Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شرم و حیا کا پیکر

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شرم و حیا کا پیکر تھیں وہ خود فرماتی ہیں

’’جس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے ابا جان مدفون تھے میں اس گھر میں داخل ہوتی اور اپنی اوڑھنی وغیرہ اتار دیتی اور سوچتی کہ یہاں صرف میرا شوہر اور میرے ابا جان ہی تو ہیں، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ مدفون ہوئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی اپنے گھر میں داخل ہوتی تو سختی سے اپنے اوپر اپنے کپڑے کس لیتی اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہوئے ایسے کرتی۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 202 رقم: 25701۔ مستدرک حاکم: جلد 3  صفحہ 63۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ (مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 29) پر ہیثمی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے (صحیح مشکوۃ المصابیح، حدیث: 1712) کی تخریج میں لکھا کہ اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔

ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’میں ہمیشہ اپنے گھر میں اپنی اوڑھنی اتار دیتی اور اپنے اوپر والے کپڑے رکھ دیتی یہاں تک کہ وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا۔ تب سے میں مسلسل اپنے پورے لباس کا خیال رکھتی حتیٰ کہ میں نے اپنے اور قبروں کے درمیان دیوار بنوا لی اس کے بعد مجھے اطمینان حاصل ہوا۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 3 صفحہ 364۔ تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد 3 صفحہ 945)

حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ (یہ اسماعیل بن عمر بن کثیر ابو الفداء شافعی المذہب دمشقی ہیں۔ 701 ہجری میں پیدا ہوئے۔ فقہ و تفسیر، علم الرجال و علل میں مہارت حاصل کی، اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور حافظ حدیث مشہور ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف ’’البدایۃ و النہایۃ‘‘ اور ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ ہیں۔ یہ 774 ہجری میں فوت ہوئے۔ (انباء الغمر لابن حجر رحمہ اللہ جلد 1 صفحہ 39۔ ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 38) لکھتے ہیں

’’ہمارے شیخ و امام ابو الحجاج مزی ( یہ یوسف بن زکی بن عبدالرحمٰن ابو الحجاج مزی شافعی محدث شام اور اپنے وقت کے مشہور عالم و حافظ حدیث تھے۔ 654 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ’’دار اشرفیۃ‘‘ میں کبار مشائخ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اپنے وقت میں رواۃ کے احوال میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’تہذیب الکمال‘‘ اور ’’تحفۃ الاشراف‘‘ ہیں۔ 742 ہجری میں وفات پائی۔ (تذکرۃ الحفاظ للذہبی: جلد 4 صفحہ 193۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 10 صفحہ 396)رحمہ اللہ نے اس کی کیا خوب توجیہ کی، لکھتے ہیں کہ شہداء زندہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کا پختہ یقین ہونے کی یہ عمدہ مثال ہے۔‘‘

(الإجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 68)

اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے کے باوجود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیا کا یہ عالم تھا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، کیونکہ انھوں نے تو قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے جمع ہونے والوں سے بھی اپنے حیا کا اعلان کیا کہ ایک مرتبہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا 

(الغرل: بچے کی پیدائشی حالت جبکہ اس کے ختنے نہ ہوئے ہوں۔ (غریب الحدیث لابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 154)

’’محشر میں تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔‘‘

تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد و زن ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَ لْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یُہِمَّہُمْ ذَاکَ

(صحیح بخاری: 6527۔ صحیح مسلم: 2869۔

’’معاملہ اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہو گا کہ وہ اپنی نگاہوں کو کچھ اہمیت دیں۔‘‘

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو مخاطب کر کے نصیحت فرمایا کرتی تھیں:

’’اے عورتو! تم اپنے خاوندوں کو کہا کرو کہ وہ پانی سے استنجا کیا کریں، کیونکہ مجھے انھیں یہ کہتے ہوئے حیا آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔‘‘

(سنن الترمذی: 19۔ سنن النسائی: جلد 1 صفحہ 43۔ صحیح ابن حبان: جلد ر صفحہ 290 ۴، رقم: 1443۔ امام ترمذی نے لکھا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علامہ ابن دقیق العید نے (الامام: جلد 2 صفحہ 537) پر لکھا ہے کہ اس روایت کے سب راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے اسے (صحیح سنن الترمذی۔) میں صحیح کہا ہے اور الوادعی نے (الصحیح المسند: 1589۔) میں اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے۔