Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ضمن میں کردار

  علی محمد الصلابی

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ بھی تھی کہ وہ ہر وقت لوگوں کے ہر طبقہ میں نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے مستعد رہیں۔ ام المؤمنینؓ اپنی حیات طیبہ میں ہمیشہ علماء، حکمرانوں اور عام مسلمانوں کا محاسبہ کرتی رہتیں۔

حکمرانوں کے محاسبے کی مثال صحیح بخاری کی روایت میں واضح ہے۔ یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مروان حجاز کا والی مقرر ہوا تو وہ خطبے میں یزید (یہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان بن حرب ہے۔ کنیت ابو خالد ہے۔ خاندان بنو امیہ اور قبیلہ قریش ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے اپنی خلافت کا افتتاح کیا اور مدینہ منورہ پر یلغار کر کے ’’واقعہ حرۃ‘‘ پر اس کی سلطنت کا اختتام ہوا۔ غزوہ قسطنطنیہ میں یہ شامل ہوا۔ خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں پیدا ہوا اور 64ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 36۔ ومواقف المعارضۃ فی عہد یزید بن معاویۃ لمحمد بن عبدالہادی۔) بن معاویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے کہنے لگا: اس کے باپ کے بعد تم اس کی خلافت کی بیعت کر لو۔ یہ سن کر عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا تو اس نے اپنے دربانوں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ لو۔ انھوں نے بھاگ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پناہ لے لی، تو دربان وہاں تک جانے کی جرأت نہ کر سکے۔ تب مروان نے کہا: یہی شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا:

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ ۞ (سورۃ الأحقاف آیت 17)

ترجمہ: اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ: تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو 

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے فی البدیہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں میرے عذر کے علاوہ ہمارے بارے میں کچھ نازل نہیں کیا (یعنی تمہاری بات غلط ہے)۔ 

(صحیح بخاری: 4827)

روایات میں ذکر ہے کہ یحییٰ (یہ ابو ایوب یحییٰ بن سعید بن عاص اموی قریشی ہیں۔ ثقہ ہیں، خلیفہ عبدالملک بن مروان ان کی تکریم کرتا تھا۔ 80ہجری میں فوت ہوئے۔ بن سعید بن عاص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی جو عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی تھی، تو مروان جو کہ مدینہ منورہ کا گورنر تھا، نے اسے اس کے باپ عبدالرحمٰن کے پاس بھیج دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہلا بھیجا کہ تم اللہ سے ڈر جاؤ اور اسے اپنے گھر لے جاؤ۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا: عبدالرحمٰن بن حکم مجھ پر غالب آ گیا ہے۔ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے کہا: کیا تم تک سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا معاملہ نہیں پہنچا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تمہیں فاطمہ بنت قیس کا معاملہ معلوم نہیں تو تم پر کوئی عیب نہیں۔ (یعنی اس واقعہ میں مطلقہ کو بلا سبب اس کے گھر سے منتقل کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔) تو مروان کہنے لگا: اگر تیرے پاس یہ خبر ہے کہ فاطمہ بنت قیس اور اس کے خاوند کے رشتہ داروں کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو وہ سبب یہاں بھی موجود ہے۔ گویا اس نے یہ بات کہہ کر فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو بطورِ دلیل ماننے سے انکار کر دیا۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 9 صفحہ 478۔ صحیح بخاری: 5321، 5322۔ صحیح مسلم: 1481)

جیسا کہ گزر چکا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہؓ کے بعض اُمور پر ان کی گرفت بھی کی۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2414۔ و سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 182 تا 187)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب دیکھتیں کہ کسی مسئلہ میں کبار صحابہ رضی اللہ عنہم سے غلطی ہوئی ہے تو ان کا بھی محاسبہ کرتیں۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

’’جس نے بیت اللہ کی طرف ہدی (قربانی کا جانور) بھیجی، اس پر وہ سب کچھ حرام ہو جاتا ہے جو حاجی و معتمر پر حرام ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہدی نحر ہو جائے۔ حدیث کی راویہ عمرہ کہتی ہیں کہ اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کہا وہ صحیح نہیں ہے۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے پٹے ہاتھ سے بنائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور میرے ابا جان کے سپرد کر دئیے۔ (تاکہ وہ مکہ لے جائیں  ان کی قربانی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کچھ حرام نہیں ہوا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے لیے حلال کیا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: 1700۔ صحیح مسلم: 1321۔)

نوٹ: چند کبار صحابہ پر اس کے استدراکات کا تذکرہ اسی باب کی فصل دوم میں آئے گا۔ ان شاء اللہ۔

جہاں تک عام مسلمانوں کے محاسبے کی مثالیں ہیں تو ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی پوری زندگی نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی رہیں۔ ایک بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفا مروہ کے درمیان ایک عورت کو دیکھا جس نے ایسی چادر لی ہوئی تھی جس پر صلیب کی شکل کی دھاریاں تھیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے فرمایا:

’’اپنے کپڑے سے یہ نشانات مٹا دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسے نشانات دیکھتے تو انھیں مٹا ڈالتے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 225، رقم: 25923)

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو سعد (یہ جلیل القدر صحابی سعد بن مالک بن اہیب ابو اسحاق قریشی ہیں، اسلام لانے والے ساتویں صحابی ہیں اور عشرہ مبشرہ بالجنۃ میں سے ایک ہیں اور ان چھ میں سے بھی ایک ہیں جن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے خلافت کے لیے منتخب کر دیا تھا۔ فاتح عراق اور مدائن کسریٰ ہیں، اپنے وقت کے مستجاب الدعوات تھے۔ 55 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 182۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 13) بن ابی وقاص کے جنازہ کے موقع پر جلدی جلدی وضو کرتے ہوئے دیکھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے عبدالرحمٰن! اپنا وضو مکمل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: 

