اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات - ردِ رافضیت |…

اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 3

اسماعیلیوں کے عقائد:

اسماعیلی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام معصوم کا وجود ضرور ہے جو محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہو اور اس امام کی ایسی صفات بیان کرتے ہیں جو اسے الوہیت سے بھی برتر بنا دیتی ہیں اور اس کے پاس علمِ باطن ہوتا ہے اور اپنی کمائی کا پانچواں حصہ اس امام کے نام کرتے ہیں اور تناسخ کے قائل ہیں کہ روح جون بدل کر آتی ہے اور امام انبیاء کا وارث ہوتا ہے اور اس کے پیشترو جتنے ائمہ ہیں ان کا بھی وارث ہے یہ صفاتِ الٰہیہ کے منکر ہیں کیونکہ ان کی نظر عقل سے بھی اوپر مقام پر ہونے لگی ہے اور یہ کہتے ہیں وہ موجود نہیں نہ ہی غیر موجود ہے نہ عالم ہے نہ جاہل ہے نا قادر ہے نہ عاجز ہے یہ مسلمانوں کی مساجد میں نماز نہیں پڑھتے ان کا عقیدہ بظاہر مسلمانوں کے مطابق نظر آتا ہے لیکن باطن میں کچھ اور ہے اور یہ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن یہ نماز معصوم اسماعیلی امام کے لیے ہوتی ہے یہ مکہ حج کے لیے جاتے ہیں جیسا کہ دوسرے مسلمان جاتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ کعبہ معصوم امام کے لیے ایک رمز و اشارہ ہے اسماعیلی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں کو خود پیدا نہیں کیا بلکہ یہ عقلِ کل کے طریقہ سے پیدا ہوا ہے یہ صفات الٰہیہ کا محل ہے اسے پردہ کہتے ہیں اور یہی عقل جب انسان میں اترتی ہے تو اس سے نبی اور امام بن جاتے ہیں اسماعیلی اپنے ائمہ کی حد درجہ تعظیم کرتے ہیں اور مقامِ ربوبیت تک پہنچا دیتے ہیں یہ کہتے ہیں:

ان الآئمۃ بشر کسائر الناس فی الظاھر فھم یاکلون وینامون و یموتون۔

بے شک ائمہ ظاہر میں عام لوگوں کی مانند بشر ہیں کھاتے ہیں سوتے ہیں اور مرتے ہیں۔

آگے باطنی تاویل کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں:

ان الآئمۃ ھم وجہ اللہ و ید اللہ وجنب اللہ و انھم ھم الذین یحسابون الناس یوم القیامہ۔

لیکن حقیقت میں یہ ائمہ ہی اللہ کا چہرہ ہیں اللہ کا ہاتھ ہیں اللہ کا پہلو ہیں یہ ائمہ ہی روز قیامت لوگوں کا حساب لیں گے۔

اور ائمہ ہی صراطِ مستقیم ہیں اور یہی ذکر حکیم ہیں اور یہی قرآنِ کریم ہیں:

أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ‌ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ۝أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآٮِٕنُ رَبِّكَ أَمۡ هُمُ ٱلۡمُصَۣيۡطِرُونَ۝ (سورۃ الطور آیت 36۔37)۔

کیا انہوں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ ان پر دروغے ہیں۔

ان آیات میں ائمہ معصوم مراد ہیں یعنی یہ سارے کام انہوں نے کیے ہیں یہ بھی اسماعیلی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ محمد بن اسماعیل زندہ ہے مرا نہیں وہ بلاد روم میں رہتا ہے یہی قائم مہدی ہے نئی رسالت دے کر دوبارہ اسے بھیجا جائے گا اس کے ذریعے محمدﷺ کی شریعت منسوخ ہو جائے گی اور یہ شیخین سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے اظہار بیزاری کرتے ہیں اور انہیں بہت سی قبیح صفات سے منتصف کرتے ہیں ابلیس ،فرعون، ہامان، طاغوت، اور ہبل وغیرہ ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔

(نعوذ باللہ)۔

اسماعیلیوں کا حج:

اسماعیلی بہرہ فرقہ والے اسے عام مسلمانوں کے برعکس ایک دو دن پہلے حج کر لیتے ہیں جیسا کہ ان کا ایک حاجی خود بیان کرتا ہے کہ ہم نے مناسک حج کیسے ادا کیے اور بتاتا ہے کہ ہمارے ساتھ یمن کے اسماعیلی بھی تھے کہتا ہے:

وقد ادی جمیعنا مر اسم الحج قبل الناس بیومین و حین تجمعنا فی عرفات تحت قیادہ عالم اسماعیلی یمنی احاط بناجمع من اھل السنة وسألونا ماذا نفعل قبل الوفقة فاجبناھم بقراء ادعیة ماثورتہ فانصرفوا ای اھل السنة بعد سماع ھذا الکتاب الساذج۔ (سلک الجوھر)۔

ہم نے لوگوں سے دو دن پہلے ہی مراسم حج ادا کیے جب ہم ایک یمنی اسماعیل عالم کی قیادت میں عرفات میں جمع ہوئے تو اہلِ سنت کی ایک جماعت نے ہمیں گھیر لیا اور پوچھا وقوفِ عرفات سے پہلے ہی تم نے یہ کیا کیا ہے تو ہم نے انہیں معقول دعائیں پڑھ کر سنائی تو وہ یہ سادہ سا جواب سن کر چلے گئے۔

صفحہ 1 از 3