نصیریہ فرقہ کے شیعوں کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نصیریہ فرقہ کے شیعوں کا عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 2

نصیریہ فرقہ کے شیعوں کا عقیدہ

نصیریہ فرقے کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علیؓ بھی اللہ تعالیٰ ہیں۔ ان کا روحانی ظہور انسانی جسم میں ہوا ہے، جس طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام بعض آدمیوں کی صورت ڈھال لیتے تھے، یہ ناسوت میں، یعنی انسانی صورت میں مخلوق سے ناموس ہونے کے لیے آئے ہیں، اصل میں یہی الٰہ ہیں۔ یہ نصیریہ فرقہ کے شیعہ عبدالرحمٰن بن ملجم جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے اس کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں اور اسے بہت پسند کرتے ہیں کہ اس نے ناسوت سے، یعنی انسانی صورت سے لاہوت کو، یعنی الٰہی صورت کو علیحدہ کر دیا ہے۔ نصیریہ شیعہ کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ سیدنا علیؓ بادلوں میں سکونت پذیر ہیں۔ جب سے ان کی اس انسانی جسم سے رہائی ہوئی ہے وہ بادلوں میں رہنے لگے ہیں۔ جب بادل ان کے قریب سے گزرتے ہیں تو یہ پکارتے ہیں اے ابو حسن! تم پر سلام ہو اور ان کا کہنا ہے کہ بادل کی گرج حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آواز ہے۔ شیعہ کے اس نصیریہ فرقہ کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ سیدنا علیؓ نے حضرت محمدﷺ کو پیدا کیا ہے اور محمدﷺ نے حضرت سلیمان فارسیؓ کو پیدا کیا ہے اور حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ نے پانچ یتیم پیدا کیے ہیں۔

  1.  یتیم مقداد بن اسودؓ ہیں۔ ان کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ یہ لوگوں کے رب اور ان کے خالق ہیں اور بادلوں کی گرج وغیرہ ان کے سپرد ہیں۔
  2. یتیم ابوذر ہیں۔ یہ ستاروں کو گردش میں رکھے ہوئے ہیں۔
  3. یتیم عبداللہ بن رواحہ ہیں۔ جو انسانی روحوں کو قبض کرتے ہیں اور ہوائیں ان کے سپرد ہیں۔
  4.  یتیم عثمان بن مظعون ہیں۔ یہ انسان کے امراض اور جسمانی حرارت اور معدہ پر قدرت رکھتے ہیں۔
  5. یتیم قنبر بن کادان ہیں۔ ان کے سپر دانسانی جسموں میں روح پھونکنا ہے۔

نصیریہ شیعوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ایک انہوں نے رات رکھی ہوئی ہے کہ جسے یہ باطنی فرقے والے یہ کہہ کر مناتے ہیں کہ اس میں حابل اور نابل آپس میں ملیں گے، یہ فرقہ شراب کی بہت تعظیم کرتا ہے اور اسے کارِ ثواب تصور کرتا ہے۔ اور یہ انگور کے درخت کو بھی بہت محترم گردانتے ہیں اور اسے اکھاڑنا یا کاٹنا بہت ہی برا قرار دیتے ہیں اور شراب کا نام نور رکھتے ہیں۔ مگر قرآن پاک اسے حرام قرار دے رہا ہے یہ اسے نور قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞

اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ ۞

(سورۃ المائدہ: آیت 90،91)

ترجمہ: اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے؟

مگر یہ خبیث شراب نوشی کرتے ہیں تو کہتے ہیں 

تو نے اس نور (شراب) کو حلال قرار دیا ہے اور اپنے عارف دوستوں کے لیے مطلق طور پر حلال قرار دے کر اسے بہت فضیلت دی۔ اور اسے تو اپنے منکروں اور دشمنوں (مسلمانوں) کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ اے ہمارے مولا! ( مراد سیدنا علیؓ) جس طرح تو نے اس شراب کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ہے اسی طرح ہمیں امن وامان بھی دے اور بیماریوں سے صحت دے اور ہم سے غم اور پریشانیاں دور کر دے۔