وَیْلٌ لِّلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ 

(صحیح مسلم: 240)

’’(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کی وادی ہے۔‘‘

3۔ ایک مرتبہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن پر باریک اوڑھنی دیکھی تو اسے خوب ڈانٹا اور فوراً اسے پھاڑ ڈالا اور اس کے بدلے اسے ایک موٹی چادر اوڑھا دی۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 71۔ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (جلباب المرأۃ: صفحہ 126) میں لکھا کہ اس کی سند کے راوی شیخین کی شرط کے مطابق ہیں۔ البتہ اس کی سند میں ایک راویہ ام علقمہ کی طرح ہے جسے حجت نہیں بنایا جا سکتا لیکن اس کی روایت کو بطور شاہد لیا جا سکتا ہے۔ (السیدہ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 172) 

4۔ حمص یا شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو آپ رضی اللہ عنہا فوراً کہہ اٹھیں: کیا تمھی وہ عورتیں ہو جو اپنی عورتوں کو حمامات (اجتماعی غسل خانے) میں لے جاتی ہو۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ اِمْرَاَۃٍ تَضَعُ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا اِلَّا ہَتَکَتِ السَّتْرُ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ رَبِّہَا

(سنن ترمذی: 2803۔ سنن ابن ماجہ: 3036۔ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور ابن مفلح نے (الآداب الشرعیۃ: جلد 3 صفحہ 325۔) میں اس کی سند کو عمدہ کہا ہے اور ہیثمی مکی نے اسے (الزواجر: جلد 1 صفحہ 129) پر کہا کہ اس کے رواۃ صحیح کے رواۃ کی طرح ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ترمذی: 2803) میں اسے صحیح کہا ہے ۔

’’جو بھی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رب کے درمیان پردہ (حیا) چاک کر دیتی ہے۔‘‘

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع ملی کہ ان کے ایک گھر میں کرایہ داروں کے پاس نرد (شطرنج کی طرح) نامی کھیل کے پانسے ہیں تو انھوں نے ان کی طرف فوراً پیغام بھیجا کہ اگر تم نے اپنے پاس یہ کھیل بند نہ کیا اور اس کے آلات کو ضائع نہ کیا تو فوراً میرا گھر خالی کر دو۔ گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے برائی پر انھیں فوراً سرزنش کیا۔

(الادب المفرد للبخاری: 1274۔ الموطأ للامام مالک: جلد 5 صفحہ 1396۔ سنن کبری للبیہقی: جلد 10 صفحہ 216، رقم: 21488)

6۔ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ ام مسطح (یہ جلیل القدر صحابی مسطح بن اثاثہ بن عباد ابو عباد قریشی ہیں۔ غزوات بدر و احد سمیت تمام مواقف و مشاہد میں شامل رہے۔ تاہم وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کے واقعہ میں منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکے جس کی پاداش میں انھیں حد قذف (اسّی کوڑے) سے دو چار ہونا پڑا۔ یہ 34 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 463۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 93) رضی اللہ عنہا کا پاؤں ان کی اپنی چادر میں الجھا تو انھوں نے کہا: مسطح ہلاک ہو گیا۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کی، کیا تم ایسے آدمی کو بددعا دے رہی ہو جو غزوہ بدر میں شامل ہوا؟

(اس حدیث (واقعہ افک) کی تخریج آگے آ رہی ہے۔)

7۔ عبداللہ بن شہاب خولانی (یہ عبداللہ بن شہاب خولانی ابو جزل کوفی ہیں۔ کبار تابعین میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ سیدنا عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ صحیح مسلم میں ان سے ایک حدیث بھی مروی ہے۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 254۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 5 صفحہ 72۔) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا کہ اس رات مجھے احتلام ہو گیا۔ میں نے اپنی دونوں چادروں کو پانی میں ڈبو دیا اس دوران مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کسی خادمہ نے دیکھ لیا اور جا کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خادمہ کو میری طرف بھیجا، انھوں نے پوچھا: تم نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ 

راوی بیان کرتا ہے کہ ابن شہاب نے جواب دیا: میں نے خواب میں وہی کچھ دیکھا جو کوئی بھی سونے والا دیکھتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا تجھے ان دونوں چادروں میں کچھ (نشان) دکھائی دیا؟

میں نے جواب دیا: نہیں، کچھ بھی نہیں۔

انھوں نے کہا: اگر تمھیں کچھ نظر آتا تو تم اُتنا حصہ دھو لیتے۔ بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں میں لگے خشک داغ اپنے ناخن سے کھرچتی تھی۔

(صحیح مسلم: 290)

8۔ کچھ قریشی نوجوان ہنستے ہوئے مقام منٰی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ایک شخص خیمے کی رسی سے الجھ کر منہ کے بل گر پڑا اور ایسا گرا کہ اس کی گردن ٹوٹنے یا آنکھ ضائع ہونے کے قریب تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں کہا: تم مت ہنسو! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا، اِلَّا کُتِبَتْ لَہٗ بِہَا دَرَجَۃٌ وَ مُحِیَتْ عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ

(صحیح مسلم: 2572)

ترجمہ: ’’جس مسلمان کو کانٹا یا اس سے بڑی چیز چبھے تو اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی ایک خطا مٹا دی جاتی ہے۔‘‘