’کیا تو حروریہ ہے؟‘‘ وہ اس فرقہ سے نفرت کرتی تھیں۔ اس کے مدمقابل یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احترام کرتی تھیں۔