Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مکارم و محاسن اخلاق

  علی محمد الصلابی

ان کے علاوہ بھی متعدد روایات ان سے مروی ہیں جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات پر بہت گہرے نقوش چھوڑے اور ان کی سیرت و کردار اعلیٰ مکارم و محاسن اخلاق سے مزین ہو گئے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عبادت کا انداز:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عبادت کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و معمولات سے بہت زیادہ متاثر تھیں، کیونکہ سب لوگوں سے زیادہ یہی آپﷺ کے قریب ترین رہنے والی شخصیت ہیں اور آپﷺ خاص اوقات میں جو عبادت کرتے تھے اس کا حال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی زیادہ جانتی تھیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر میں عبادت کی اکثر روایات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہیں، جن سے سیدہ عائشہؓ کی تمام عبادات کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے۔

(سیرۃ سیّدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 308۔ السیدۃ عاسیۃ ام المؤمنین و عالمۃ نساء الاسلام لعبد الحمید طہماز: صفحہ 161)

سب سے تعجب خیز حدیث وہ ہے جس میں عبادت کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مکالمہ ہوا اور جسے ابن عمیر نے روایت کیا۔ ان کے بقول:

’’ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سب سے انوکھی خبر دیں جو کچھ سیدہ عائشہؓ نے دیکھا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔

پھر یہ حدیث بیان کی کہ ایک رات کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! تو مجھے جانے دے تاکہ آج رات اپنے رب کی عبادت کر لوں۔‘‘

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپﷺ کا قرب چاہتی ہوں اور آپﷺ کو خوش کرنا چاہتی ہوں۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ اٹھے وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔

وہ بیان کرتی ہیں، آپﷺ اتنا روئے کہ آپﷺ کہ گود بھیگ گئی۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ پھر رونے لگے حتیٰ کہ آپﷺ کی داڑھی تر ہو گئی۔

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ پھر اتنا روئے کہ زمین تر ہو گئی۔ تب بلال رضی اللہ عنہ آپﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے۔ انھوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو کہا: اے رسول اللہ! آپ کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ بے شک آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی، اس شخص کے لیے ہلاکت ہو جو اسے پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَالۡفُلۡكِ الَّتِىۡ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِمَا يَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ کُلِّ دَآ بَّةٍ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ۞ (سورة البقرة آیت 164)

ترجمہ: بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات دن کے لگاتار آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لیکر سمندر میں تیرتی ہیں اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 620۔ منذری نے اسے (الترغیب و الترہیب: جلد 2 صفحہ 316) میں صحیح کہا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب میں اسے حسن کہا ہے اور وادعی نے اسے (الصحیح المسند: 1654۔) میں روایت کیا جبکہ اس کی اصل صحیحین میں ہے۔)

تو اس لحاظ سے اس جیسے واقعات کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل پر بڑا گہرا اثر تھا۔ جس سے ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بہت ہی مضبوط ہو گیا۔ نتیجتاً وہ کثرت سے عبادت کرنے والی، اللہ کے حضور کثرت سے قیام کرنے والی اور دائمی تہجد گزار تھیں ۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 8 صفحہ 454، حدیث: 15887)

قاسم رحمہ اللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما اپنی پھوپھی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ طویل قیام کرتی تھی۔ وہ کہتے ہیں:

’’میں جب صبح کو اٹھتا تو اپنی پھوپھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ابتداء کرتا۔ سب سے پہلے انھیں سلام کرتا ایک بار میں جب صبح وہاں گیا تو دیکھا وہ نفل نماز میں یہ آیت پڑھی رہی تھیں:

 فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَوَقٰٮنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ۞(سورۃ الطور آیت نمبر 27)

ترجمہ: آخر اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا، اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔

وہ دعا کر رہی تھیں اور رو رہی تھیں اور وہ یہ آیت بار بار دہرا رہی تھیں میں نے کھڑے ہو کر انتظار کیا تاآنکہ میں اکتا گیا اور بازار میں اپنے کام کے لیے چلا گیا۔ پھر میں واپس لوٹا تو دیکھا کہ وہ اسی طرح نماز پڑھتے پڑھتے رو رہی ہیں۔‘‘

