Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کے درمیان صلح کروانے کی حرص

  علی محمد الصلابی

جنگ جمل میں ان کی شرکت کا قصہ زبان زَد عام ہے۔ اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں صرف فریقین کے درمیان صلح کروانے کی نیت سے گئی تھیں۔ اکثر مواقع پر وہ اس کی وضاحت کرتی رہتی تھیں۔ مثلاً جب بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف نے عمران بن حصین اور ابو الاسود دؤلی کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھنے بھیجا کہ وہ بصرہ کیوں آئی ہیں؟ تو انھوں نے بصراحت بتایا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ لے کر آئی ہیں چونکہ وہ مظلومیت کی حالت میں ناحق قتل کیے گئے اور حرمت والے مہینے میں قتل کیے گئے اور حرمت والے شہر میں قتل کیے گئے اور ساتھ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا:

لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۢ بَيۡنَ النَّاسِ‌ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ النساء آیت 114)

ترجمہ: لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 7 صفحہ 259)

تاہم اس کے بعد جو معاملات ان کے سپرد ہوتے گئے وہ ان پر قطعاً خوش نہ تھیں بلکہ ہمیشہ ان پر ندامت کا اظہار کرتی رہیں اور لوگوں کو پرسکون رہنے اور باہمی صلح و صفائی میں کوشاں رہیں۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اس کی مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