اختلافی آداب سے واقفیت
علی محمد الصلابیچہارم:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اختلافی آداب سے بھی خوب واقف تھیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی اور آپﷺ ہی ان کے معلم تھے۔ درجِ ذیل واقعہ پر غور کرنے سے درج بالا قاعدے کی دلیل واضح ہو جاتی ہے۔
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ’’میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ان کی مسواک کرنے کی آواز کو بخوبی سن رہے تھے۔‘‘
راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب میں عمرہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں کیا تھا۔ چنانچہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر کہا: اے امی جان! کیا آپ سن رہی ہیں جو ابو عبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے پوچھا:وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا تھا۔ تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن کی مغفرت کرے، مجھے عمر دینے والے کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب میں عمرہ نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا یہ آپﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ سب سن رہے تھے لیکن انھوں نے کچھ نہیں کہا اور خاموش رہے۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1255)