Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسائل شریعت کے حل کے تین اصول

  علی محمد الصلابی

سوم: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسائل شریعت کے حل کے لیے تین اصولوں کو جمع کر کے ان کا ماحصل مسئلہ کی اساس بناتی تھیں: 

1۔ تمام دلائل نبویہ و قرآنیہ جمع کرتیں۔ 

2۔ مقاصد شریعت کو سمجھتیں۔

3۔ عربی زبان و ادب کا لحاظ کرتیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا احادیث کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ فقہ السنہ اور اجتہاد پر بھی اعتماد کرتی تھیں۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے امی جان! جابر بن عبداللہ (یہ جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابو عبداللہ کنیت ہے۔ انصاری اور بنو خزرج سے جلیل القدر صحابی رسول ہیں۔ ’’عقبہ ثانیہ‘‘ میں شامل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 19 غزوات میں شریک ہوئے۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یاد رکھنے والے تھے۔ 74 ہجری یا اس کے بعد وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 65۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 1 صفحہ 434) رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اگر کسی کو احتلام ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جابر غلط کہتے ہیں ۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِذَا جَاوَزَ الْخَتَّانُ الْخَتَّانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ 

(اسے فسوی نے المعرفۃ و التاریخ: جلد 2 صفحہ 374 میں روایت کیا ہے۔)

ترجمہ: ’’جب ختنہ ختنے میں غائب ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