اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات - ردِ رافضیت |…

اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

اسماعیلیوں بہرہ فرقہ جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا ہے کہ یہ صرف اپنے جامع خانہ میں ہی عبادت کرتا ہے اور اپنے اماموں کی تعلیمات اور اپنے داعیوں کی توجیحات پر ہی کاربند رہتے ہیں دیگر مسلمانوں کے ساتھ چلانا گوارہ نہیں کرتے اور جب بھی یہ عبادات اور دینی شعائر پر چلنا چاہتے ہیں تو اس سے پہلے یہ اپنے امام یا داعی سے اس کی اجازت لیتے ہیں بہرہ فرقے والوں کے عبادت کے خاص طریقے اور خاص لباس ہیں جس سے یہ دوسروں سے الگ نظر آتے ہیں اور اوپر ایک سنہری اور زرد رنگ کا ٹیکا سا گلے میں ڈالتے ہیں اور یہ دن میں تین مرتبہ نماز پڑھتے ہیں ان کے امام کی قبر ہی ان کا قبلہ ہوتا ہے۔ اسماعیلی بہروں کی کئی عادات و عبادات ہندؤں سے ملتی جلتی ہیں شادی کے دنوں میں یہ دلہا پر زعفران چھڑکتے ہیں اور دلہا کے استقبال کے وقت بت پرستوں والی رسومات ادا کرتے ہیں چراغ جلاتے ہیں دلہا کے راستے میں اس کے پاؤں کے نیچے نہایت ہی قیمتی قالین بچھاتے ہیں اور جب وہ مرتا ہے تو ولیمہ اس کے بعد کرتے ہیں تیسرے نویں اور چالیسویں دن میں ولیمہ کرتے ہیں اور چالیس دنوں کا سوگ مناتے ہیں ہر قسم کی خوشی منانے سے ان دنوں میں رک جاتے ہیں اور یہ بہری اسماعیلی جب جنازہ ان کے آگے سے گزر جائے تو اسے بدشگونی لیتے ہیں اور نظر بد سے بچاؤ کے لیے تعویز کرواتے ہیں اور ہر کام نجومی اور کاہنوں کے مشورے کے بعد شروع کرتے ہیں اور سفر بھی ان سے پوچھ کر کرتے ہیں طلباء جب امتحان دینے جاتے ہیں تو وہ بھی اپنے داعی سے شیطانی وظائف سیکھ کر جاتے ہیں جبکہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے:

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّؕ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۝(سورۃ الرعد آیت 14)

اسی کے لیے دعوت حق ہے اور جو لوگ اس کے علاؤہ کسی کو پکارتے ہیں یہ ان کی بات کا جواب نہیں دیتے ان کی مثال ہاتھ پھیلانے والوں کی سی ہے کہ جو پانی کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے مگر وہ اس کے منہ تک نہ پہنچے گا جب تک یہ ہاتھ نہ ڈالے گا کافروں کی پکار گمراہی میں گم ہو جاتی ہے۔

اسماعیلی شیعوں کے مزارات اور عیدیں:

لغو کرنا تو آغا خانیوں کے اسلاف کی اصل فکر ہے اس پر تاریخ گواہ ہے انہوں نے اپنے ائمہ کی قبروں اور اپنے داعیوں کے مزاروں کو سجدہ گاہ بنا رکھا ہے اور الله کو چھوڑ کر ان کی سفارش کا وطیرہ بنا رکھا ہے الله کا فرمان ہے:

قُلۡ أَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ۬ فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ‌ۖ ٱئۡتُونِى بِكِتَـٰبٍ۬ مِّن قَبۡلِ هَـٰذَآ أَوۡ أَثَـٰرَةٍ۬ مِّنۡ عِلۡمٍ إِن ڪُنتُمۡ صَـٰدِقِينَ ۝(سورۃ الاحقاف آیت 4)۔

کہہ دو بتاؤ جنہیں تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ دکھائیں انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے کوئی اس سے پہلے والی کتاب لاؤ یا علمی دستاویز لاؤ اگر تم سچے ہو۔

وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُ ۥۤ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآٮِٕهِمۡ غَـٰفِلُونَ۝۔ وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُواْ لَهُمۡ أَعۡدَآءً۬ وَكَانُواْ بِعِبَادَتِہِمۡ كَـٰفِرِينَ۝ (سورۃ الاحقاف ایت 6۔5)۔

اس سے بڑا کون گمراہ ہے جو اللّه کے سوا اس کو پکارتا ہے جو اس کی پکار کا قیامت تک جواب نہ دے سکے گا وہ اور ان کی دعا سے بے خبر ہے۔

عراق کے علاقے میں آغا خانیوں کے حسینی مراکز موجود ہیں جن میں عبادت کرتے ہیں 1890ء میں بغداد کے محلہ "باب السیفی" میں ان کے حسینی مرکز کی بنیاد رکھی گئی اس طرح بصرہ میں 1894ء میں کربلا میں 1895 میں اور نجف میں 1896ء میں حسینی مراکز کی بنیاد رکھی گئی ایک جماعت فیضی حسینی نے یہ مراکز قائم کیے مغربی ہندوستان میں احمد آباد میں ان کے مزار ہیں ان کے بہت بڑے داعی داؤد بن عجب شاہ اور داؤد بن قطب شاہ کی قبریں بھی یہی ہیں آغا خانیوں کی ایک جماعت کا نام ہونزا ہے یہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ہے ان کی تعداد وہاں تیسں ملین ہے یہاں یہ آغا خانی محفلیں برپا کرتے ہیں، ان کے ہاں آٹھ عید میں منائی جاتی ہیں:

  1. عید الفطر 
  2. عید بقر

ان دو عیدوں کا اتنا زیادہ اہتمام نہیں کرتے بلکہ خود ساختہ عیدوں کو زیادہ مقدس تصور کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: 

  1. ( عید معظمه۔ 
  2. عید الغدیر۔
  3. عید نیروز۔ 
  4. عید یوم الامام یہ سیدنا علیؓ کے تخت خلافت پر براجمان ہونے کی خوشی میں مناتے ہیں۔
  5.  عید آغا خان۔ 
  6. امام آغا خان کی پہلی زیارت کی خوشی میں۔ 
  7. عید ہونزا۔
  8. عید بلقیت یہ ماہ اکتوبر 1960ء میں ایجاد ہوئی۔

صفحہ 3 از 3