(ابن ابی دنیا نے اسے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جیسا کہ یہ روایت فتح الباری میں ہے۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 4 صفحہ 247۔) اور ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے (صفۃ الصفوۃ: جلد 2 صفحہ 31) پر روایت کیا ہے

عبداللہ بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ کو مدرک یا ابن مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ مسائل پوچھنے کے لیے ان کے پاس بھیجا۔

بقول راوی:’’میں ان کے پاس گیا تو وہ اشراق کے نوافل پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا میں ان کے فارغ ہونے تک بیٹھتا ہوں۔ تو ان کے پاس والوں نے کہا تو نے بہت مشکل فیصلہ کیا۔ یعنی تجھے طویل انتظار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ رکوع، سجود اور قیام کو طویل کرتی ہیں۔‘‘

(مسند احمد:جلد 6 صفحہ 125، حدیث: 24989۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے (مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 356۔) میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور شعیب الارناؤط نے اسے مسند احمد کی تحقیق کرتے ہوئے صحیح کہا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز تراویح کا خصوصی اہتمام کیا کرتی تھیں۔ جب رمضان آتا تو وہ اپنے خادم ذکوان کو حکم دیتیں وہ مصحف سے دیکھ کر ان کی امامت کرتا۔

(امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں (حدیث: 692۔) سے پہلے معلق روایت کیا۔ لیکن صیغہ روایت قطعی ہے۔ بیہقی نے اسے موصول روایت کیا ہے۔ جلد 2 صفحہ 253، حدیث:  3497) نووی رحمہ اللہ نے ’’الخلاصۃ‘‘ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (جلد 1 صفحہ 500۔) دیکھیں: (تغلیق التعلیق لابن حجر: جلد 2 صفحہ 290)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قیام کرنے کی تفصیل بتاتے ہوئے فرماتی ہیں :

’’میں ہر ماہ کی چودہ تاریخ (لیلۃ التمام: ہر مہینے کی چودھویں رات کیونکہ اس میں چاند پورا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال کی سب سے بڑی رات مراد ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 536)  یا سال کی سب سے بڑی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرتی۔ تو آپﷺ سورۃ البقرۃ، النساء اور آل عمران پڑھتے۔ جب بھی آپﷺ کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو آپﷺ اس میں رغبت کرتے اور اس کے حصول کے لیے دعا کرتے اور جب کسی وعید والی آیت سے گزرتے تو آپ اس وعید سے بچنے کے لیے دعا کرتے اور اس سے پناہ طلب کرتے۔‘‘

(مسند احمد:جلد 6 صفحہ 92۔ تفسیر ابی یعلیٰ: 4842۔ حافظ نے اسے ’’نتائج الافکار‘‘ کی جلد 3 صفحہ 155 پر حسن کہا ہے اور البانی نے (صفۃ الصلاۃ: جلد 2 صفحہ 506) میں کہا اس کی سند جید ہے۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کمرے میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کیا کرتی تھیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آواز دی گئی: نماز باجماعت کے لیے آ جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے پھر سجدوں کے بعد آپﷺ کھڑے ہو گئے پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: میں نے اس دن کے رکوع اور سجدوں سے زیادہ طویل رکوع اور سجدے کبھی نہ کیے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1051۔ صحیح مسلم: 2152)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ہمیشہ نوافل پڑھتی تھیں، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتی تھیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتی تھیں :

اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ مَا دُوْوِمَ عَلَیْہِ، وَ اِنْ قَلَّ۔

’’بے شک اللہ تعالیٰ کو وہی اعمال محبوب ترین ہیں جن پر دوام اختیار کیا جائے، اگرچہ وہ کم ہوں۔‘‘

نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل شروع کرتے تو اسے ہمیشہ کے لیے جاری کر دیتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5861۔ صحیح مسلم: 782۔)

