سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہد و ورع کی مثالیں - دفاعِ…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہد و ورع کی مثالیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب میں کامل صدیقیت نمایاں تھی اور ان کا جواب بلند اخلاق و یقین کا عمدہ نمونہ تھا۔ جیسا کہ اپنے جواب میں انھوں نے سوالیہ انداز میں انکار کرتے ہوئے کہا: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں، گویا ان کے انکار میں کافی و شافی جواب تھا اور جواب کے بعد جو وضاحت تھی اس سے ان کے قلبی لگاؤ اور دنیا سے بے رغبتی، ذہانت و فطانت کا نمونہ اور خوبصورت طرز تخاطب جھلکتا تھا۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی زہد و ورع سے عبارت تھی۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انھوں نے اپنے رضاعی چچا کو اپنے گھر نہیں آنے دیا، یہاں تک کہ انھوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار نہ کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قطعاً انھیں اجازت نہیں دی، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ نہ فرمایا: ’’تمہارے چچا کے تمہارے گھر آنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس کے باوجود وہ اپنے دل کے مزید اطمینان کے لیے عرض کیا: ’’مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا مرد نے تو نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کی تاکید کے لیے دوبارہ وہی فرمایا: ’’بے شک وہ تمہارا چچا ہے اور تمہارے پاس آسکتا ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5239۔ صحیح مسلم: 1445۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔)

ایک دفعہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ مخاطب کیا کہ مجھے اوڑھنی پکڑا دو۔ تو انھوں نے فوراً کہا، میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں۔‘‘

(صحیح مسلم، حدیث: 298۔)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ورع کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ نے ایک چھوٹی بچی کو اپنے پاس آنے سے صرف اس لیے منع کر دیا کہ اس نے گھنگھرو پہنے ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: جب تک اس کے گھنگھرو نہ کاٹ دو اس وقت تک میرے پاس مت لاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ جَرْسٌ

’’اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں (بجنے والی چیز) گھنٹی ہو۔‘‘

(سنن أبی داؤد: 4231۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 242 حدیث: 26094)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نابینا شخص ان سے کچھ پوچھنے آیا تو انھوں نے حجاب کے پیچھے رہ کر جواب دیا، وہ کہنے لگا: میں تو نابینا ہوں، آپ مجھ سے کیوں پردہ کر رہی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم مجھے نہیں دیکھ سکتے تو میں تو تمھیں دیکھ سکتی ہوں۔

(الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 69۔ اسحاق نابینا سے مروی ہے۔ نیز (السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 171)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع کے بابت شریح بن ہانی سے موزوں پر مسح کے ضمن میں مروی ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ کیونکہ وہ اس مسئلہ میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ چنانچہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہی بات بتلائی۔

 ( صحیح مسلم: 267۔ یہ شریح بن ہانی بن یزید ابو المقدام حارثی ہے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہجرت کی۔ جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مشہور کمانڈر اور ان کا حامی تھا۔ یہ 78 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 382۔)



صفحہ 2 از 2