Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کا فرمان


پہلی مثال: آپ کو معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے۔ شراب کا پینا، اس کا بنانا، اور اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں، اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے، اس کا گوشت فروخت کرنے والا لینا دینا اور کھانا قطعی حرام ہے۔ یہ مسئلہ آپ سب کو معلوم ہے۔

اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے، یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب فروخت کرتا ہے اور مزید ظلم یہ کرتا ہے کہ شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل چسپاں کرتا ہے۔ اب مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں مجرموں میں کیا فرق ہیں؟ وہ آپ حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں۔

اسی طرح ایک آدمی خنزیر کا گوشت فروخت کرتا ہے مگر اس کو خنزیر کا گوشت کہہ کر فروخت کرتا ہے یہ شخص بھی مجرم ہے۔

 لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کا گوشت فروخت کرتا ہے لیکن اس کو بکری کا گوشت کہہ کر فروخت کرتا ہے۔ اب دونوں مجرم ہیں لیکن ان دونوں کے جرم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

ایک مجرم حرام کو بیچتا ہے اس حرام کے نام سے جس کے نام سے بھی مسلمان کو نفرت آتی ہے۔ اور دوسرا مجرم، اسی حرام چیز کو بیچتا ہے حلال کے نام سے جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہو سکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر اور کتے کا گوشت خرید کر اور اسے حلال اور پاک سمجھ کر کھا سکتا ہے۔

پس جو فرق خنزیر کا خنزیر کہہ کر بیچنے والے کے درمیان اور خنزیر کو بکری یا دنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے۔ ٹھیک وہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں کے درمیان اور شیعوں کے درمیان ہے۔

کفر ہر حال میں کفر ہے، اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کفار اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر شیعہ اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔ اس لیے دوسرے کفار کی بنسبت شیعہ اسلام کے بڑے دشمن ہے، اور دوسرے کفار کی بنسبت شیعیت کی روک تھام زیادہ ضروری ہے۔

دوسری مثال: دو آدمی ہیں۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ایک پڑھا رہا، کافر نے نماز نہیں پڑھی۔ دوسرے نے دو رکعت کے بجائے پانچ رکعت فرض ادا کر دیئے۔ ایک نے نہیں پڑھی۔ ایک نے بگاڑ دی۔ لہٰذا دونوں برے ہوئے۔ اب آپ بتائیں زیادہ برا کون ہوا؟ نہ پڑھنے والا یا بگاڑنے والا؟ بگاڑ نے والا۔

یہی تو سپاہ صحابہؓ والے کہتے ہیں کہ کلمہ نہ پڑھنے والا بھی بے ایمان ہے اور بگاڑنے والا اس سے بدترین ہے۔ نماز نہ پڑھنے والا برا ہے اور نماز بگاڑنے والا اس سے بھی برا ہے۔ اسی طرح کلمہ نہ پڑھنے والا برا ہے اور کلمہ نہ پڑھنے والا کافر اور لعنتی ہے، لیکن جس نے کلمہ کو بدل ڈالا محمد عربیﷺ کے کلمہ کے مقابلہ میں اپنا کلمہ بنایا شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں اپنی شریعت بنائی، اسلامی اصول کے مقابلہ میں اپنے اصول رکھے۔ ہم کہتے ہیں کہ جس نے کلمہ رسول اللہﷺ کا نہ پڑھا وہ بے ایمان ہے۔ اور جس نے بگاڑ دیا یہ اس سے بڑا بے ایمان ہے۔ جس نے نہ پڑھا وہ جہنمی ہے اور جس نے بگاڑ دیا ہے یہ اس سے بڑا جہنمی ہے۔ جس نے نہ پڑھا وہ کافر ہے اور جس نے بگاڑ دیا وہ بد ترین کافر ہے۔ اور شیعوں نے اسلام کے ساتھ یہ دشمنی کی ہے کہ اپنا نیا کلمہ بنا کر نیا اسلام بنا کر اپنی اذان بنا کر اپنی نماز بنا کر سارا دین اپنا بنا کر حضور اکرمﷺ کے مقابلے میں اپنا دین رکھ دیا ہے۔ اس لیے یہ سب سے بڑے کافر بن گئے۔(پیغامِ قرآن: جلد، 3 صفحہ، 316)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن کو بڑا کافر کہا ہے:

سورت الحج اور اس کے پانچویں رکوع کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا‌ (سورۃ الحج: آیت نمبر، 38)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ دفاع کرتا ہے اہل ایمان کا۔

جب قرآن کریم نازل ہوا اُس وقت جن کا اللہ تعالیٰ نے دفاع کیا، اس وقت وہ ایمان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی تھے۔ آگے فرمایا:

 اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوۡرٍ ۞ (سورۃ الحج: آیت نمبر، 38)

