حضرت مولانا ابو الفضل مولوی محمد کرم الدین دبیر رحمۃ اللہ کا فرمان
پس واضح رائے اولی الابصار ہو کر ہر چند اقتضاء وقت یہی ہے کہ اسلام کے تمام فرقے متحد ہو کر مخالفین اسلام، آریہ، عیسائی وغیرہ کا مقابلہ کریں جو اس وقت دینِ حق اسلام کو مٹانے کے در پے ہو کر ہر طرف سے پر زور حملے کر رہے ہیں۔ کہیں شدھی کی تحریک کی گرما گرمی ہے اور کہیں عیسائیت کے مناد لطائف الحیل سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے اسلام کے بیرونی دشمنوں کے علاؤہ اندرونی دشمن روافض اور مرزائی وغیرہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان سے بڑھ کر جدوجہد کر رہے ہیں، اور فرقہ اہلِ سنت والجماعت کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر تحریر کے ذریعہ مرزائیت، رفض وغیرہ کی وبا پھیلائی جا رہی ہے، اور ڈر ہے کہ یہی رفتار رہی تو کسی وقت اسلام کا اصلی خوبصورت چہرہ بالکل مسخ ہو کر رفض و بدعت مرزائیت، نیچریت ، چکڑ الویت وغیرہ کی منحوس شکل اختیار کر لے گا (خدا تعالیٰ ایسا نہ کرے)
اس لئے علمائے اہلِ سنت والجماعت کا اوّلین فرض یہ ہے کہ ان اندرونی دشمنانِ دین کی شر کا انسداد کریں جو اسلام کا دعوے دار ہو کر مسلمانوں کو جادۂ حق صراطِ مستقیم سے پھسلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چونکہ میرے خیال میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ اس وقت رفض کا ہے جو فتنہ ارتداد سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ اس لیے ہمیں اس کے انسداد کی طرف پہلے متوجہ ہونا چاہیے۔
نوٹ: میرا یہ کہنا کہ رفض کا فتنہ ارتداد کے فتنہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے سو ظاہر ہے کہ کافر یا مرتد کی صحبت کا اثر ایک مسلمان کے دل پر اس وجہ سے نہیں پڑھ سکتا کہ وہ ایک کھلا ہوا دشمنِ اسلام ہے، جو کچھ بھی بکتا ہے مسلمان اس کو اس کی عداوت و عناد پر محمول کرے گا لیکن خارجی یا رافضی اسلام کے دعویدار ہو کر جو بات کہیں گے ایک سادہ لوح اور بھولے بھالے مسلمان کا دل اس سے ضرور متاثر ہو گا، جو کسی وقت بھی اس کی گمراہی کا باعث ہو گا، بلکہ میں تو کہوں گا کہ آریہ عیسائی وغیرہ مخالفینِ اسلام کو قرآن پاک اور احادیث رسولﷺ پر ناپاک حملے کرنے کا مصامحہ (مواد) ہی روافض کی تصانیف سے ملاتا ہے۔ ورنہ آیاتِ قرآن وحدیث رسولﷺ (جو عربی میں ہیں) کے مضامین سے ایک اُردو داں آریہ یا عیسائی کب واقف ہو سکتا ہے۔ علومِ عربیہ سے نابلد ہونے کے باعث لوگوں کو آیاتِ قرآن یا احادیثِ رسولﷺ پر نکتہ چینی کرنے کا حوصلہ ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔
(آفتاب ہدایت: صفحہ، 34)