ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا منہج تفسیر
علی محمد الصلابی1۔ قرآن کریم کے ساتھ قرآن کریم کی تفسیر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے قرآن کی تفسیر قرآن سے کرنے کو ترجیح دیتی تھیں اور تفسیر کا یہ طریقہ سب سے زیادہ صحیح ہے، چنانچہ سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تفسیر قرآن سے کی اور یہ حقیقت بلاشک و شبہ واضح ہے کہ قرآن میں ایک بات ایک مقام پر اگر مجمل ہے تو وہی بات دوسرے مقام پر مفصل ہوتی ہے۔ عروہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مفہوم پوچھا:
وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۞ (سورة النساء آیت 3)
ترجمہ: اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’اے میرے بھانجے! یہ اس یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے سر پرست کے پاس پرورش پا رہی ہو، وہ لڑکی اپنے سرپرست کے مال میں اس کی شریک ہوتی ہے چنانچہ اگر سرپرست اس یتیم لڑکی کے مال پر ریجھ جائے اور اس کی خوبصورتی اس کا دل موہ لے اور اس کا سرپرست چاہے کہ وہ اس یتیم لڑکی کو مہر دئیے بغیر اس سے شادی کر لے اور اسے صرف اتنا نان و نفقہ دے جتنا نان و نفقہ دوسرا مرد اسے دینا چاہے تو اس آیت میں ایسے سرپرست کو اس کی زیر تربیت یتیم لڑکی سے بغیر انصاف کے شادی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ بلکہ اگر وہ اس سے شادی کرنا چاہے تو اعلیٰ مہر اسے عطا کرے اور اس کے ساتھ شادی کرے، نیز سرپرستوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کی زیر کفالت یتیم لڑکیوں کے علاوہ اگر وہ کسی سے شادی کرنا چاہیں تو جو ان کے دل کو اچھی لگیں وہ ان سے شادی کر لیں۔‘‘
بقول عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا:
’’پھر لوگوں نے درج بالا آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کے متعلق پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ فرمان نازل کیا:
وَيَسۡتَفۡتُوۡنَكَ فِى النِّسَآءِ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِيۡهِنَّ وَمَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فِى الۡكِتٰبِ فِىۡ يَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِىۡ لَا تُؤۡتُوۡنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡهُنَّ ۞ ( سورۃ النساء آیت 127)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے، اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے، اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ علیہ عنہٹفرماتی ہیں:
’’جس حکم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کتاب میں تمہارے اوپر اس کی تلاوت کی جاتی ہے اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ۞ (سورة النساء آیت 3)
ترجمہ: اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا:
وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡهُنَّ ۞ ( سورۃ النساء آیت 127)
ترجمہ: ’’اور تم رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری پرورش میں ہو، اس کے پاس مال تھوڑا ہے اور حسن و جمال بھی نہیں رکھتی اس سے تو تم نفرت رکھتے ہو، اس لیے کہ جس یتیم لڑکی کے مال و جمال کی وجہ سے تمہیں رغبت ہو، اس سے بھی نکاح نہ کرو مگر اس صورت میں جب انصاف کے ساتھ ان کا پورا پورا مہر دینے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2494۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 3018)