 ترجمہ: اللہ تعالیٰ بڑے خائن کو خیانت کرنے والے کو بڑے کافر کو پسند نہیں کرتا۔

 اب سوال یہ ہے کہ آیت کے پہلے حصہ کا اس دوسرے حصے سے کیا جوڑ ہے؟ پہلا حصہ اللہ تعالیٰ دفاع کرتا ہے اہلِ ایمان کا دوسرا حصہ اللہ تعالیٰ خوان اور کفور کو بڑے خائن کو کافر کو پسند نہیں کرتا، کیا جوڑ ہے دونوں حصوں میں؟ 

بتلا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا دفاع کرتا ہے اور خوان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حملہ کرتا ہے وہ حملہ آور خوان ہوتا ہے یا کفور ہوتا ہے۔

خوان بڑا خائن کفور بڑا کافر ویسے تو لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ الله تعالیٰ کو خائن بھی پسند نہیں لیکن اس دشمن کو خائن کہا ہے۔ ویسے تو ان اللہ لا يحب الكفرین الله تعالیٰ کو کفر بھی پسند نہیں،لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن کو کافر نہیں بلکہ کفور کہا ہے۔ یہ شیعہ صرف خائن نہیں بلکہ بڑا خائن ہے۔ صرف کفور نہیں بلکہ بڑا کافر ہے۔

شیعہ کائنات کا بدترین اور غلیظ ترین کافر ہے، یہ صرف حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی آواز نہیں بلکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلی آ رہی ہے۔

یا اللہ کیا شیعہ اتنا بڑا خائن ہے؟ فرمایا دیکھتے جاؤ تمہیں ہر جگہ ان کی خیانت نظر آئے گی یہ یہاں تک رک نہیں گیا بلکہ ان کی خیانت ان کی دشمنی روز بروز بڑھتی جائے گی۔ یہ ایمان کا دعویٰ کرے تو خیانت، محبت کا دعویٰ کرے تو خیانت، وفا کا دعویٰ کرتے تو خیانت اس وقت سے اللہ تعالیٰ نے اسے خوان کہہ دیا تھا اور خیانت اس کی کھلتی کھلتی آج تک کھلتی ہی جا رہی ہے۔ اس نے کہا تھا میں مؤمن ہوں قرآن نے کہا تھا:

 وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ‏ (سورۃ البقرة: آیت نمبر، 8)

 ترجمہ: یہ مؤمن نہیں ہے۔ اس نے کہا تھا میں محبت ہوں، قرآن نے کیا تھا: هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌ (سورۃ المؤمنون: آیت نمبر، 7)یہ دشمن ہے۔ اس نے کہا تھا میں تابعدار ہوں، عملاً ثابت ہوا کہ یہ مخالف ہے۔ اس نے کہا تھا میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کا غلام ہوں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو میرا غلام ہے تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمان غنیؓ میرے امام ہیں تو بھی ان کو مان لے تو کہنے لگے مولا! ہم ان کو نہیں مانتے سیدنا حسنؓ نے اعلان کیا کہ دیکھیں حضرت علیؓ کا وفادار حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حُب دار، بھلا سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے بڑا کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔

فرمایا! تم نے میری اس بات پر بیعت کی ہے کہ تم مجھے اپنا امام مانتے ہو۔ سیدنا حسنؓ کہتے ہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے، وعدہ کیا ہے کہ جس کے ساتھ میں صلح کروں گا ان کے ساتھ تمہاری صلح ہو گی جس کے ساتھ میں جنگ کروں گا اس کے ساتھ تمہاری جنگ ہوں گی۔

سنو! پھر میں نے اُمتِ مسلمہ کے حق میں بہتر سمجھتے ہوئے ، دین اور اسلام کا فائدہ سمجھتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کو امیر المؤمنین تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے تم بھی بیعت کر لو۔ مگر وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے لڑ پڑے کیونکہ خوّان تھے۔

(امام اہلِ سنت کا پیغام سنی قوم کے نام: صفحہ، 10)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

ہمارا تو پیغام یہ ہے پروگرام یہ ہے کہ اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ہر کفر کے ساتھ ٹکر لینا اب علماء حق کا کام ہے اور ان کے ساتھ دینا تمام مسلمانوں کا کام ہے۔ اور ایک کفر کی فکر میں دو کفر جو بنیادی کفر ہیں، جو اسلام کی جڑ کو ہی اتار پھینکنا چاہتے ہیں 

