پانچواں نکتہ
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں
(یہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما بن حرب ابو عبدالرحمٰن اموی ہیں۔ یہ کاتب وحی ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے گورنر تھے ان کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی اور شام میں ہی رہنے لگے جنگ صفین میں حکمین کے فیصلے کے بعد شام میں مستقل خلیفہ کی مسند پر فائز ہوئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے صلح کے بعد متفقہ طور پر خلیفۃ المسلمین بن گئے۔ یہ 60 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاصابۃ: جلد 151۔ششنقطی الاحادیث النبویۃ فی فضائل معاویۃ لمحمد الامین الشنقیطی۔)
جنگ جمل میں مسلمانوں کے کثرت سے جانی نقصان پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو شدید صدمہ پہنچا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو نماز، روزہ، صدقہ و خیرات، استغفار اور علوم سنت کی نشر و اشاعت کے لیے وقف کر دیا اور اپنے حجرے سے باہر نکلنا بالکل بند کر دیا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان باہمی تعلقات اتنے اچھے تو نہیں تھے جیسے گزشتہ ادوار میں خلفاء اربعہ کے ساتھ تھے۔ تاہم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت سے پہلے تعلقات کشیدہ نہ تھے۔ اگرچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت و منقبت کے قدردان تھے بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبہ میں تو وہ دونوں متفق تھے۔ اگرچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بھی پوری کوشش کی کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رابطہ مضبوط کر لیں لیکن کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ پیش آ جاتا جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس خواہش کو پورا نہ ہونے دیتا۔
(السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 147، 149 (مختصر)۔
جیسے سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاتی بھائی تھے۔ انھیں 38ہجری میں مصر میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا یہ وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے گورنر تھے تو وہاں معاویہ رضی اللہ عنہ کے حمایت یافتہ معاویہ ( یہ سیدنا معاویہ بن حدیج بن جفنہ ابو عبدالرحمٰن السکونی رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مصر کے گورنر بنے۔ یہ کم عمر صحابی تھے۔ یہ فتح مصر میں شامل تھے۔ فتح اسکندریہ کی بشارت لے کر یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ یہ جنگ یرموک میں بھی شامل تھے۔ 52 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 443۔ الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 147) بن حدیج سکونی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ان پر حملہ ہوا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لشکر کثیر کے ساتھ انھیں کمک دی۔ جس کے قائد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو شکست ہوئی اور وہ معاویہ بن حدیج کے قیدی بن گئے۔ تو انھیں قتل کر دیا گیا اور گدھے کی کھال میں ڈال کر ان کی لاش کو جلا دیا گیا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے بھائی کی مظلومانہ و سفاکانہ شہادت کی خبر ملی تو انھیں بہت صدمہ ہوا۔ چنانچہ اپنی نمازوں میں سیّدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے خلاف قنوت کرتی رہیں ۔پھر محمد رحمہ اللہ کے اہل و عیال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دئیے گئے۔ ان میں قاسم (یہ قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہم ہیں۔ ابو محمد ان کی کنیت ہے۔ نسب کے لحاظ سے یہ تیمی ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث کے عالم اور ان کے مکثر راوی ہیں۔ 106 ہجری یا اس کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 53۔ تہذیب التہذیب: جلد 4 صفحہ 522) بن محمد بن ابی بکر بھی شامل تھے۔
(تاریخ ابن جریر الطبری: جلد 3 صفحہ 83۔ نہایت الارب للنویری: ۲جلد 20 صفحہ 156)
معاویہ بن حدیج کے ہاتھوں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک ہوا سو ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حادثہ حق کہنے سے نہ روک سکا اور وہ یوں کہ جب سیدہ کو پتا چلا کہ معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ اہل مصر کے ساتھ نہایت فیاضی کا سلوک کر رہے ہیں تو فوراً ان کی تعریف کی چنانچہ جب عبدالرحمٰن بن شماسہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو اس سے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا: میں مصر سے آیا ہوں۔ انھوں نے پوچھا: تمہارے حکمران کا کیا حال ہے اور تمہارے ساتھ وہ کیسا سلوک کرتا ہے؟ اس نے بتایا: ہمیں اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ اگر ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جائے تو وہ اسے اونٹ دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام مر جائے تو اسے غلام دیتا ہے اور جو نان و نفقہ کا محتاج ہو اسے نان و نفقہ دیتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو کہنے لگیں: جو کچھ اس نے محمد بن ابی بکر سے کیا ہے وہ مجھے یہ بتانے سے منع نہیں کرتا کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں یہ فرماتے ہوئے سنا:
