سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خشوع قیام اور نرم دلی کی مثالیں
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نہایت نرم دل، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی اور طویل قیام کرنے والی خاتون تھیں۔ وہ اپنی ذات میں کوئی فضیلت نہ دیکھتیں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا سہارا لیتیں۔ جیسا آپ رضی اللہ عنہا کے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت مروی ہے بالکل ویسا ہی خشوع و خضوع، تواضع اور قنوت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات میں نمایاں تھا۔ ان کے قول و کردار اس کے بہترین شاہد ہیں، وہ خود اپنے بارے میں فرمایا کرتی تھیں:
’’کاش! میں اس درخت کا ایک پتہ ہوتی۔‘‘
(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 74۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 189
ایک دن اپنی جائے نماز پر قیام کی حالت میں تادیر ایک ہی آیت
فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُومِ۞ (سورة الطور آیت 27)
’’پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔‘‘
(مصنف عبدالرزاق: جلد 2 صفحہ 451۔ شعب الایمان: جلد 2 صفحہ 375، رقم: 2092)
پڑھتی اور روتی رہیں اور قیام نہایت طویل کیا۔ اس دوران سیدہ عائشہؓ یہ دعا کر رہی تھیں:
رَبِّ مُنَّ عَلَیَّ، وَقِنِیْ عَذَابَ السَّمُوْمِ
’’اے میرے رب تو مجھ پر احسان فرما اور مجھے گرم لو کے عذاب سے بچا لے۔‘‘