اپنی مخصوص نفلی عبادت ادا کرنے سے پہلے اگر سو جاتیں تو اس کی قضا دیتیں۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ’’قاسم بن محمد ان کے پاس نماز فجر سے پہلے گئے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ قاسم نے ان سے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ’’میں رات کے وقت اپنی مقررہ عبادت نہ کر سکی تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی یعنی ان کی قضا دوں گی۔‘‘

(سنن الدارقطنی: جلد 1 صفحہ 246) 

اسی طرح وہ نفلی عبادات کی نصیحت کرتی تھیں خصوصاً قیام اللیل کی ترغیب دلاتی تھیں۔

چنانچہ عبداللہ بن قیس سے روایت ہے:

’’مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’تم قیام اللیل کبھی ترک نہ کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے اور جب آپﷺ بیمار ہو جاتے یا تھک جاتے تو بیٹھ کر پڑھ لیتے۔‘‘

(سنن ابی داود: 1307۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 249، حدیث: 26157۔ مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 452۔ الشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے (صحیح سنن ابی داود: حدیث: 1307) صحیح کہا اور وادعی نے (الصحیح المسند: 1618) میں کہا ہے: یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کثرت سے روزے رکھا کرتیں۔

عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ روزہ رکھتیں اور صرف عید الفطر اور عید الاضحی کے دو دنوں میں روزہ نہ رکھتیں۔

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 4 صفحہ 68)

ایک روایت میں ہے: ’’بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزے رکھتیں۔‘‘

(وہ ہمیشہ روزے رکھتیں یعنی صرف ان دنوں میں روزہ نہ رکھتیں جس میں ان کے لیے روزہ رکھنا منع تھا جیسے عیدین کے دن اور حیض کے دن اس طرح اشکال ختم ہو جاتا ہے اور یہاں مراد یہی ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھتی تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 4 صفحہ 221)۔ شرح مسلم للسیوطی: جلد 3 صفحہ 245)

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 75۔ الصیام للفریابی: صفحہ 100  حدیث: 131۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 187۔)

بلکہ وہ شدید گرم دنوں میں بھی روزہ ترک نہ کرتیں۔

ایک بار عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما عرفہ والے دن ان کے پاس گئے تو وہ روزہ سے تھیں اور اپنے اوپر پانی چھڑک رہی تھی۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپؓ روزہ افطار کر دیں۔ انھوں نے فرمایا: میں کیسے افطار کر دوں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

اِنَّ صَوْمَ یَوْمِ عَرَفَۃَ یُکَفِّرُ الْعَامَ الَّذِیْ قَبْلَہٗ

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 128 حدیث: 25014)

’’بے شک عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دوران سفر بھی روزے رکھا کرتی تھی ۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے میں سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ تھا، مکہ میں داخل ہونے تک انھوں نے روزے نہیں چھوڑے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 15)

قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے:

’’بے شک میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دوران سفر روزے رکھتے ہوئے دیکھا حالانکہ انھیں گرم لو کے تھپیڑوں نے کمزور کر دیا تھا۔‘‘

(اَذْلَقَہُ السَّمُوْمُ: گرم لو کی لہروں نے اسے کمزور کر دیا۔ (تاج العروس: جلد 25 صفحہ 321)

