Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاصرین کے لیے بھی مبنی بر انصاف حسن رائے کا اظہار

  علی محمد الصلابی

اگرچہ سیدہ عائشہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے درمیان نوک جھونک ہوتی رہتی تھی، تاہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دیگر ازواج مطہرات علیہ السلام کا ذکر ہمیشہ خیر و بھلائی کے ساتھ کرتی تھیں۔ مثلاً:

1۔ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہتیں: وہ ہم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی تھیں۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 138۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 34۔ اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 412) میں صحیح کہا ہے)

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ  زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرماتی تھیں: دین کے معاملہ میں، میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی دین دار عورت نہیں دیکھی۔ اللہ عزوجل سے سب سے زیادہ ڈرنے والی، صدق مقال اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی، سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی اور ان کے ہر عمل کا پیش نظر تقرب الہٰی اور رضائے الہٰی حاصل کرنا ہوتا۔ وہ انتقام لینے کے لیے فوراً غصے میں آ جاتیں لیکن جلد ہی ان کا غصہ کافور ہو جاتا۔

(صحیح مسلم: 2442)

3۔ شاعر رسول سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیش آنے والے بہتان تراشی کے الزام میں حد قذف کو جا پہنچے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم انھیں برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری: 3531۔ صحیح مسلم: 2488)

4۔ عبدالرحمٰن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی مسئلہ پوچھنے آیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں مصری ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان جنگوں میں تمہارے گورنر کا تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ ہے؟ سائل نے کہا: ہمیں اس میں کوئی عیب دکھائی نہیں دیتا۔ اگر ہم میں سے کسی آدمی کا اونٹ مر جائے تو وہ اسے اونٹ دیتا ہے اور غلام کے بدلے غلام دیتا ہے اور جسے نان و نفقہ کی ضرورت ہو تو وہ اسے نان و نفقہ دیتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے جو کچھ میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کیا ہے وہ مجھے حق بات کہنے سے نہیں روک سکتا۔ چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں فرماتے ہوئے سنا:

اَللّٰہُمَّ مَنْ وَلِیَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِیْ شَیْئًا فَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَاشْقُقْ عَلَیْہِ، وَ مَنْ وَلِیَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِیْ شَیْئًا فَرَفَقَ بِہِمْ فَارْفُقْ بِہٖ

(صحیح مسلم: 1828)

ترجمہ: ’’اے اللہ میری امت کی ذمہ داری جس کے سپرد ہوئی اور اس نے ان پر مشقت ڈالی تو تو بھی اس پر مشقت ڈال دے اور جس کے ذمہ میری امت کا کوئی معاملہ ہوا اور اس نے ان کے ساتھ نرمی کی تو تو بھی اس سے نرمی فرما۔‘‘