سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تواضع کی مثالیں ان کو اپنی مدح سرائی و خودپسندی سے سخت نفرت تھی
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی مدح و ثنا کو سخت ناپسند کرتی تھیں اور کسی کو اپنی تعریف نہ کرنے دیتی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی مرض الموت میں تیمارداری کی اجازت طلب کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فوراً بھانپ لیا کہ وہ آئیں گے اور میری مدح کریں گے اس لیے انھیں اجازت نہ دی۔ پھر جب کسی نے ان کی سفارش کی تو انھیں اجازت دے دی، جب ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آ گئے تو ام المومنین کی تعریفیں کرنے لگے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کرب کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں کی یاد سے محو ہو جاؤں۔‘‘
(صحیح بخاری: 4753)
یہاں ایک عجیب نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں سیدہ مریم بنت عمران رحمہ اللہ کی حکایت يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا ۞
(سورۃ مريم آیت 23)
ترجمہ: کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہوجاتی۔
بیان ہوئی ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا۔ یہ مشابہت اچانک پیدا نہیں ہوئی، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رحمہ اللہ کے درمیان بہت بڑی مشابہت ہے۔ مثلاً سیدہ مریم رحمہ اللہ کا لقب صدیقہ ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اپنے قول و فعل اور بزبان رحمن صدیقہ ہیں اور یہاں سے ہمارے لیے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں خواتین کی آزمائش میں مشابہت کیوں ہوئی؟
مریم رحمہ اللہ پر بھی بہتان تراشوں نے الزام لگایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بھی بہتان تراشوں نے الزام لگایا۔ سبحان اللہ! مقدس کرداروں میں کتنے عجائب پنہاں ہیں۔
(حیاۃ ام المومنین عائشۃ لمحمود شلبی: صفحہ 367۔ کچھ لفظی تغیر کے ساتھ)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کس قدر متواضع تھیں اس کا اندازہ اس وصیت سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے مرض الموت میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو کی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: تم مجھے ان کے ساتھ (میرے کمرے میں ) نہ دفنانا بلکہ میری بہنوں (دیگر امہات المومنین) کے ساتھ مجھے بقیع والے عام قبرستان میں دفن کرنا۔ میں نہیں چاہتی کہ (یہاں دفن ہو کر) ہمیشہ میری مدح و ثنا کی جائے۔
(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 7۔ الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 74۔ سیراعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 193)
گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات انتہائی ناپسند تھی کہ ان کے بارے میں کہا جائے گا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدفون ہیں، اس عبارت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نفس کو حقیر ثابت کرتے ہوئے تواضع و انکساری کا اظہار فرمایا۔
(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (فتح الباری: جلد 3 صفحہ 258) پر اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا یہ مفہوم ہے) کہ یہاں دفن ہونے کے سبب میری ثنا بیان ہو گی اور اس وجہ سے اسے میری خوبی اور فضیلت سمجھا جائے گا حالانکہ اس کا احتمال ہے کہ میں فی نفس الامر ایسی نہیں ہوں اور یہ الفاظ سیدہ نے ازراہ تواضع کہے اور اپنے نفس کو حقیر گردانا۔ جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے وہاں ان کے دفن ہونے کی خواہش کے وقت تو یہ کہا تھا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے سوچی ہوئی تھی۔ گویا اس وقت ان کا اجتہاد تبدیل ہو گیا، یا جب انھوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی درخواست کے وقت کیا تھا اور یہ جنگ جمل میں شرکت سے پہلے تھا، لیکن اس جنگ میں شمولیت کے بعد خود ہی وہاں دفن ہونے کی خواہش ختم کر دی۔ اگرچہ جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑنے والے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے بھی کہہ دیا تھا: بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کی بیوی ہے۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی: جلد 1 صفحہ 1244۔ عمدۃ القاری للعینی: جلد 8 صفحہ 228)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مجموعی اوصاف میں سے تواضع ایک گراں قدر اور نمایاں وصف اور ان کی فطری خوبیوں اور خصوصیات میں سے ایک فطری خوبی اور خصوصیت تھی۔ اسی وجہ سے کبھی ان کے دل میں یہ سوچ پیدا نہ ہوئی کہ ان کے بارے میں ہمیشہ پڑھا جانے والا قرآن نازل ہو گا۔ جس میں بہتان تراشوں کے بہتانوں سے ان کی برأت کا اعلان و اظہار ہو گا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ یہ سوچتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب دکھائی دے گا جس سے ان کی برأت ثابت ہو جائے گی۔ اس لیے وہ فرمایا کرتی تھیں:
’’اللہ کی قسم! میں نے کبھی یہ نہ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں وحی نازل کرنے والا ہے جس کی تلاوت کی جائے گی۔ یقیناً میرے دل میں میرا معاملہ اس سے بہت کم اہمیت رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں کلام کرے گا اور اس کی تلاوت کی جائے گی۔ لیکن میں امید کرتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھیں گے اور اس کے ذریعے سے اللہ مجھے بری کر دے گا۔‘‘
(مکمل حدیث آگے آ رہی ہے۔)
امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’آپ ذرا غور کریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قدر تواضع اور اپنے نفس کی حقارت کے اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرف اور تکریم میں انھیں کس قدر رفعت شان عطا کی۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ میرے دل میں میرا معاملہ اس سے کہیں زیادہ حقیر تھا کہ اللہ تعالیٰ بزبانِ وحی میرے معاملے پر کلام کرے گا اور اس کی (تاقیامت) تلاوت کی جائے گی۔ ہاں! میں اس قدر ضرور امید کرتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے میری برأت کر دے گا۔ تو یہ صدیقہ الامہ، ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کے الفاظ ہیں۔ حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ وہ بہتان سے بری ہیں اور مظلوم ہیں، مزید یہ کہ ان پر تہمت لگانے والے جھوٹے اور ظالم ہیں اور ان کی اذیت ان کے ماں باپ سے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پھیل چکی ہے۔ پھر بھی وہ اپنے نفس کو اس قدر حقارت کے ساتھ پیش کر رہی ہیں اور اپنے معاملے کو اس قدر معمولی بنا کر بیان فرما رہی ہیں رضی اللہ عنہا۔‘‘
(جلاء الافہام لابن القیم: صفحہ 239)