Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلوب تعلیم کی متانت

  علی محمد الصلابی

پنجم: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اسلوب تعلیم خالصتاً علمی متانت سے معمور تھا۔ وہ ہمیشہ ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کیا کرتی تھیں تاکہ اسے سمجھنے اور یاد کرنے میں آسانی رہے اور جو بھی جلدی جلدی گفتگو کرتا آپ رضی اللہ عنہا اسے ٹوکتے ہوئے فرماتیں:

’’بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز تمہاری طرح مسلسل گفتگو نہ کرتے تھے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3568۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2493)

وہ صرف زبانی تعلیم پر اکتفا نہ کرتیں بلکہ اکثر اوقات عملی تعلیم کا سہارا بھی لیتیں۔ جیسے وضو اور غسل کی کیفیت کے بیان اور لوگوں کو دینی معاملات میں تعلیم دینے سے طبعی شرم و حیا ان کے آڑے نہ آتا۔ حتیٰ کہ مردوں کے لیے جو خاص معاملات ہوتے ان کو بھی وہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنے سے نہ ہچکچاتیں۔ اسی وجہ سے روافض ان پر طعن و تشنیع بھی کرتے ہیں جس کا مکمل بیان اور مدلل رد کتاب میں آگے آ رہا ہے۔

تاہم حقیقت یہی ہے کہ یہ چیز ان کے لیے باعث جزا ہے باعث عتاب و ملامت نہیں۔ رضی اللہ عنہا و ارضاھا۔ (آمین)