کوئی نماز کا منکر ہو گا، کوئی روزے کا منکر ہو گا کوئی کسی دوسرے مسئلے کا منکر ہو گا وہ بے ایمان ہے، لیکن جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا انکار کرے گا، وہ سب سے بڑا بے ایمان ہے۔ کیونکہ تمام مسائل بتانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، حضور اکرمﷺ سے کلمہ لے کر اُمت کو دینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز، روزہ، قرآن، حج، زکوٰۃ لے کر اُمت کو دینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سارا دین سیکھ کر اُمت کو سکھانے والے اور اُمت کو پہنچانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے تو سارا دین سچا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اگر معاذاللہ کچے سارا دین کچا۔ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرتا ہے، جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا منکر ہے، وہ سارے دین کا منکر ہے، کیونکہ سارا دین تو ان ہی کے ذریعے سے آیا ہے۔

(خطبات حیدری: جلد، 2 صفحہ، 354) 

سوال: دیگر کھلے اور ظاہری کفار اور اسلام دشمن طاقتوں کی موجودگی کے باوجود ان اندرونی چھپے ہوئے خطرناک دشمنوں اور بدترین کافر شیعہ کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان کا راستہ روکنے میں پہل کرنا کیوں زیادہ ضروری ہے؟ 

جواب: دیگر کفار کے مقابلہ میں شیعوں کا راستہ روکنے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے میں پہل کرنے کی وجہ یہ ارشاد خداوندی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً‌  (سورۃ التوبة: آیت نمبر، 123)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق سب سے پہلے نزدیک والے کافر سے قتال کرنا دیگر کفار کے مقابلے میں یعنی دور رہنے والے کفار سے جنگ کرنے کی بنسبت زیادہ اہم اور ضروری ہے۔

اب ہم اپنے علاقے کے حساب سے دیکھیں تو اس وقت ہمارا سب سے قریبی اور نزدیک کافر اور دین کا سب سے بڑا دشمن شیعہ ہے۔ جو ہمارے قریب بلکہ ہمارے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور ہے اور وہ بھی اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر اور مؤمن کہلوا کر۔ خاص طور پر 1979 عیسوی کو ایران میں خمینی کے شیعہ خونی انقلاب کے بعد سے شیعہ نے جس طرح کھل کر اپنے کفریہ عقائد و نظریات کو اسلام کا نام دے کر ہمارے ملک میں نافذ کرنے اور پھیلانے کی سر توڑ کوششیں شروع کر رکھی ہے۔ اور ہمارے ملک کے جید جید علماء کرام چن چن کر شہید کر دیئے ہیں اور اب تک کئی ہزار سنی علماء، طلباء، وکلاء، تاجر اور جوانوں کو شہید کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق دیگر کفار کی موجودگی کے باوجود سب سے پہلے شیعہ کا راستہ روکنا اور ان کے خلاف آواز حق بلند کرنا زیادہ مناسب اور ضروری ہے۔

حقیقت میں ہمیں ہر باطل قوت کو اپنا حریف خیال کرنا ہو گا، یہ بات مدنظر رہے کہ کھلے کافروں سے مقابلہ بہت آسان ہے لیکن وہ کافر جس کا دعویٰ اسلام کا ہو، اور وہ اسلام ہی کے نام پر کفر کا مرتکب ہو، اسلام ہی کے نام پر خلفاء راشدینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر و مرتد قرار دے رہا ہو، اس کی حیثیت متعین کر دی جائے تاکہ کفر اور اسلام کے مابین امتیاز پیدا ہو اور غلبہِ اسلام و تحفظ شریعت کے ابلاغ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ عیسائیوں، یہودیوں، ہندؤوں، سکھوں اور کیمونسٹیوں سے اُمتِ مسلمہ کا اختلاف واضح ہے، ان کفار نے کبھی اسلام کا دعویٰ نہیں کیا، اس لیے ان کی سرگرمیوں سے اُمتِ مسلمہ کو ہوشیار کرنا بہت آسان ہے، لیکن جو اسلام کے نام پر اسلام کی بنیادوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، غیر اسلامی نظریات کو اسلام کے نام پر فروغ دے رہے ہیں ۔ اسلامی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، تقیہ اور جھوٹ کے پردے میں سادہ لوح عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، ان کے مقابلے کے لیے ہماری ذمہ داری بھی دو چند ہو جاتی ہے۔ شیعیت کا فتنہ، کفر و ارتداد سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کافر یا مرتد کی صحبت کا اثر مسلمان کے دل پر نہیں پڑتا، کیونکہ وہ ایک کھلا ہوا دشمنِ اسلام ہے، اور وہ جو کچھ بکتا اور بکواس کرتا ہے، مسلمان اس کو کافر و مرتد اسلام سے عداوت و عناد پر ہی محمول کرے گا۔

لیکن شیعہ اسلام کا دعویدار ہو کر جو بات بھی کہے گا، سادہ لوح اور بھولے بھالے مسلمان کا دل اس سے ضرور متاثر ہو گا۔ جو کسی بھی وقت اس کی گمراہی کا باعث بن سکتا ہے، اور یہ مسلمان گمراہ ہو کر زندیقیت کے گھڑے میں گر سکتا ہے۔