نصیریوں کی نماز:

نصیر یہ فرقہ کے شیعے ایک دن میں پانچ نمازیں ہی پڑھتے ہیں مگر ان کا طریقہ مختلف ہے ان کی نماز میں سجدہ نہیں کبھی معمولی قسم کا رکوع کر لیتے ہیں۔ ان کی پہلی نماز ظہر ہے اس کی آٹھ رکعات ہیں، اس کے بعد نمازِ عصر ہے اس کی چار رکعات ہیں، پھر نمازِ مغرب ہے اس کی پانچ رکعات ہیں، اس کے بعد نمازِ عشاء ہے اس کی چار رکعات ہیں، پھر نمازِ فجر ہے اس کی دو رکعات ہیں۔ ان کی کتاب الباكورة السلیمانیہ میں لکھا ہے:

نماز ظہر محمدﷺ کے لیے نماز عصر حضرت فاطمہؓ کے لیے نماز مغرب حضرت حسنؓ کے لیے اور نماز عشاء حضرت حسینؓ کے لیے اور نماز صبح محسن خفی کے لیے۔ یہ نمازِ جمعہ نہیں پڑھتے، نہ ہی وضو کرتے ہیں نہ ہی نماز سے پہلے لکھا جنابت کو دور کرتے ہیں، نہ ہی ان کی مسجدیں ہیں یہ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں، ان کی نماز خرافات کی تلاوت ہے۔

نصیریہ شیعوں کے خاص اذکار:

عیسائیوں کی مانند ان کے بھی خاص اذکار ہیں:

  1. پاکیزہ بھائی اچھا رہے 
  2. خوشی اور مسرت پر کہتے ہیں البخور فی روح ما یدور۔
  3. ان کی اذان کا ذکر یہ ہے واللہ المستعان۔

یہ نصیر یہ فرقہ حج کو نہیں مانتا، یہ کہتے ہیں کہ بیت اللہ کا حج کفر اور بتوں کی عبادت کرنا ہے، نہ ہی یہ شرعی اذکار کے قائل ہیں۔ یہ اپنے مشائخ کو ٹیکس اور نذرانہ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ہم نے اپنے مال کا خمس(پانچواں حصہ) نکال دیا ہے۔

نصیریوں کا روزہ:

ان کا روزہ بس یہی ہے کہ رمضان المبارک کا پورا مہینہ بیویوں سے جماع سے رک جانا ہے۔

نصیریوں کا صحابہ کرام ان سے بغض:

یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے شدید بغض رکھتے ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ ہی پر لعنت کرتے ہیں۔ یہ کام سارے شیعہ بھی کرتے ہیں۔ نصیریہ شیعہ کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ شریعت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ تمام پوشیدہ راز صرف ہم جانتے ہیں اور ان کا یہ بھی نظریہ ہے کہ جو باطنی علم کے مخالف ہے، ان سے دوستی رکھنا جنابت ہے اور طہارت یہ ہے کہ علم باطنی کے دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے۔ ان کا روزہ یہ ہے کہ تیس آدمیوں کے راز محفوظ رکھنا اور اتنی تعداد کی عورتوں کے راز محفوظ رکھنا۔ ان کی زکوٰۃ یہ ہے کہ سلیمان فارسیؓ کو پانچ یتیموں کا خالق ماننا۔ ان کا جہاد یہ ہے کہ ان کے راز کھولنے والوں اور دشمنوں پر لعنت کرنا، ان کی ولایت یہ ہے کہ نصیریہ شیعوں کے خاندان کے ساتھ اخلاص پیدا کیا جائے اور ان کے دشمنوں کو نا پسند کیا جائے۔

صفحہ 1 از 2