Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا نکتہ علوم قرآن پر دسترس

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے کی عظیم مفسرۂ قرآن شمار ہوتی ہیں۔ اس عظیم مرتبے تک پہنچنے میں ان کی معاونت بچپن سے قرآن کریم کی سماعت نے کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں:

’’بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں جب قرآن کا نزول ہوتا تھا تو میں اس وقت بہت چھوٹی اور ایک کھیلنے کودنے والی لڑکی تھی۔ اس وقت میں نے یہ آیت سنی تھی: 

بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ ۞ (سورۃ القمر آیت 46)

ترجمہ: یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’سورۃالبقرہ‘‘ اور ’’سورۃ النساء‘‘ نازل ہوئیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ چکی تھی۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی معاشی و سماجی پرورش نے قرآن کریم کے نزول کے دوران بکثرت ان کی موجودگی کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ چنانچہ تقریباً وہ نو سال مہبط وحی کے قریب رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لحاف میں ہوتے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہتی لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی دوسری بیوی کے لحاف میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل نہ ہوتی۔

(اس کی تخریج آگے آ رہی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں متعدد آیات قرآنیہ نازل ہوئی ہیں جیسے کہ واقعۂ افک کے ضمن میں نازل ہونے والی آیات اور تیمم کی وضاحت میں نازل ہونے والی آیت مبارکہ وغیرھا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے وقت اور جبریل علیہ السلام کو آپﷺ تک وحی لاتے ہوئے بکثرت مشاہدہ کیا تھا۔ چنانچہ وحی کے نزول کے دوران میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یوں بیان کرتی ہیں:

’’میں نے سخت سرد دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھی، جب فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوتا (فیفصم عنہ: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی منقطع ہوتی۔ (غریب الحدیث لابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 196۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثر: جلد 3 صفحہ 452) تو آپ کی پیشانی پسینے میں شرابور (لیتفصد عرقا: یعنی بہتا تھا اور پسینہ پھوٹ رہا ہوتا۔ (تہذیب اللغۃ للازہری: جلد 12 صفحہ 104۔ مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 160) ہوتی۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2333۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واقعات نبویہ کے حفظ پر ہی اکتفا نہیں کرتی تھیں بلکہ جونہی کوئی چیز انھیں مشکل یا مبہم دکھائی دیتی تو فوراً بلا جھجک اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کرتیں تاکہ وہ قرآنی آیات کا صحیح مفہوم سمجھ لیں۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پوچھا:

وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 60)

ترجمہ: اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں۔

’’کیا یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو شرابی اور چور ہیں؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے صدیق کی بیٹی! ایسا نہیں۔ بلکہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو روزے رکھتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں اور صدقہ خیرات کرتے ہیں اور وہ اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ ان کی یہ عبادات کہیں رد نہ ہو جائیں۔ انھیں کے بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

اُولٰٓئِكَ يُسَارِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَهُمۡ لَهَا سٰبِقُوۡنَ ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 61)

ترجمہ: وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3157۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 205، حدیث نمبر: 25746۔ مستدرک حاکم: جلد 2 صفحہ 427۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 1 صفحہ 477، حدیث نمبر: 762۔ امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کی اسناد صحیح ہیں اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابن العربی نے اسے عارضۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 258 میں اور البانی نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے۔)

جب وحی کے متعلق انھیں کوئی مشکل پیش آتی اور کوئی چیز ان کی سمجھ میں نہ آتی تو وہ فوراً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتیں تاکہ اس آیت کے متعلق ان کا اشکال ختم ہو جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس خوبی نے انھیں علوم قرآن، اسباب نزول، موضوعات قرآن اور اس کے مقاصد کی معرفت تامہ عطا کی۔

(تفسیر ام المومنین عائشہ لعبد اللہ ابو سعود بدر: صفحہ 113۔ السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 46،48۔ السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء الاسلام لعبد الحمید طہماز: صفحہ 182۔ موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المومنین و حیاتہا و فقہہا لسعید فائز الدخیل: صفحہ 83)

