اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات - ردِ رافضیت |…

اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

اس کے بعد ہم مزدلفہ میں آئے وہاں ہم نے طائف جانے والے راستے کے قریب رات گزاری اسی راستے سے طائف والے حج کے لیے آتے ہیں تو یہاں بھی ایک جماعت نے ہم سے سوال کیا ہم تو عرفات جا رہے ہیں اور تم واپس آ چکے ہو یہ کیا ماجرا ہے؟ تو ہم نے کہا ہم طائف سے آرہے ہیں اور ہم جلد ہی مکہ میں آئیں گے پھر ہم عرفات جائیں گے اس طرح ہم نے یہ رات گزاری ہم عرفات کی طرف لوٹے اور ہم حاجیوں کے ساتھ شریک ہو گئے یعنی یہ اسماعیلی ارکانِ حج غلط بیانی کر کے اپنی مرضی سے ایک دو دن پہلے ہی کر لیتے ہیں اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے عوام کے حج میں شریک ہو جاتے ہیں بحری اسماعیلی فاطمیوں کے قبرستان اور مساجد کو اسر نو تعمیر کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ ان کی قبروں اور مسجدوں پر خطیر رقوم صرف کررہے ہیں ان کے کارناموں میں سے سیاہ ترین کارنامہ یہ ہے کہ کربلا نجف اور مقبرہ سیدنا حسینؓ و مقبرہ سیدہ زینبؓ جو کہ قاہرہ میں ہے ان کی اصلاح و درستی پر انہوں نے بہت محنت کی ہے اور قاہرہ میں ان کی خود ساختہ قبرِ سیدنا حسینؓ پر سونے کا قبہ بنایا ہے یہ اسماعیلی بہرہ فرقہ والے یہودیوں کی مانند اس وقت تک اپنے مذہب میں کسی کو شامل نہیں کرتے جب تک وقت وہ ان کے اندر ولادت نہ پائیں بہریوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے ائمہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی نسل سے ہیں اور یہ معصوم عن الخطاء ہیں یہ بہری اسماعیلی ظاہری طور پر قرآنِ پاک کا احترام کرتے ہیں مگر تفسیر اپنے باطنی نظریات اور شیطانی انداز پر ہی کرتے ہیں ان کی نماز کا قبلہ ان کے داعی ظاہرالدین جو ہندوستان کے شہر ممبئی میں مدفون ہیں کی قبر ہے اسے یہ "روضہ طاہرہ" کہتے ہیں یہ روضہ ان کا قبلہ ہے مسلمانوں کا قبلہ نہیں یہ ماہِ محرم کے پہلے دس دن نماز پڑھتے ہیں اور صرف اپنے خاص مقامِ عبادت جسے یہ جامع خانہ کہتے ہیں اسی میں نماز پڑھتے ہیں اور کسی جگہ نہیں پڑھتے اگر ان میں سے ان دس دنوں میں کوئی نماز کے لیے نہیں جاتا تو اسے اس فرقہ سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور اسماعیلی کسی فرقہ میں اس کا داخلہ حرام ہو جاتا ہے اسماعیلی آغا خانی عاشق حسین جو کہ کریم آغا خان کے فیڈرل دینی امور کا سربراہ ہے وہ کہتا ہے یہ دینی امور کی کمیٹی جو کہ آغا خانی جماعت و مذہب پر مشتمل ہے پاکستان کے شہر کراچی میں آغا خانی تعلیمات پھیلانے کے لیے انعقاد پذیر ہوئی ہے یہ اپنی موجودہ امیر سے التماس کرتی ہے کہ ہمارے مولا شاہ کریم حسینی:

ارحمنا فاغفرلنا اعن یا علیؓ المؤمنین الحقیقین۔

ہمارے حال پر رحم کرو ہمیں بخش دو اے حقیقی مومنوں کے وارث ہماری مدد کرو۔

آگے کہتا ہے ہم اسماعیلی آغا خانی دینی معلومات عوام تک پہنچاتے ہیں ہمیں دینی معلومات مکی عالم کی زیرِ نگرانی حاصل ہو رہی ہے اسی وجہ سے تو ہم ان تعلیمات کے مطابق عبادت گزاری کے لیے جماعت خانہ میں جاتے ہیں کسی دوسری جگہ انہیں ادا نہیں کرتے ان کی تعلیمات درج ذیل ہیں کہتا ہے:

تحيتنا يا على مدد هی وجوابنا مولانا علی مدد شهادتنا هی اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول اللهﷺ واشهد أن عليا الله۔