اَللّٰہُمَّ مَنْ وَلِیَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِیْ شَیْئًا فَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَاشْقُقْ عَلَیْہِ، وَ مَنْ وَلِیَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِیْ شَیْئًا فَرَفَقَ بِہِمْ فَارْفُقْ بِہ
(صحیح مسلم: 1828)
ترجمہ: ’’اے اللہ میری امت کا معاملہ جس شخص کے سپرد ہو اور وہ ان پر مشقت ڈالے تو تو بھی اس پر مشقت ڈال اور جس کسی کے سپرد میری امت کا کوئی معاملہ ہوا اور وہ ان سے نرمی کا سلوک کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔‘‘
محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے واقعہ کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تعلقات میں جو بگاڑ پیدا ہو گیا تھا اسے سنوارنے کے لیے معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ کے پاس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں وعظ و نصیحت کی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 183، 187)
جو واقعات و حوادث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے درمیان بگاڑ کا سبب بنے ان میں سے
دوسری مثال: مروان بن حکم (یہ مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ ہے۔ اس کی کنیت ابو عبدالملک ہے۔ خاندان قریش اور بنو امیہ میں سے ہے۔ یہ 2 ہجری میں پیدا ہوئے اور 4 ہجری کا بھی کہا گیا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد ہیں اور ان کی خلافت میں ان کے معاون بھی رہے۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شامل تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر بنے۔ یزید کی امارت کے ابتدائی عہد میں انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے جلا وطن کر دیا جو مدینہ میں واقعہ حرہ (قتل عام) کا ایک سبب بنا۔ یہ 65 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 83۔ الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 257)
2 جب معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا گورنر بنا اور حسن (یہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابو محمد کنیت ہے۔ خاندان قریش اور قبیلہ بنو ہاشم ہے۔ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔ 3 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد محترم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل عراق کے پاس چلے گئے۔ جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں تھے انھوں نے جنگ سے گریز کیا اور سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی۔ 49 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 113۔ الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 68) بن علی رضی اللہ عنہما کو حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفنانے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اجازت ملنے کے باوجود مروان نے انھیں وہاں دفن کرنے سے روک دیا۔
تیسری مثال: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ سے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی تسلیم کروانے کے لیے مروان کو حکم دیا اس موقع پر مروان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان جو تلخی ہوئی وہ کچھ یوں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کی طرف یزید کی جانشینی کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے خط لکھا۔ جو اس وقت حجاز کا گورنر تھا۔ مروان نے لوگوں کو جمع کیا، ان سے خطاب کیا اور یزید کا تذکرہ کیا اور اس کی بیعت لینے کے لیے لوگوں کو کہا۔ تب اسے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم آل ہرقل اپنی اولاد کے لیے بیعت کروانے کے لیے آئے ہو؟ چنانچہ مروان نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا اسے پکڑ لو۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے، سپاہی انھیں گرفتار نہ کر سکے۔ چنانچہ مروان نے پکار کر کہا یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری:
وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ ۞ (سورة الأحقاف آیت 17)
ترجمہ: اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ : تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو پردے کے پیچھے سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سوائے میری برأت کے ہمارے بارے میں قرآن میں کچھ نہیں اتارا۔‘‘
(صحیح بخاری: 4827)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کثرت سے گراں بہا عطیات ان کی خدمت میں بھیجا کرتے۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نیا لباس (استجد الثوب: نیا لباس خریدنا اور پہننا۔ (تاج العروس للزبیدی: جلد 7 صفحہ 478) نہیں پہنتی تھیں جب تک اپنے لباس میں اتنے پیوند نہ لگا لیتیں کہ اندر باہر ایک ہو جاتا۔ ( نکس الشیء: الٹا کرنا۔ بالائی سطح اندر کر دینا یا سر کی جانب نیچے کی طرف کرنا۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 679) ایک دن ان کے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اسی ہزار درہم آئے۔ لیکن شام تک ان کے پاس ایک درہم بھی نہ رہا۔ سب حاجت مندوں میں بانٹ دئیے۔ انھیں ان کی خادمہ نے کہا کاش آپؓ ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں۔ انھوں نے فرمایا: ’’اگر مجھے تو یاد دلاتی تو میں ضرور منگوا دیتی۔‘‘
