دوسرا مبحث علمی اور دعوتی مقام و مرتبہ
علی محمد الصلابیعلمی اور دعوتی مقام و مرتبہ
تمہید: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو سال کی عمر میں ہی اپنے باپ کے گھر سے سب سے بڑے مربی، معلم اور مؤدِب انسانیت کے گھر منتقل ہوئیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ انھیں وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کے سائے تلے رکھتے اور وہ بھی ہمیشہ آپﷺ کے افعال، سیرت و کردار اور معمولات کو اپنے لیے مشعل راہ بناتیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بزبان خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے تنبیہات و توجیہات کو من و عن پوری دیانت داری اور بغیر لگی لپٹی تاحیات بیان کرتی رہیں اور جہاں جہاں ان کی غلطی کی نشان دہی کی گئی بلا کم و کاست و بلا جھجک اس غلطی کو کھل کر بیان کر دیتیں اور ان کا یہی انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ارشادات کی تبلیغ میں ان کی امانت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کو صفیہ کا ایسا ایسا ہونا کیا اچھا لگتا ہے؟
راوی حدیث کہتا ہے کہ انھوں نے ان کے چھوٹے قدکی طرف اشارہ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک تم نے ایسا لفظ بولا ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملایا جائے تو اسے بھی وہ کڑوا کر دے۔‘‘
(سنن ابی داود: 4857۔ صحیح سنن ابی داود للالبانی)
2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی انسان کے عیوب کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
مَا اُحِبُّ اَنِّیْ حَکَیْتُ اِنْسَانًا وَ اَنَّ لِیْ کَذَا وَ کَذَا
(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 136، حدیث: 25094۔ سنن ترمذی: حدیث: 2502۔ و بیہقی: جلد 15 صفحہ 247، حدیث: 20954۔
’’میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کے عیوب کا تذکرہ کروں اور مجھ میں ایسے ایسے عیوب موجود ہوں۔‘‘
3۔ عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے اور کہا: السام علیکم (تم پر ہلاکت ہو)۔ سیّمدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کی بات سمجھ لی۔ تو میں نے کہا: تم پر بھی (ہلاکت) ہو اور لعنت ہو۔‘‘
وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اے عائشہ! رک جاؤ! بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند کرتا ہے۔ تو میں نے کہا: اے رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں جو انھوں نے کہا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے بھی کہہ دیا: و علیکم (اور تم پر بھی ہو)۔‘‘
(اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے)
4۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا: اے ابو القاسم! السام علیک (آپ پر ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’و علیکم (اور تم پر بھی ہو)۔‘‘
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہتی ہیں : ’’میں نے کہا بلکہ تم پر ہلاکت و مذمت یا لعنت ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! تم بدکلامی نہ کرو۔ تو انھوں نے کہا: کیا جو انھوں نے کہا آپ نے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو انھوں نے کہا کیا میں نے اسے انھیں پر لوٹا نہیں دیا؟ میں نے کہا: و علیکم (اور تم پر بھی ہو)۔‘‘
( اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے)
5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں فرمایا کرتے تھے:
’’اے عائشہ! تم بظاہر ہلکے گناہوں سے ضرور اجتناب کیا کرو۔ کیونکہ اللہ عزوجل ان کے بارے میں بھی باز پرس کرے گا۔‘‘
( اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجیہات و ارشادات کو بہت جلد قبول کرتیں اور کوشش کرتیں کہ آپﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں اس حقیقت پر ان کی یہ روایت دلالت کرتی ہے:
’’آپ رضی اللہ عنہا نے ایک بچھونا یا تکیہ خریدا جس میں کچھ تصاویر نقش تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے میں رک گئے اور اندر تشریف نہ لائے۔
بقول عائشہ رضی اللہ عنہا میں نے آپﷺ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے اثرات دیکھے تو کہا: اے رسول اللہ! میں اللہ اور رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بچھونا کہاں سے آیا یا کون لایا؟ تو انھوں نے کہا: میں نے تو یہ آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپﷺ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اَصْحَابَ ہٰذِہِ الصُّوَرِ یُعَذَّبُوْنَ، وَ یُقَالُ لَہُمْ: اَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ۔ ثُمَّ قَالَ: اِنَّ الْبَیْتَ الَّذِیْ فِیْہِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُہُ الْمَلَائِکَۃُ
(صحیح بخاری: 2510۔ صحیح مسلم: 2107)
’’بے شک یہ تصویریں بنانے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور انھیں کہا جائے گا جو تم نے تخلیق کیا اسے زندہ کرو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک جس گھر میں تصویریں ہوں فرشتے اس میں نہیں آتے۔‘‘
صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:
’’میں نے بچھونا لے کر اس کی دو چادریں بنا دیں جنھیں آپ گھر کے اندر اوڑھتے تھے۔‘‘
(صحیح مسلم: 2107)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کے متعلق ہمیں بتاتی ہیں جو کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے تھے۔ جب ان سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’کیا تو قرآن نہیں پڑھتا؟‘‘ اس نے کہا: کیوں نہیں (پڑھتا ہوں )۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق قرآن تھا۔‘‘
(صحیح مسلم: 746)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتی ہیں:
’’آپﷺ بدگو اور بدکردار نہیں تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور و غل کرتے تھے اور نہ آپﷺ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، لیکن آپﷺ عفو و درگزر کرتے تھے۔‘‘
(سنن ترمذی: 2016۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 174، حدیث: 25456۔ مسند طیالسی: جلد 3 صفحہ 125۔ صحیح ابن حبان: جلد 14 صفحہ 355، حدیث: 6443 ۔ بیہقی:جلد 7 صفحہ 45، حدیث: 13682۔ ترمذی نے کہا حسن، صحیح اور البانی رحمہ اللہ نے اسے (صحیح سنن ترمذی: 2016) میں صحیح کہا ہے۔ وادعی رحمہ اللہ نے (الصحیح المسند: 1592) میں اسے صحیح کہا اور شعیب ارناؤوط نے اسے مسند احمد کی تحقیق کے دوران (جلد 6 صفحہ 174) پر صحیح کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حسن خلق کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَۃَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ
(سنن ابی داود: 4798۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 133، حدیث: 25057۔ صحیح ابن حبان: جلد 2 صفحہ 228، حدیث: 480۔ مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 128۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 6 صفحہ 236، حدیث: 7997۔ ابن مفلح نے (الآداب الشرعیۃ: جلد 2 صفحہ 195) میں کہا: اس روایت کے سب راوی ثقہ ہیں اور مطلب نامی راوی کے بارے میں ابوزرعہ رحمہ اللہ نے کہا، مجھے امید ہے کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنی ہو گی اور ابو حاتم نے کہا: اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔ علامہ سیوطی نے اسے (الجامع الصغیر: 2098) میں حسن کہا اور البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ابی داود: 4798) پر اسے صحیح کہا ہے۔
’’بے شک مومن حسن اخلاق کے باعث روزہ دار اور تہجد گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔‘‘