مولانا محمد اکرم اعوان صاحب، مرکزی امیر تنظیم الاخوان پاکستان کا فتویٰ
مولانا محمد اکرم اعوان صاحب، مرکزی امیر تنظیم الاخوان پاکستان کا فتویٰ
شیعوں کو صرف کافر منوانا ہی کافی نہیں کافر تو پہلے سے ہی ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے، بلکہ ضروری یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بتلایا جائے کہ یہ صرف کافر ہی نہیں بلکہ اسلام کے دشمن ہیں۔
کافر تو جاپان والے بھی ہیں، کافر تو چین والے بھی ہیں، کافر تو جنوبی امریکہ والے بھی ہیں، کافر تو یورپ والے بھی ہیں لیکن یہ سب کافر اپنی اپنی عبادت کرتے ہیں، اپنے کفریہ عقائد رکھتے ہیں بعض اسلام سے عناد رکھتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے عقائد اپنے رسم و رواج اور اپنے اس طریقۂ زندگی کو اسلام کا نام نہیں دیتے۔
جبکہ رافضیوں نے عقائد تو کافرانہ رکھے، رسم و رواج تو مشرکانہ رکھے بطریقہ زندگی اسلام کی عین ضد پر وضع کیا، اور پھر اس پر نام اسلام رکھا۔ اپنی عبادات کا نام بھی نماز، وضو، روزہ، زکوٰۃ رکھا اور اسلام کے مقابلے میں ایک نیا اسلام اور اس کی ہر ہر عبادت کے مقابل میں اپنی عبادات وضع کیں اور اس گھناؤنی سازش سے دینِ اسلام کو مسخ کرنے کی وہ کوشش کی جو کوئی اور کافر، ریاست یا مشرک فرقہ نہ کر سکا حتیٰ کہ اسلامی فقہ کے بالمقابل اپنی من گھڑت فقہ تشکیل دی اور اس میں جو بین الاقوامی برائیاں تھیں ان کو دین بنا کر پیش کیا دنیا بھر کی خرافات اکھٹی کیں اور پھر ان خرافات کو ایک اسلامی ریاست میں نافذ کرنے کا نہ صرف مطالبہ کیا بلکہ پوری قوت کے ساتھ ان کے نفاذ کے حق میں جلوس بھی نکالے اور حکومت پر دباؤ بھی ڈالا ۔
ان حالات میں ہمیں مسلمانوں کو بتانا ہو گا کہ یہ سبائی ٹولہ اسلام کا دشمن ہیں۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ ہیں، لوگو! یہ اتنی بڑی سازش ہے اسلام کے خلاف کہ جس نے امام الانبیاءﷺ کے مرتبہ اور تقدس کو پامال کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کو مجروح کیا۔ اور جب یہ دو اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے تو اسلام کیسے رہ سکتا ہے؟ کیونکہ اسلام تو نام ہی ان تعلیمات کا ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھلائیں اور پھر ان متبرک ہستیوں نے ساری دنیا کو بتلائیں۔ تو یہ رافضی صرف کافر نہیں ہیں بلکہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
ان کی کوششیں ساری کی ساری دینِ اسلام کے خلاف ہیں، تو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے میرے پاس ایک تجویز ہے، وہ یہ کہ ہمسایہ ملک(ایران) میں ان بدبختوں کی فقہ نافذ ہے۔ ان کے مذہبی متبرک مقامات بھی وہاں ہی ہیں جن کی زیارت کے لیے ان کو وہاں جانا ہوتا ہے تو ان کی سہولت اور ہماری بھلائی بھی اس میں ہے کہ اس ملک کی حکومت کے ساتھ بات طے کر لیتے ہیں کہ اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو آپ لے لو اور اس ملک میں جو مسلمان ہیں ان کو ان کے بدلے میں ہمارے ملک بھیج دو۔ یہ بدبخت اپنی فقہ کے مزے وہاں لوٹیں اور ہم بھی چین سے دینِ اسلام کا نفاذ کر سکیں۔ اس پر ان بد بختوں کو بھی پس و پیش نہیں کرنا چاہیے۔
اور اگر یہ ان کو قبول نہیں اور مطالبہ بھی یہی رہتا ہے کہ اس ملک پاکستان میں جہاں ہم مسلمان رہتے ہیں جس کی زمین کی قیمت مسلمانوں کے خون کی صورت میں دے کر حاصل کی گئی ہے، ان بدبختوں کی فقہ نافذ کی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے عزائم سوائے فساد کے اور کچھ نہیں، اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ سیاسی ملک میں سوائے انتشار کے اور کچھ نہیں چاہتے۔
مسلمانو! ہوش کرو! بیدار ہو جاؤ! اسلام اور اپنے دشمنوں اور ان کے عزائم سے باخبر رہو اگر تم لوگ سوئے رہے تو یہ لوگ تو شروع سے ہی چاہتے ہیں کہ دینِ اسلام کہیں نافذ نہ ہو، اور اگر آپ کی غفلت سے یہ لوگ کامیاب ہو گئے تو تقدیر بھی آپ لوگوں کو معاف نہیں کرے گی۔
(فتویٰ امام اہلِ سنت: صفحہ، 29)