Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جہاد و شجاعت

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت و بسالت ناقابل بیان ہے۔ وہ اندھیری رات میں مدینہ منورہ کے قبرستان ’’بقیع الغرقد‘‘ میں چلی جاتیں۔ انھیں ذرہ بھر خوف یا تردد نہ ہوتا۔ اسی طرح بے باک میدان جہاد میں پہنچ جاتیں، کسی قسم کا ڈر یا خوف نہ ہوتا اور مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کے خلاف جہاد میں بے باکانہ حصہ لیتیں اور مجاہدین اسلام کی خوب خدمت کرتیں۔

1۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

’’جب غزوۂ احد بپا ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے مجاہدین بکھر گئے۔ بقول راوی میں نے سیدہ عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہم کو دیکھا وہ پورے جوش و جذبے، کامل ہمت اور دوڑ دھوپ سے (خَدَم: یعنی الخلخال: پازیب (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 15۔)

وہ پانی کے مشکیزے (تَنْقُزَانِ: الوثب: جلدی چلنا اور اچھلنا (فتح الباری: جلد 6 صفحہ 78) بھر بھر کر اپنی پشتوں پر لادے زخمی مجاہدین کو پلا رہی تھیں ۔ وہ دوبارہ جاتیں اور مشکیزے بھر کر لاتیں اور مجاہدین کو پلاتی رہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 2880۔ صحیح مسلم: 1811) (مفہوماً)

2۔ غزوۂ خندق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو ایک محفوظ قلعہ میں بھیج دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قلعہ سے نکلیں اور دشمن پر حملہ کر دیا۔ چنانچہ خود فرماتی ہیں:

’’میں جنگ خندق والے دن (قلعہ سے) باہر نکلی اور لوگوں کے پاؤں کے نشانات پر چلنے لگی میں نے اپنے پیچھے آہٹ محسوس کی، الحدیث۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 141، رقم: 25140۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 373 رقم: 2975۔ صحیح ابن حبان: جلد 5 صفحہ 498 رقم: 7028۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 4 صفحہ 125۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد 4 صفحہ 125۔ مجمع الزوائد: جلد 6 صفحہ 139) میں ہیثمی کہتے ہیں اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی حدیث حسن درجہ کی ہے۔ بقیہ رواۃ ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 143) پر اس کی سند کو حسن لکھا ہے۔

3۔ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے ان سے فرمایا:

جِہَادُکُنَّ الْحَجُّ 

(صحیح بخاری: 2875+۔

’’تمہارا جہاد حج ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ لوگوں کو جہاد کی ترغیب دلاتی رہتی تھیں۔ ان کے ایک غلام نے اپنی آزادی کے لیے ان سے مکاتبت (قسطوں پر آزادی کا معاہدہ) کر لی۔ آخری بار جب وہ ادائیگی کے لیے ان کے پاس آیا تو اسے کہہ دیا کہ آج کے بعد تم میرے پاس نہیں آؤ گے، لہٰذا تمھیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ تم پر اللہ کے راستے میں جہاد فرض ہے۔ چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

مَا خَالَطَ قَلْبُ امْرِیٍٔ رَہَجَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارُ

ترجمہ: ’’جو بندہ اپنے دل میں اللہ کی راہ میں لڑنے کے متعلق سوچے (خیال کرے) گا اللہ اس پر

آگ کو حرام کر دے گا۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 85، رقم: 24592۔ منذری رحمہ اللہ نے (الترغیب و الترہیب: جلد 2 صفحہ 245) پر کہا ہے کہ اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور (مجمع الزوائد: جلد 5 صفحہ 278 پر ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے (صحیح الجامع، حدیث: 5616 ) میں اسے صحیح کہا ہے۔)