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 16)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھ اعتکاف بیٹھنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی اعتکاف والی جگہ پر چلے جاتے۔ بقول راوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔ تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو انھوں نے بھی اپنا خیمہ لگا لیا اور جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پتا چلا تو انھوں نے بھی خیمہ لگا لیا، جب دوسرے دن صبح کی نماز پڑھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو چار خیمے دیکھ کر پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ آپﷺ کو آپ کی ازواج مطہراتؓ کے بارے میں بتایا گیا تو آپﷺ نے پوچھا: ’’انھیں اس فعل پر کس چیز نے ابھارا؟ کیا وہ نیکی کرنا چاہتی ہیں؟ تم انھیں اکھیڑ دو حتیٰ کہ میں انھیں نہ دیکھوں۔‘‘ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (فتح الباری: جلد 4 صفحہ 276) میں لکھا ہے: ’’گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہو گیا کہ ازواج کو اس فعل پر ابھارنے والا اصل محرک بے جا مفاخرت ہے اور وہ رقابت ہے جس کی بنیاد خاوند کے متعلق غیرت ہوتی ہے۔ تاکہ ہر بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہے۔ اس طرح تو اعتکاف کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے یا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کو اجازت دی تو یہ کام آسان ہو گا لیکن اس کا جو انجام ہوا وہ اچھا نہیں تھا کہ دیگر ازواج مطہراتؓ بھی اسی تگ و دو میں مگن ہو گئیں۔ اس طرح نمازیوں کے لیے مسجد میں جگہ ہی نہ رہی۔ یا آپﷺ کے منع کرنے کا یہ سبب تھا کہ اگر آپﷺ کی سب بیویاں مسجد میں اعتکاف بیٹھ گئیں تو آپﷺ اپنے آپ کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا محسوس کرتے اور ممکن تھا کہ وہ آپﷺ کو عبادت کے لیے خلوت سے روک دیتیں جس سے عبادت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔) تمام خیمے اکھیڑ دئیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے رمضان میں اعتکاف نہیں بیٹھے بلکہ شوال کے آخری عشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: 3513۔ سنن ابن ماجہ: 3119)

اس حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کا شوق ظاہر ہوتا ہے اور یہ کہ وہ عبادت میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شب قدر پانے کی کتنی متمنی تھیں اور اس میں شدت سے ان کی عبادت کے شوق کا اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کے متعلق پوچھا کرتی تھیں کہ اتفاقاً جب وہ شب قدر کو پا لیں تو وہ کون سی دعا کریں۔ چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں کہ : ’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ مجھے بتائیں کہ اگر مجھے پتا چل جائے کہ شب قدر کون سی ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں۔ فرمایا: ’’تو کہہ:

اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

 ’’اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا سخی ہے۔ معافی کو پسند کرتا ہے۔ پس مجھے معاف فرما۔‘‘

(سنن ترمذی: 3513۔ سنن ابن ماجہ: 3119۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 171 حدیث: 25423۔ سنن کبرٰی للنسائی: جلد 4 صفحہ 407، حدیث: 7712۔ مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 712۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 3 صفحہ 338، حدیث: 3700۔ ترمذی نے کہا: حسن صحیح۔ علامہ نووی نے ’’الاذکار‘‘ کے صفحہ 247 پر اس کی سند کو صحیح کہا اور (اعلام الموقعین لابن قیم: جلد 4 صفحہ 249) میں صحیح کہا ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ترمذی: 3513) میں صحیح کہا ہے۔ الوادعی رحمہ اللہ نے (احادیث معلقۃ: صفحہ 459۔) پر کہا بظاہر یہ حسن لگتی ہے لیکن دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا عبداللہ بن بریدہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں۔ پھر اس کی سند میں سفیان کے بارے میں بھی اختلاف ہے)

جہاں تک حج کا معاملہ ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کی اتنی شدت سے آرزو مند رہتیں کہ وہ فوت ہونے سے ڈرتیں۔ چونکہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ: ’’اے اللہ کے رسول! کیا ہم (عورتیں ) آپ کے ساتھ غزوات میں جائیں اور جہاد کریں؟‘‘

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’تمہارے لیے سب سے بہتر اور سب سے خوبصورت جہاد حج مبرور ہے۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’جب سے میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں، میں کبھی حج نہیں چھوڑوں گی۔‘‘

