دوسرا نکتہ علوم قرآن پر دسترس - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا نکتہ علوم قرآن پر دسترس

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اسی طرح تاریخی واقعات اور حوادث میں ان کا یہی اسلوب تھا۔ ایک بار کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں ان سے پوچھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن سے ماخوذ و مزین تھا۔‘‘

سائل نے کہا:

آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’کیا تم ’’سورۂ مزمل‘‘ کی تلاوت نہیں کرتے؟‘‘

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 232)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکی اور مدنی سورتوں کے درمیان اساسی فروق اور موضوعات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مکی سورتیں عقائدی اصول کا اہتمام کرتی ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مدنی سورتیں احکام شریعت اور حلت و حرمت کی تفاصیل کو خصوصی طور پر بیان کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’سب سے پہلے قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں انھیں مفصل یعنی مختصر آیات والی سورتیں کہتے ہیں ان میں جنت و دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے۔ پھر جب لوگ اسلام پر پختہ ہو گئے تو حلال و حرام کے متعلق سورتیں نازل ہونا شروع ہوئیں اور اگر ابتداء میں ہی یہ نازل ہوتا کہ تم شراب نہ پیو تو لوگ ضرور کہتے کہ ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور اگر نازل ہوتا تم زنا نہ کرو تو وہ ضرور کہتے: ہم کبھی بھی زنا نہیں چھوڑیں گے اور جب مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا اس وقت میں کھیلنے کودنے والی لڑکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ ۞ (سورۃ القمر آیت 46)

ترجمہ: یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

’’سورۂ بقرہ‘‘ اور ’’سورۂ نساء‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تب نازل ہوئیں جب مجھے آپﷺ کی صحبت میسر آچکی تھی۔

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے۔)

’’سورہ بقرہ‘‘ اور ’’سورہ نساء‘‘ جن کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’وہ دونوں مدینہ میں نازل ہوئیں۔ ان دونوں سورتوں میں یہود کے ساتھ مناظرے کے اصول بتائے گئے ہیں، کیونکہ وہ مدینہ میں رہتے تھے اور چونکہ مدینہ میں اسلامی دعوت مکمل ہونے والی تھی، اس لیے احکام شریعت کا نزول شروع ہو گیا اور آیات طویل ہوتی گئیں اور ان دونوں سورتوں میں احکام و قوانین کا اسلوب اپنایا گیا ہے۔ ‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’بلاشبہ سورۃ القمر مکہ میں نازل ہوئی اور اس سورت میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ کیونکہ ابتدائے اسلام کی بات ہے اور اس میں مشرکوں کا انکار کیا گیا ہے اور ان کے نظریات کا رد کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہاں اسلام کا رخ صرف مشرکین کی طرف تھا اور اسی بنا پر مکہ میں چھوٹی آیات کا اسلوب اختیار کیا گیا۔ کیونکہ انداز بیان میں اس کی گہری تاثیر ہوتی ہے۔‘‘

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 290)


صفحہ 2 از 2