Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


اسلام کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ جن داخلی فتنوں اور منافقانہ تحریکوں سے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ان کا سرچشمہ اور ان میں سب سے زیادہ طویل العمر اور سخت جان فتنہ شیعیت کا ہے۔ نیز اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے ساتھ جنگ دوسرے کفار کے ساتھ جنگ سے زیادہ اہم ہے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے دوسرے کافروں سے جنگ سے پہلے مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا، حالانکہ مدینہ کے اطراف کے علاقے کافروں سے بھرے ہوئے تھے۔ شام وغیرہ دوسرے ممالک مسلیمہ کے فتنہ سے زمین کو پاک کرنے کے بعد ہی فتح کیے گئے تھے۔ خوارج کے فتنہ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔ الغرض ان سے جہاد بلاشبہ اہم ترین کام ہے، اس وقت شیعیت کے احیاء اور اس کی دعوت و تبلیغ کا فتنہ دین کے لئے عظیم ترین فتنہ ہے، جس کو وقت کی ایک طاقتور حکومت اپنے پورے وسائل کے ساتھ چلا رہی ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہمارے مدارس میں پڑھنے والے طلبہ اس سے ضروری حد تک واقف اور باخبر ہوں۔ اس کے لئے ہمارے اہلِ مدارس جو تدبیر مناسب سمجھیں اس سے دریغ نہ فرمائیں۔ 

(خمینی اور اثناء عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ: جلد، 3 صفحہ، 28،34)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

شیعہ کا کفر دوسرے کفار سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اس لیے کہ یہ بطورِ تقیہ مسلمانوں میں گھس کر ان کی دنیا و آخرت دونوں برباد کرنے کی کوشش میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہے۔ 

(خمینی اور اثناء عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ: صفحہ، 164)