امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) سود خور تھا۔ (ابن ماجہ، السنن الکبریٰ، طحاوی)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) سود خور تھا۔
(ابن ماجہ، السنن الکبریٰ، طحاوی)
الجواب اہلسنّت
1: خوف آخرت نہ ہو تو بندہ بڑے سے بڑا جھوٹ بول کر بھی مطمئن ہی رہتا ہے کہ کس نے دیکھا اور کس کو پتہ! ورنہ آخرت کا ڈر رکھنے والے یوں بے خوفی سے جھوٹ پر جھوٹ نہیں بولتے ملاحظہ فرمائیے بات کو توڑ موڑ کر الزام دھرنے کی کیسی کیسی کوششیں کی جاتی ہیں۔ امام ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رحمہ اللہ نے سونے کو سونے کے مقابلے میں فروخت کرنے پر اعتراض کیا اور نکیر فرمائی مگر حقیقت میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس کی بیع کی تھی وہ ایک ہار تھا جس میں صرف سونا نہیں تھا بلکہ سونے کے علاوہ دیگر ہیرے جواہرات وغیرہ بھی تھے تو حضرت امیر معاویہ نے اس کو 600 کے بدلے خریدا اس میں سود کا تصور بھی نہیں چاہیۓ کہ سود ہو۔
2: اگر کوئی ایسی چیز ہو جس میں سونا اور اس کے علاوہ دوسری کوئی چیز جڑی ہوئی ہو تو اس کی بیع کمی پیشی سے کرنا جائز ہے اس کی دلیل امام طحاوی رحمہ اللہ نے حضرت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کیا ہے کہ ایک تلوار جس کے دستے پر سونے کا کام کیا ہوا تھا وہ خریدی تھی اس کی قیمت اس سونے کے برابر نہ تھی معلوم ہوا ایسی چیز جس پر سونا اور بھی کچھ ہو تو اس کی بیع جائز ہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا جس پر شیعہ لوگوں نے تعصب کے عینک لگا الزام تراش نکالا ہم اس مسئلے پہ گزشتہ الزامات میں چند معروضات پیش کرچکے ہیں ملاحظہ فرمائیے
خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کو شیعہ لوگوں نے سود قرار دیا ہے وہ سود ہی نہیں محض سینہ زوری سے الزام کی بڑھ مار دی ہے۔