تیسرا مبحث متعدد علوم میں دسترس کامل
علی محمد الصلابیپہلا نکتہ: علوم عقائد پر دسترس
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ صحیحہ کو کس قدر راسخ کیا اور توحید کی دعوت دی، یہ بات کسی پر مخفی نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان تمام ابواب میں وافر حصہ ملا۔ انھوں نے عقیدہ صحیحہ صاف شفاف منبع سے حاصل کیا، کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریب تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و اعمال جو اندرونِ خانہ آپﷺ سے صادر ہوتے تھے وہی سب سے پہلے سنتی اور دیکھتی تھیں۔
جو مسئلہ بھی سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سمجھ نہ آتا فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کرتیں۔ ان کی ابتدائی پرورش ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی تھی اور اسی وجہ سے جاہلیت کی گمراہیوں اور شرکیہ عقائد و نظریات میں سے کچھ بھی ان پر اثر انداز نہ ہوا۔
آپ ذرا غور کریں کس طرح انھوں نے اللہ عزوجل کے لیے سننے کی صفت کا اثبات کیا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جبکہ ان کا دل نور ایمان سے لبریز تھا:
’’تعریف اس اللہ کی جو تمام آوازوں کو سننے کی وسعت رکھتا ہے۔ خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ ان کی گفتگو مجھ سے مخفی تھی۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِىۡ تُجَادِلُكَ فِىۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ۢ بَصِيۡرٌ ۞ (سورۃ المجادلة آیت 1)
ترجمہ: (اے پیغمبر) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کر رہی ہے، اور اللہ سے فریاد کرتی جاتی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے دیکھنے والا ہے۔
( اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث نمبر: 7386 سے پہلے معلق نقل کیا اور مسند احمد: جلد 6 صفحہ 46۔ سنن نسائی: حدیث نمبر: 3460۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 188۔ ابن عساکر نے اسے معجم الشیوخ: جلد 1 صفحہ 163 میں صحیح کہا اور ابن حجر رحمہ اللہ نے تغلیق التعلیق: جلد 5 صفحہ 339 میں اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن نسائی: حدیث: 3460 میں اور الوادعی نے الصحیح المسند: حدیث نمبر: 1583 میں صحیح کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عقیدے کے مسائل دلائل کے ساتھ ثابت کرتی تھیں۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی نفی کرنا تھا۔ اسی طرح جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر کسی سے علم غیب کی نفی کی تو آیت قرآنی سے ثابت کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے رب کی رسالت کو مکمل طریقے سے پہنچانے کی بات کو انھوں نے فرمان الہٰی سے ثابت کیا۔ وہ فرماتی ہیں:
’’تین میں سے جو ایک بات بھی کہے وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ بولتا ہے۔‘‘
(گزشتہ صفحات میں یہ روایت بالتفصیل گزر چکی ہے۔)
اسی طرح جب آپ رضی اللہ عنہا سے ’’الکوثر‘‘ کے متعلق دریافت کیا گیا، جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:
اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ۞ ( سورۃ الكوثر آیت 1)
ترجمہ: (اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔
تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’یہ ایک دریا ہے جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے۔ اس کے دونوں ساحلوں پر خالی موتی کے خیمے ہیں اور اس کا پانی پینے کے لیے ستاروں کی تعداد میں جام ہیں۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4965)
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے جو فضائل و منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی معترف تھیں اور جب کوئی ان پر دشنام طرازی کرتا، یا ان کی شان میں کمی کرتا، وہ اس کا فوراً رد فرماتیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ناموس کا ہمیشہ دفاع کرتیں۔
جب انھیں یہ اطلاع ملی کہ اہل عراق و مصر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اور اہل شام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہیں اور خوارج دونوں (عثمان و علی رضی اللہ عنہما ) کو گالیاں دیتے ہیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’ان لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کریں لیکن وہ انھیں گالیاں دیتے ہیں۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث: 3022)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجوزہ فضائل و محاسن کی معترف تھیں لیکن ان کی شان میں کبھی غلو نہ کرتیں۔ چنانچہ صحیحین میں حدیث موجود ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی وصیت نہیں کی حالانکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا۔‘‘
ایک روایت میں ہے:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبان منگوایا اور اس وقت آپﷺ کا جسم اطہر ڈھیلا ہو گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری گود میں تھے مجھے احساس تک نہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں، تو پھر کب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وصیت کی۔‘‘
(انحنت: یعنی لٹک گیا۔ ڈھیلا ہو گیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 82)