حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللہ کا فتویٰ
پھر میں نے یہ عرض کیا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ان ساری چیزوں کو چھوڑ دیجیئے یہ دیکھیے کہ ہر فرقے کا ایک مزاج ہوتا ہے، اس فرقے کا مزاج ہی تخریبی ہے، اور تاریخ اس پر شہادت دے گی کہ مسلمانوں کو جتنے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اس میں سیاست کی یا خلافت کی، جہاں جہاں تباہی ہوئی ہے نیچے سے یہی فرقہ نکلتا ہے۔ تو تاریخ کی روشنی میں یہ ایک تخریبی فرقہ ہے۔ جب اس کا مزاج یہ ہے تو ہو سکتا ہے کہ آج وہ آپ کی چاپلوسی کر کے آپ میں شامل ہو جائے لیکن کل کو نوک پنجے نکال کر آپ کو پٹخ دے آپ کے اوپر غالب آ جائے جیسا کہ تاریخ اس پر شاہد ہے، پھر آپ کیا کریں گے؟ آپ نے محض ایک عقیدہ سامنے رکھ لیا یعنی تفصیل حضرت علیؓ کہ جی! یہ کوئی زیادہ اہم نہیں۔ اگر صرف اس ایک مسئلے تک بات ہوتی تو مضائقہ نہیں تھا مگر مسائل دوسرے بھی ہیں۔ پھر طبقوں اور طبقات کا مزاج ہوتا ہے اس سے قطع نظر کر لینا تو ٹھیک نہیں ہے۔
(دفاعِ صحابہؓ اور علماء دیوبند: صفحہ، 148)