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 8 صفحہ 67۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: جلد 2 صفحہ 67۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 187 )
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ خط و کتابت بھی کرتے اور ہر خط میں نصیحت کرنے کی درخواست کرتے ایک بار یوں لکھا: ’’یہ کہ آپ میری طرف خط لکھیں جو بہت طویل نہ ہو۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: ’’بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنِ الْتَمَسَ رِضَائَ اللّٰہِ بَسَخَطِ النَّاسِ، کَفَاہُ اللّٰہُ مُؤُوْنَۃَ النَّاسِ، وَ مَنِ الْتَمَسَ رِضَائَ النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ، وَکَّلَہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ
ترجمہ: ’’جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے لوگوں کو ناراض کر دے اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کی طرف سے کافی ہو جائے گا اور جو شخص لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔‘‘ و السلام علیک۔ (اور تجھ پر سلامتی ہو)‘‘
(سنن ترمذی: 2414۔ اس کی اسناد کو ابن مفلح رحمہ اللہ نے (الآداب الشرعیۃ: جلد 1 صفحہ 164) پر جید کہا ہے اور الشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے
ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے کی مخالفت کی ہو۔ البتہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض افعال کا انکار ضرور کیا ہے۔ خصوصاً جب حجر بن عدی قتل کیے گئے تو اس وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے سخت باتیں ضرور کیں۔
العواصم من القواصم کا منصف کہتا ہے:
’’ اکثر علماء کے نزدیک حجر بن عدی رحمہ اللہ تابعی تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابیہ کو کوفہ کا گورنر بنایا تو وہ ایک بار خطبہ جمعہ دے رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے خطبہ کو اتنا طویل کیا کہ نماز کا وقت گزرنے کے قریب ہو گیا۔ حُجر بن عدی کھڑا ہو گیا اور اسے کنکری مارتے ہوئے پکارنے لگا۔ نماز، نماز، اور اسے اتنے پتھر مارے کہ لوگ بھی مشتعل ہو گئے اور وہ بھی اسے پتھر مارنے لگے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کا پتا چلا تو انھوں نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ لوگوں کو بغاوت پر اکسانا چاہتا تھا۔
شاید سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے استدلال کیا: ’’جب تم متحد و متفق ہو اور کوئی شخص تمہارے درمیان آ کر تفرقہ پھیلانا چاہے تو تم اسے قتل کر دو۔‘‘ ابن العربی نے لکھا: اگر یہ کہا جائے حجر ابن عدی کو قتل کر دیا گیا اور وہ صالح صحابی تھا، زیاد کے حکم پر اسے قیدی بنایا گیا پھر اسے باندھ کر قتل کر دیا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تحقیق کے لیے اور اس کے معاملے کی چھان بین کے لیے قاصد بھیجا۔ لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی حجر قتل ہو چکا تھا۔
تو ہم یہ کہیں گے ہمیں مکمل طور پر حجر کے قتل ہونے کا علم ہو گیا۔ لیکن کئی وجوہ سے اختلاف ہے۔ کچھ کہنے والے کہتے ہیں: اسے ظلماً قتل کیا گیا اور کچھ کہنے والے کہتے ہیں : اس کا قتل صحیح ہوا۔ اگر کوئی کہے درحقیقت اسے ظلماً ہی قتل کیا گیا۔ بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ اسے قتل کرنا ضروری تھا۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ اصول یہ ہے کہ امام المسلمین کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بطورِ سزا قتل کر دے لہٰذا جو کہتے ہیں کہ اسے ظلماً قتل کیا گیا تو اس پر اس دعویٰ کی دلیل لانا واجب ہے۔ اگر فقط ظلماً ہی قتل کیا گیا تھا تو پھر ایسا ضرور ہوتا کہ ہر گھر سے معاویہ پر لعنت کی جاتی۔ لیکن واقعہ اس کے برعکس ہے۔ چونکہ بغداد عباسی خلفاء کا دار الخلافہ تھا جسے دار السلام کہا جاتا ہے اور بنو عباس اور بنو امیہ کے درمیان جو عداوت تھی وہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ وہاں کی تمام مساجد کے دروازوں پر یہ تحریر نمایاں تھی: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ان کے بعد عمر، پھر عثمان پھر علی پھر معاویہ جسے مومنوں کے ماموں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رضی اللہ عنہن
لیکن جو کچھ کہا جاتا ہے کہ حجر نے زیاد میں کچھ منکرات دیکھیں تو اس نے اسے پتھر مارا اور اس کی بیعت سے انکار کر دیا اور اس نے لوگوں کو فتنہ و فساد پر ابھارنے کی کوشش کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے زمین میں فساد پھیلانے والا شمار کیا اور حج کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے حجر کے معاملے پر بات کرنا چاہی تو انھوں نے کہا: آپؓ مجھے اور حجر کو چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ ہم اللہ سے جا ملیں وہاں جا کر جو فیصلہ ہو گا وہ ہمیں منظور ہے۔ تو اے اہل اسلام تمہارے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ تم ان دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو، وہی ان دونوں کے درمیان عادلانہ اور دیانت دارانہ فیصلہ کرے گا۔ جو بالکل صحیح ہو گا اور روز محشر کا وہی بادشاہ ہے اور تمھیں اپنے داخل ہونے کے مقام کا شعور نہیں تو پھر کیا وجہ ہے تم سنتے کیوں نہیں۔‘‘
(العواصم من القواصم: صفحہ 220 )
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت بیس سالہ مدت پر پھیل گئی جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی خلافت کے اٹھارویں سال کے بعد فوت ہو گئیں۔