(صحیح بخاری: 1861)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد متعدد مرتبہ حج کیا اور وہ مردوں کی موجودگی میں طواف نہ کرتیں بلکہ مردوں سے الگ تھلگ (حَجَرَۃً: یعنی علیحدہ ہو کر۔ ایک طرف یا ایک کنارے پر۔ (شرح السنۃ للبغوی: جلد 7 صفحہ 120) ہو کر طواف کرتیں۔ ان کے قریب نہ جاتی۔ ایک عورت نے ان سے کہا کہ: آئیے اے ام المومنینؓ! ہم استلام (حجر اسود کا بوسہ) کر لیں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’تم چلی جاؤ‘‘ اور خود جانے سے انکار کر دیا۔

(صحیح بخاری: 1618) 

جب دن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طواف کا ارادہ کرتیں تو مطاف سے مردوں کو باہر نکال دیا جاتا۔

(صحیح بخاری: 1618، اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں: ’’لیکن جب عورتیں بیت اللہ میں جاتیں اور مطاف میں پہنچتیں تو مردوں کو نکال دیا جاتا۔‘‘)

صرف یہی نہیں بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام حج میں اپنی قیام گاہیں مختص کر لی تھیں۔ ابتداء میں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے عرفات کی حدود کے آخر میں وادی نمرہ میں قیام کرتیں، لیکن جب وہاں لوگوں کا ازدہام ہو جاتا تو ان کا خیمہ اس جگہ سے بہت دور لگایا جاتا اور مقام ’’اراک‘‘ ( الأراک: عرفات میں شام کی جانب ایک بستی کا نام ہے۔ (شرح الزرقانی علی المؤطا: جلد 2 صفحہ 345) پر قیام کرتیں اور کبھی کبھار کوہ ثبیر ( ثبیر: مکہ کا ایک مشہور پہاڑ۔ النہایۃ: جلد 1 صفحہ 207۔)کے قرب و جوار میں قیام کرتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بھی اور جو اِن کے ساتھ ہوتے وہ بھی ان کے خیمہ سے ہی تلبیہ پکارتے۔ جب وہ سوار ہو کر موقف کی طرف اپنا رخ کر لیتیں تو تلبیہ کہنا بند کر دیتیں اور ان کا معمول تھا کہ وہ حج کے بعد ماہ ذی الحجہ میں مکہ سے ہی عمرہ کرتی تھیں۔ پھر یہ معمول چھوڑ دیا۔ اب وہ ماہ ذی الحجہ کے آخر میں جحفہ (میقات) میں چلی جاتیں اور ماہ محرم کا چاند دیکھ کر عمرہ کی نیت کرتیں ۔

(مؤطا امام مالک رحمہ اللہ: جلد 3 صفحہ 489)

وہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھتی تھیں، پھر وقوف کرتیں یہاں تک کہ ان کے پاس سے لوگ واپس چلے جاتے اور زمین بالکل خالی ہو جاتی تب وہ پینے کے لیے کچھ منگوا کر اس سے روزہ کھول لیتیں۔

(مؤطا امام مالک: جلد 3 صفحہ 550۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 588۔ معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: جلد 6 صفحہ 348۔ اس کی سند کو ابن حجر رحمہ اللہ نے (الدرایۃ: جلد 2 صفحہ 23) میں صحیح کہا ہے۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مخصوص ایام شروع ہو گئے تو انتہائی افسردگی سے رو پڑیں کہ ان سے کچھ مناسک رہ جائیں گے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان الفاظ سے تسلی دی: ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دی ہے۔‘‘

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 589)

اور آپﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حکم دیا کہ وہ سب کچھ کرو جو دیگر حجاج کریں گے سوائے بیت اللہ کے طواف کے۔ جب ان کو طہارت حاصل ہوئی تو کہہ اٹھیں  ’’اے اللہ کے رسول! آپﷺ لوگ حج اور عمرہ کر کے واپس جاؤ گے اور کیا میں صرف حج کر کے واپس جاؤں گی؟‘‘ تب آپ نے ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی  اللہ عنہما کو حکم دیا کہ ’’وہ انھیں لے کر ’’تنعیم‘‘ جائیں۔‘‘ اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کے بعد ماہ ذی الحجہ میں ہی عمرہ ادا کیا۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)