دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے منہج علمی کے قواعد و ضوابط
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واضح، مدلل علمی منہج کا اتباع کرتی تھیں۔ جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں
اول: کتاب و سنت میں وارد مسائل کی توثیق: اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ جب ان کے سامنے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول آیا کہ ’’میں یہ پسند نہیں کرتا کہ احرام کی حالت میں، میں اس حال میں صبح کروں کہ خوشبو کی لپٹیں مجھ سے پھوٹ رہی ہوں، بلکہ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اپنے جسم پر آک کا دودھ مل لوں۔‘‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے وقت آپﷺ کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں چکر لگایا اور پھر آپﷺ نے صبح احرام کی حالت میں کی۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 270۔ صحیح مسلم: 1992)
تو انھوں نے کہا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اتباع کی زیادہ حق دار ہے۔‘‘
(صحیح ابن خزیمۃ: حدیث نمبر: 2938۔)
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو انھوں نے فرمایا: اے ابو عائشہ! تین میں سے جس نے ایک بات بھی کی اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
1۔ ’’جو شخص یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔‘‘
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹیک چھوڑ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور عرض کیا: اے سیدہ عائشہ! آپ مجھے جلدی میں نہ ڈالیں، کچھ مہلت دیں، کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا:
وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ۞ (سورۃ التكوير آیت 23)
ترجمہ: اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ انہوں نے اس فرشتے کو کھلے ہوئے افق پر دیکھا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰى۞ (سورۃ النجم آیت 13)
ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس(فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس امت میں سے سب سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ جبریل علیہ السلام تھے وہ جس صورت پر تخلیق ہوئے میں نے انھیں اس صورت میں صرف ان اوقات میں دیکھا۔ میں نے انھیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، جب کہ ان کی عظمت تخلیق کی وجہ سے آسمان اور زمین کا درمیان بھر گیا تھا۔‘‘
پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:
لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 103)
ترجمہ: نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے۔ اس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے، اور وہ اتنا ہی باخبر ہے۔
کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحۡيًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ اَوۡ يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَيُوۡحِىَ بِاِذۡنِهٖ مَا يَشَآءُ اِنَّهٗ عَلِىٌّ حَكِيۡمٌ ۞ (سورۃ الشورى آیت 51)
ترجمہ: اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ یقیناً وہ بہت اونچی شان والا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔
2۔’’جو یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ سے کچھ چھپا لیا، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞ (سورۃ المائدة آیت 67)
ترجمہ: اے رسول ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
3۔ اور سیدہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مستقبل کی خبریں دیتے ہیں، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولا، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰه وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ۞ (سورۃ النمل آیت 65)
ترجمہ: کہہ دو کہ: اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