Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفات ان کا علمی اور دعوتی مقام و مرتبہ

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفات ان کا علمی اور دعوتی مقام و مرتبہ

پہلا مبحث: شخصی اوصاف

رنگ و روپ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے وقت کی خوبصورت گندمی سفید رنگ سے متصف تھیں۔ اسی لیے ان کا لقب حمیراء (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 1 صفحہ 168۔) بھی تھا۔ عرب چونکہ خالص سفید رنگ کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ وہ برص سے مشابہ ہوتا ہے۔ اس لیے گندمی رنگ عربوں کے ہاں خوبصورت ترین رنگوں میں شمار ہوتا ہے۔

(البدء و التاریخ لابن طاہر المقدسی: جلد 5 صفحہ 11۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 25 صفحہ 140۔)

جسمانی کیفیت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رخصتی کے وقت دبلی پتلی تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وہ قدرے موٹی ہو گئی تھیں۔ چنانچہ وہ اپنے متعلق کہتی ہیں:

’’ایک بار میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ گئی۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب میں فربہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کا بدلہ ہے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 39، حدیث: 24164۔ صحیح سنن ابی داود للالبانی: الصحیح المسند للوادعی: 1631)

قد و قامت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قدرے طویل القامت تھیں۔ چنانچہ ایک بار سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو انھوں نے پست قد ہونے کا طعنہ دیا تھا۔

زلفیں:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سر کے بال بچپن میں طویل تھے۔ پھر بیماری کی وجہ سے ان کے زیادہ بال گر گئے اور کندھوں تک پہنچ گئے۔ جبکہ ان کی عمر چھ سال ہوئی۔ پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بال بھی دوبارہ اگ آئے اور لمبے بھی ہو گئے۔ وہ کہتی ہیں: ’’جب میں چھ سال کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم بنو حارث بن خزرج کے پاس ٹھہرے۔ مجھے شدید بخار ہو گیا جس کی وجہ سے میرے بال جھڑ گئے۔ (فتمرق: یعنی جھڑ گئے اور کم ہو گئے۔ (الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 2 صفحہ 249۔ مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 1 صفحہ 377۔ غریب الحدیث لابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 354۔ النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 320)

 حتی کہ کانوں تک آ گئے۔

(صحیح بخاری: 3894۔ صحیح مسلم: 1422۔ )

واقعہ افک کے دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ ام رومان کا یہ کہنا بھی ان کے حسن و جمال میں مزید بڑھوتری کی دلیل ہے:

’’اے بیٹی تم اس معاملہ کو اپنے اوپر ہلکالو۔ اللہ کی قسم! جب بھی کوئی خوبصورت عورت کسی مرد کے پاس ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو اس کے خلاف باتیں تو بنتی ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 2661۔ صحیح مسلم: 1422 )

ایک روایت میں ہے:

’’بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حسین و جمیل عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو اور وہ اس سے محبت نہ کرتا ہو۔‘‘

(صحیح بخاری: 4757 )

اس بات پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ قول بھی دلالت کرتا ہے جو انھوں نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے کہی تھی:

’’تجھے ہرگز اس دھوکے میں نہ پڑنا چاہیے اگر تیری ہمسائی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) تجھ سے زیادہ حسین ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘

(صحیح بخاری: 24

68۔ صحیح مسلم: 1479۔)