سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا فرمان
سیدنا زید بن وہبؒ سے روایت ہے کہ جب نہروان (کے علاقہ) میں خوارج (یعنی خارجیوں) نے خروج کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق (مسلمانوں کا) خون بہایا ہے۔ لوگوں کے مال مویشی کو لوٹا ہے اور یہ تمہارے قریب ترین دشمن ہیں (کیونکہ تمہارے اندر ہی رہتے بستے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے یہ بدترین حرکت کرتے ہیں) اگر تم اپنے باشندوں کی طرف کوچ کرو اور ان کو ویسے ہی چھوڑ دو گے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ لوگ پیچھے سے تم پر نہ آ پڑے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری اُمت میں ایک ایسا گروہ ظاہر ہو گا۔ جس کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی بظاہر کوئی وقعت نہ ہو گی جن کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی وقعت نہ ہو گی، ان کی تلاوت کے سامنے تمہاری تلاوت کی کچھ وقعت نہ ہو گی ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سمجھتے ہوں گے کہ اس پر انہیں ثواب ملے گا۔ حالانکہ وہ ان کے لیے باعثِ عذاب ہو گا، کیونکہ وہ قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے
(علمی و تحقیقی مسائل: جلد، 4 صفحہ، 64)