ہمار اسلام یا علی مدد ہے اس کا جواب مولانا علی مدد ہے ہمارا کلمہ اشھد ان لا الہ الا الله واشھد ان محمد رسول اللہ   اور میں گواہی دیتا ہوں علی الله ہے۔

ہمیں وضو کی ضرورت نہیں یہ فقط دل کی طہارت ہے کھانے پینے سے ہمارا روزہ فاسد نہیں ہوتا اور ہمارا روزہ صرف تین گھنٹے کا ہوتا ہے صبح رکھ کر دس بجے افطار کر لیتے ہیں یہ ہمارا نفلی روزہ ہے۔ ہر جمعہ کو ہمارا روزہ ہوتا ہے کیونکہ یہ مہینے کے شروع کا دن ہے اور یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم نے اپنی کمائی میں سے ساڑھے بارہ فیصد زکوٰۃ نکالنا ہے ان کا حج یہ ہے کہ اپنے موجودہ امام کی زیارت کرنا یہ کہتے ہیں مسلمانوں کا قرآن کتاب میں ہے ہمارا قرآن ہمارا امام ہے اور ان کا عقیدہ ہے سارے دن میں جو بھی ہم نے معاصی کا ارتکاب کیا ہے وہ ہمارا عالم مٹا دیتا ہے وہ اس طرح کہ ہمارے اوپر پانی ڈال دیتا ہے تو سب گناہ مٹ جاتے ہیں اور اگر کوئی یہ ہمت کرے جامع خانے میں ہر جمعہ کو جائے اور عالم سے استغفار کا مطالبہ کرے تو اس کے جانے سے ہی گناہ مٹ جاتے ہیں۔ کنیسہ میں عیسائیوں کا بھی یہی نظریہ ہے یہ آغا خانی مزید کہتا ہے ہمارا موجودہ امام ہمیں اسمِ اعظم سکھاتا ہے اس کی قیمت 75 روپے ہے ہم رات کے آخر میں اس کا ورد کرتے ہیں پانچ برس کی عبادت کی معافی کے لیے اور بارہ برس کی عبادت سے دستبردار ہونے کیلیے 1200 روپے اور زندگی بھر کی عبادت معاف کروانے کے لیے 5000 روپے دیتے ہیں اور یہ گناہوں کی معافی کی اجرت ہم جماعت خانہ میں جمع کرواتے ہیں اور اپنے دور حاضر کے امام کے نور سے شرف یاب ہونے کے لیے 7000 روپے اجرت دیتے ہیں اور عذاب آخرت سے نجات کی اجرت 25000 روپے دیتے ہیں علاوہ ازیں عمدہ کھانے اور قیمتی لباس بھی جماعت خانہ کے نام کرتے ہیں جنہیں فروخت کر کے ان کی قیمت جماعت خانہ کی نظر کر دی جاتی ہے یہاں ہم ایک وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں آغا خانی ہمارا مذہب صدیوں پر محیط ہے اسے آج تک کسی نے نامنظور نہیں کیا آج اگر ان مسلمان علماء کو اس کے باطل ہونے کی اطلاع ملی ہے اور انہیں اس کی صداقت پر اعتراض ہے تو یہ ہماری اسی دینی امور کی کمیٹی سے رابطہ کریں اور اس کی وضاحت طلب کریں۔ اگر یہ ایسا نہیں کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے علماء سے مرعوب ہیں اور ہمارے حاضر امام کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتے اور نہ ہی ان میں اتنی جرات ہے کہ یہ ہمارے مذہب کا ابطال کرسکیں ہم ہر حکومت کی مادی اور مالی اعانت کرتے ہیں یہ بھی ہمارے مذہب کے صحیح ہونے کی قطعی دلیل ہے۔

اے ہمارے مومنو! تم اپنے صحیح دین پر ڈٹ جاؤ یہ مسلمان فتن و مصائب کی بھٹی میں ڈالیں تو مت ڈرنا۔ ہم اپنے امام کے دیدار سے بہرہ ور ہو جائیں تو سارے غموں کا یہی مداوا ہے۔

آخر میں ہم کہتے ہیں:

اے شاہ کریم حسینی! آپ ہی ہمارے موجود امام ہیں اللهم لک سجودی و طاعتی۔

اے میرے اللہ یعنی شاہِ کریم حسینی میری اطاعت و سجدہ ریزی فقط تیرے لیے ہے۔  

(از عاشق حسین رئیس دینی امور فیڈرل کمیٹی پاکستان)۔

اسماعیلیوں کی عبادات:

صفحہ 2 از 3