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں :

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں ، اسباب نزول الآیات اور میراث کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فقہ والا یا اگر کسی کی رائے احتجاج کے قابل ہو تو ان سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

(الطبقات الکبری: جلد 1 صفحہ 375۔)

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہر چھوٹی بڑی دینی مشکل میں سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتی تھیں۔ اسی طرح کسی تفسیری مسئلہ کو حل کرنے کے لیے یا اس ضمن میں اس کے متعلق کیے گئے ان سے کسی سوال کے جواب کے لیے قرآن کریم ہی تمام امور میں ان کا پہلا مرجع ہوتا تھا۔ وہ صرف مسائل عقیدہ، فقہ اور احکام شرعیہ میں ہی قرآن کی طرف رجوع نہیں کرتی تھیں بلکہ زندگی کے تمام امور میں ان کا مرجع قرآن کریم ہی ہوتا تھا۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اخلاق اور آپﷺ کے حسن سلوک کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے سائل کے جواب میں بیان فرمایا۔

اسی طرح تاریخی واقعات اور حوادث میں ان کا یہی اسلوب تھا۔ ایک بار کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں ان سے پوچھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن سے ماخوذ و مزین تھا۔‘‘

سائل نے کہا:

آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’کیا تم ’’سورۂ مزمل‘‘ کی تلاوت نہیں کرتے؟‘‘

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 232)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکی اور مدنی سورتوں کے درمیان اساسی فروق اور موضوعات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مکی سورتیں عقائدی اصول کا اہتمام کرتی ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مدنی سورتیں احکام شریعت اور حلت و حرمت کی تفاصیل کو خصوصی طور پر بیان کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’سب سے پہلے قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں انھیں مفصل یعنی مختصر آیات والی سورتیں کہتے ہیں ان میں جنت و دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے۔ پھر جب لوگ اسلام پر پختہ ہو گئے تو حلال و حرام کے متعلق سورتیں نازل ہونا شروع ہوئیں اور اگر ابتداء میں ہی یہ نازل ہوتا کہ تم شراب نہ پیو تو لوگ ضرور کہتے کہ ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور اگر نازل ہوتا تم زنا نہ کرو تو وہ ضرور کہتے: ہم کبھی بھی زنا نہیں چھوڑیں گے اور جب مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا اس وقت میں کھیلنے کودنے والی لڑکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ ۞ (سورۃ القمر آیت 46)

ترجمہ: یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

’’سورۂ بقرہ‘‘ اور ’’سورۂ نساء‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تب نازل ہوئیں جب مجھے آپﷺ کی صحبت میسر آچکی تھی۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)

’’سورہ بقرہ‘‘ اور ’’سورہ نساء‘‘ جن کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’وہ دونوں مدینہ میں نازل ہوئیں۔ ان دونوں سورتوں میں یہود کے ساتھ مناظرے کے اصول بتائے گئے ہیں، کیونکہ وہ مدینہ میں رہتے تھے اور چونکہ مدینہ میں اسلامی دعوت مکمل ہونے والی تھی، اس لیے احکام شریعت کا نزول شروع ہو گیا اور آیات طویل ہوتی گئیں اور ان دونوں سورتوں میں احکام و قوانین کا اسلوب اپنایا گیا ہے۔ ‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’بلاشبہ سورۃ القمر مکہ میں نازل ہوئی اور اس سورت میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ کیونکہ ابتدائے اسلام کی بات ہے اور اس میں مشرکوں کا انکار کیا گیا ہے اور ان کے نظریات کا رد کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہاں اسلام کا رخ صرف مشرکین کی طرف تھا اور اسی بنا پر مکہ میں چھوٹی آیات کا اسلوب اختیار کیا گیا۔ کیونکہ انداز بیان میں اس کی گہری تاثیر ہوتی ہے۔‘‘

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 290)